خانقاہ حیدریہ کی سجادگی اور جانشینی کے استحقاق سے متعلق نزاع کا شرعی حکم
(1) احمد ایک عالم باعمل اور صاحب کرامت بزرگ تھے ، وصال کے قبل اپنے تینوں لڑکوں کو بیعت سے نوازا، دولڑ کے راشد اور امجد کو خلافت دی اور بڑے لڑکے حامد کو جو عالم با عمل طریقہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پابند ہیں، اپنا جانشین اور خانقاہ کا سجادہ نشن بنادیا۔ احمد کا وصال ۱۹۲۹ء میں ہو گیا۔ حامد خانقاہ کی تمام ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دیتا رہا۔ احمد کا عرس حامد ہر سال کراتا رہا۔ حامد مختلف امراض کے شکار ہوئے تو ڈاکٹر نے سفر کرنے سے روک دیا۔ حامد مستقل خانقاہ میں مقیم ہو گئے اور وصال کے چند سال قبل اپنے دونون لڑکے اسعد اور محمود کو بیعت کیا۔ چھوٹے لڑکے محمود کو جو ایک عالم باعمل اور پابند شرع ہیں ، وصال کے تین سال قبل خانقاہ کی تمام ذمہ داری سونپ دی اور اپنے حلقہ مریدین میں اس بات کی اطلاع کر دی کہ میں نے محمود کو اپنا جانشین اور خانقاہ کا سجادہ نشین بنادیا۔ حامد کے ہندوستان و بیرون ہند ، ہزاروں مریدین ہیں۔ محمود خانقاہ کی تمام ذمہ داری اپنے والد اور شیخ کی زندگی ہی سے انجام دیتا رہا اور حامد کی زندگی میں محمود کے ہزاروں مریدین ہو گئے۔ محمود کی کارگزاری سے جملہ مریدین و متوسلین اور اطراف و جوانب کے مسلمان آج بھی ہر طرح مطمئن ہیں۔ محمود پابند شرع ہے۔ ہر اُن امور سے نفرت کرتا ہے جس کی اجازت شریعت نے نہیں دی ہے۔ حامد کا وصال ۱۹۷۲ء میں ہو گیا۔ فاتحہ چہلم کے موقع پر خاندانی اور خانقاہی رواج کے مطابق علماء ،صوفیا، دو ہزار مریدین اہلِ خاندان اور اطراف و جوانب کے مسلمان کی موجودگی میں صحن مزار میں دستار سجادگی بھی باندھی گئی ۔ آج بھی تمام افراد محمود کی کارگزاریوں کے مداح ہیں اور عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ چند ماہ سے محمود کے سوتیلے چچا امجد کے لڑکے حامد نے اپنے نام کے ساتھ ولی عہد خانقاہ حیدریہ لکھوانا شروع کیا اور اپنے والد امجد کے نام کے ساتھ امجد سجادہ نشین خانقاہ حیدریہ لکھوانا شروع کیا اور بعض لوگوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ حامد کے سوتیلے بھائی امجد ہیں لہذاوہ حامد کے وصال کے بعد ان کو سجادہ نشین ہونا چاہئے ، یہ میرے والد امجد کا حق ہے لہذا محمود کو سجادہ نشین نہیں ہونا چاہئے۔ حامد کے اس فعل سے اطراف کا ہر ذی شعور انسان نا خوش ہے اور اس سے وابستگان خانقاہ کو سخت تکلیف ہو رہی ہے۔ آج حامد نے یہ وبا پیدا کر کے دوسرے لوگوں کو خانقاہ کا مذاق اڑانے کا موقع فراہم کیا ہے جس سے ایسی نزاع پیدا ہو گئی ہے کہ خانقاہ کی ترقی میں بھی رکاوٹ پیدا ہورہی ہے اور مسلمانوں میں بھی نفاق پیدا ہونے کا اندیشہ لاحق ہو گیا ہے۔ تحریر طلب یہ ہے کہ جبکہ حامد
نے اپنی سجاد گی میں خانقاہ کا تمام کام محمود کے ذمہ کر دیا محمود کی سجادگی کا اعلان حلقہ مریدین میں کر دیا، محمود عملی طور پر خانقاہ کا تمام کام آج تک انجام دے رہا ہے، تعمیر مزار شریف محمود نے کرائی ، خانقاہ کا تمام کام محمود انجام دے رہا ہے، سال میں دو عرس محمود کر رہا ہے، امجد اور خالد نے کبھی خانقاہ کا کوئی کام انجام نہیں دیا اور نہ کوئی سروکار رکھا بلکہ جہاں دستار سجادگی باندھی گئی، خالد بھی اس کے پیچھے موجود تھا۔ تقریباً اٹھارہ سال سے محمود خانقاہ کی تمام ذمہ داریوں کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے دائرہ شریعت میں ہر کام کو انجام دیتا ہے۔ خالد اور امجد نے خانقاہ کا کوئی کام انجام نہیں دیا۔ خالد کا یہ کہنا کہ میرے والد امجد حامد کے سوتیلے بھائی ہیں، ان کو سجادہ نشین ہونا چاہئے یا خود ( حامد کو ) سجادہ نشین ہونا چاہئے ؟ کیا یہ میچ ہے؟ جبکہ خالد خانقاہ حیدریہ کے کسی بزرگ سے بیعت نہیں ، وہ دوسری خانقاہ کے بزرگ سے بیعت ہے ، مزار شریف کے اندرونی محافظت کے لئے مزار میں تالا لگا دیا جاتا ہے ،ضرورت کے وقت ہر شخص کو اجازت ہے کہ جب چاہے مزار شریف کو کھلوا کر اپنی ضرورت کی تکمیل کرے۔ لہذا خالد یہ بھی کہہ رہا ہے کہ مزار کی ایک کنجی مجھے دی جائے اور احمد کا جو عرس جو اٹھارہ سال کے حامد اور حامد کے لڑکے محمود ( موجودہ سجادہ نشین ) کراتے آ رہے ہیں ، ایک سال محمود کرے اور ایک سال خالد کرائے محمود کا کہنا ہے کہ ۵۸ رسال سے خانقاہ کا کوئی تعاون نہیں کیا، آج اپنے نام کے ساتھ ولی عہد اور اپنے والد امجد کے نام کے ساتھ سجادہ نشین غلط طور پر لکھنا شروع کیا، وہ کنجی لے کر اور عرس کرانے کا مطالبہ کر کے مزار کو اپنے قبضہ میں کرنا چاہتا ہے، جبکہ کسی فرد کو فاتحہ خوانی، چادر پوشی پر پابندی نہیں ، جو چاہے سجادہ نشین سے کنجی حاصل کر کے اپنا کام کرے، اس کے باوجود کنجی کا مطالبہ یا عرس کرانے کا مطالبہ خالد کا صحیح ہے؟ ۵۸ سال تک اس خواہش کا اظہار کیا نہیں گیا۔ لہذا مندرجہ بالا عبارتوں پر غور کر کے از روئے شرع حکم صادر فرمایا جائے کہ خالد کے اس فعل سے جومحمود (سجادہ نشین) کو تکلیف پہنچ رہی ہے، از روے شرع خالد پر کون سی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ امجد حامد کا تو سوتیلا بھائی ہے اور محمود حامد کا لڑکا اور مرید ہے نیز حامد کو ان کے والد مرشد احمد نے سجادہ نشین بنایا اور محمود کو ان کے والد حامد نے اپنا جانشین اور خانقاہ کا سجادہ نشین بنایا۔ لہذا اس صورت میں سجادگی کا مستحق محمود ہوگا یا امجد ہو گا ؟ اور امجد کے لڑکےخالد جو غلط طور پر ولی عہد خانقاہ حیدریہ اپنے نام کے ساتھ لکھ رہے ہیں، کیا ان کا ولی عہد لکھنا صحیح ہے؟ جبکہ ان کے والد امجد خانقاہ کے سجادہ نشین