سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ مبارک نہ ہونے سے متعلق ایک تحقیقی تحریر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر کا سایہ نہیں تھا اور بکر اس کے خلاف کہتا ہے کہ سایہ تھا لہذا کس کی بات درست ہے؟ جواب حدیث پاک کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ تحریر فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔ مسائل: احقر محمد اکبر علی رضوی، بلاری ضلع مراد آباد، (یوپی)
سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ تھا یا نہیں؟ ایک تحقیقی تحریرا کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر کا سایہ نہیں تھا اور بکر اس کے خلاف کہتا ہے کہ سایہ تھا لہذا کس کی بات درست ہے؟ جواب حدیث پاک کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ تحریر فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔ مسائل: احقر محمد اکبر علی رضوی، بلاری ضلع مراد آباد، (یوپی) الجواب: زید کا قول صحیح ہے۔ بے شک اس مہر سپہر اصطفاماہ منیر اجتبا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھا اور یہ امر احادیث و اقوال علمائے کرام سے ثابت اور اکا بر ائمہ وفضلا مثل حافظ زرین محدث و علامہ ابن سبع صاحب شفاء الصدور و امام علامہ قاضی عیاض صاحب کتاب الشفا و امام عارف باللہ سیدی جلال الملۃ والدین محمد بلخی رومی و علامہ حسین بن محمد دیاء بکری و اصحاب سیرت شامی و حلبی و امام علامہ جلال الملتہ والدین سیوطی و امام شمس الدین ابوالفرج ابن جوزی محدث صاحب کتاب الوفاء وعلامہ شہاب الحق والدین خفاجی صاحب نسیم الریاض و امام احمد بن محمد خطیب قسطلانی صاحب مواہب لدنیہ و فاضل اجل محمد زرقانی شارح مواہب و شیخ محقق مولا نا عبد الحق محدث دہلوی و جناب شیخ مجدد الف ثانی فاروقی سرہندی و بحر العلوم مولانا عبد العلی لکھنوی و شیخ الحدیث مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی وغیر ہم اجله فاضلین و مقتدا یان کاملین اپنی تصانیف میں اس کی تصریح کرتے آئے اور مفتی عقل و قاضی نقل نے باہم اتفاق کر کے اس کی تاسیس و تشبید کی۔ فقد اخرج الحاكم الترمذي عن ذكوان ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يرى له ظل في شمس ولا قمر یعنی سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نظر نہ آتا تھا، نہ دھوپ میں ، نہ چاندنی میں ۔ سید نا عبد اللہ بن مبارک اور حافظ علامہ ابن جوزی محدث سید نا عبد اللہ و ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ قال لم يكن لرسول الله صلى الله عليه وسلم ظل ولم يقم مع شمس الاغلب ضوئه ضوئها ولا مع السراج الاغلب ضوئه ضوئه یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھا اور نہ کھڑے ہوئے آفتاب کے سامنے مگر یہ کہ ان کا نور عالم افروز خورشید کی روشنی پر غالب آ گیا اور نہ قیام فرمایا چراغ کی ضیا میں مگر یہ کہ حضور کے تابش نور نے اس کی چمک کود بالیا۔ نفی الفی“ اور تفصیل کیلئے یہ رسالہ مبارکہ سید نا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کافی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب حسن ۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب ۲۵/ذوالحجہ ۱۴۰۰ھ بہاء المصطفیٰ قادری، منظر اسلام، بریلی شریف