بعد وفات زوجہ مہر کی ادائیگی، وراثت میں تقسیم اور متفرق مسائل
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ (۱) زید کی بیوی کا انتقال ہو گیا اور اس کے شوہر نے مہر بھی ادا نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہندہ نے معاف کیا ہے اور ابھی ہندہ کا ایک لڑکا ایک لڑکی اور اس کے والدین بھی موجود ہیں، زید کومہر دینا ہوگا کہ نہیں اگر دینا ہو گا تو کس کو دے گا اور مہر کی رقم میں زید کا حق ہے یا نہیں اور ہندہ کے ورثہ اگر مہر معاف کر دیں تو معاف ہوگا یا نہیں؟ (۲) ہندہ نے مہر معاف کر دیا اس کے چند ہی دنوں کے بعد زید نے کھانے پینے میں کمی کی جس سے وہ تنگ آگئی تو جو مہر معاف کر دیا تو ان مجبوری کی بنا پر معاف کیا ہوا مہر اس کے اوپر عائد ہوگا یا نہیں اور اگر طلاق دے دی تو معاف کیا ہوا مہر دینا ہوگا یا نہیں؟ (۳) غلط مسئلہ بتانے والے پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۴) قصد أنماز ترک کرنے والا ز نا کرانے والی عورت سے کیا زیادہ گنہگار ہے؟ (۵) پینٹ پہننا کیسا ہے اور اس کو پہنکر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ (1) کافر سے دوستی رکھنا ان کے یہاں شادی وغیرہ میں جانا ان کے یہاں کھانا اور اس کو اپنے یہاں اپنے برتنوں میں کھلانا کیسا ہے؟ اور وہ برتن ناپاک ہوگا یا نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں!
الجواب: (1) بعد تقدیم ما تقدم وادائے دیون وغیر ہا اس صورت میں کل ترکہ ہند ہ ۳۶ سہام پر بنے گا جن میں سے ۹ رشوہر اور ۶-۶ روالدین ، ۱۰ رسام لڑکا اور ۵ رسام بیٹی پائے گی مہر کی ادائیگی شوہر پر لازم ہے مہر میں وہ بھی حقدار ہے اپنا حصہ لے کر باقی ورثہ کو دے دے۔ اور اگر ورثہ معاف کر دیں تو مہر معاف ہوجائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۳) وہ بحکم حدیث مستحق لعنت ملائکہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) وہ سخت گنہ گار ہے اور یہ میری نظر سے نہ گزرا جو سوال میں درج ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) نہ چاہئے کہ صلحاء کی وضع نہیں اور اگر اس طور پر نماز پڑھی کہ شرٹ پینٹ میں گھرس لی تو بوجہ کف ثوب نماز میں کراہت تحریمی ہوگی اور نماز واجب الاعادہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) ناجائز و حرام ہے جبکہ خوف فتنہ و دفع مضرت وغیرہ کوئی ضرورت یا شدید حاجت نہ ہو اور برتن کی ناپاکی کا حکم نہ ہوگا۔ جب تک کہ اس کے ہاتھ سے کوئی نجاست کا برتن میں لگ جانا یقینی طور پر معلوم نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ ۵ جمادی الاولی ۱۴۱۲ھ