احد الزوجین کے ساتھ ابوین ہوں تو والدہ کو مثلث مابقی ملے گا ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ تکملہ میری بیوی کا ایک مکان میں نصف کا حق ہے، وہ بلا اولاد چھوڑ کر مرگئی، میں اسکا شوہر ہوں اس کے چار بھائی ہیں اور پانچ بہنیں اور ماں باپ زندہ ہیں۔ حصہ کشی بصورت سہام بتادی جائے۔ بینوا توجروا
الجواب: بر تقدیر صدق سوال و انحصار ورثہ فی المذکورین بعد تقدیم مصارف تجہیز و تکفین و ادائے دیون وغیرھا کل ترکہ آپ کی زوجہ کا ۶/ سہام پر منقسم ہو گا جن میں سے ۳ سہام آپ کو اور ایک ماں کو اور دو سہام باپ کو ملیں گے ۔ ردالمختار میں ہے: " ان الميت اذا ترك الأبوين واحد الزوجين فلأمه ثلث ما بقى بعد نصيب احد الزوجين (1) سراجی میں ہے: "ثلث ما بقى بعد فرض احد الزوجين وذلك في مسئلتين زوج وابوين وزوجة وابوين (M)" اور بھائی بہن کچھ نہ پائیں گے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله الجواب صحیح۔ واللہ تعالی اعلم تحسین رضا غفرلہ (1) رد المحتار، کتاب الفرائض، ج ۱۰، ص ٥١٣ ، دار الكتب العلمية، بيروت (2) السراجيه، باب معرفة الفروض، فصل فى النساء، ص ۲۳، مجلس بركات ۱۵/ ذوالحجہ ۱۴۰۲ھ