بیوی اور بھانجی کی موجودگی میں ترکہ کی تقسیم کا مسئلہ
بیوی اور بھانجی وارث ہوں تو ترکہ کیسے تقسیم ہو گا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : محمد یعقوب صابری بیگم اپنی والدہ سے ۳ بہن بھائی تھے ، بہن کا انتقال بھائی کے سامنے ہو گیا، بہن سے ایک لڑکی پیدا ہوئی، بھائی سے کوئی اولاد نہیں پیدا ہوئی۔ محمد یعقوب صاحب کا انتقال ہو گیا، وہ لاولد تھے۔ اب انہوں نے ایک بیوی اور ایک سگی بھانجی چھوڑی ہے۔ ان کا متروکہ جو ہے وہ کس طرح سے تقسیم کیا جاوے؟ کس کو کتنا حصہ ملے گا؟ اب بیوہ محمد یعقوب اور بھانجی خیر النساء محمد یعقوب موجود ہیں ، دونوں کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟ خیر النساء بیگم مرحوم یاد حسین، ملوکپور ، بریلی
الجوار مسئلہ زوجه تكملة بنت الاخت صورت مسئولہ میں بر تقدیر صدق سوال و انحصار ورثہ فی المذکور تین بعد تقدیم مصارف تجهیز و تکفین وادائے دیون و غیرھا کل ترکہ محمد یعقوب کا ۴ سہام پر منقسم ہو کر ایک سہم زوجہ محمد یعقوب اور تین سہام اس کی سنگی بھانجھی کو ملیں گے ۔ تنویر علی الدرالمختار میں ہے: هو (ذو الرحم) كل قريب ليس بذى سهم ولا عصبة . عصبة ولا يرث مع ذى سهم ولا عصبة سوى الزوجين فياخذ المنفرد جميع المال بالقرابة اهـ . رد المحتار میں ہے: (1) قوله (فياخذ المنفرد اى الواحد منهم من أى صنف كان جميع المال اى او ما بقى بعد فرض احد الزوجين اهـ . (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۳ رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی (1) تنوير الابصار على الدر المختار، کتاب الفرائض، باب توريث ذوی الارحام ، ج ١٠ ، ص ٥٤٥ تا ٥٤٧، دار الكتب العلمية، بيروت (2) رد المحتار، کتاب الفرائض، باب توريث ذوى الارحام، ج ١٠ ، ص ٥٤٧ ، دار الكتب العلمية، بيروت