بیوی، دو بیٹیاں، ایک بھائی اور ایک بہن کے درمیان تقسیمِ ترکہ کا طریقہ
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ فرائض میں کہ زید نے انتقال کیا، اس نے دو لڑکے اور ایک لڑکی چھوڑی۔ اس کے بعد بڑے لڑکے کا انتقال ہوا، اس نے ایک بھائی اور ایک بیوی اور دو لڑ کی اور ایک بہن چھوڑیں۔ لہذا بڑے لڑکے کی جائیداد میں سے شریعت کے مطابق تقسیم کر دیجئے۔ بینوا توجروا۔ المستفتی: دولہاحسن، قصبہ شیش گڑھ ضلع بریلی ۱۶ محرم الحرام ۱۴۰۵ھ
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: صورت مسئولہ میں بر تقدیر صدق سوال و انحصار ورثہ فی المذکورین کل ترکہ متوفی ۷۲ / سہام پر تقسیم ہو گا جن میں سے ۹ر سہام بیوی اور ۲۴-۲۴- سہام ہر لڑکی کو اور ۱۰ر سہام بھائی اور ۵/ سہام بہن کو ملیں گے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۷ محرم الحرام ۱۴۰۵ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۲ · صفحہ ۹۷–۹۸
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
زندہ شخص کی جائیداد میں کسی کو حق نہیں پہنچتا وہ شخص خود مالک ہے!
باب: کتاب الفرائض
بیٹوں کی موجودگی میں یتیم پوتوں اور بیوہ کا دادا کے ترکہ میں وراثت کا حکم
باب: کتاب الفرائض
احد الزوجین کے ساتھ ابوین ہوں تو والدہ کو مثلث مابقی ملے گا ؟
باب: کتاب الفرائض
تقسیم ترکہ، سامان جہیز کی ملکیت اور بیوہ کے مہر کا بیان
باب: کتاب الفرائض
بیوی اور بھانجی کی موجودگی میں ترکہ کی تقسیم کا مسئلہ
باب: کتاب الفرائض