بیٹوں کی موجودگی میں یتیم پوتوں اور بیوہ کا دادا کے ترکہ میں وراثت کا حکم
زید، بکر، عمر، عمرو ۔ ان چار بھائیوں میں زید کا انتقال ہوا، اس کے باپ کی موجودگی میں اور زید کے چار لڑکے اور زید کی بیوی موجود ہے۔ زید کے باپ نے اپنے انتقال کے قبل تقریبا تین یا چار لاکھ کی مالیت چھوڑی۔ اب زید کے تین بھائی (بکر، عمر، عمرو ) اس مالیت کو صرف تین حصے میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور ان یتیم بچوں کا حق مارنا چاہتے ہیں۔ ان تینوں کا خیال یہ ہے کہ شریعت کے مطابق ان یتیم بچوں کا مع اس کی والدہ کے کوئی حق نہیں یعنی بچوں کے دادا کی مالیت میں جو زید، عمر، بکر و عمرو کے زمانے میں تھا۔ شریعت کے قانون کے مطابق کیا واقعی ان یتیم بچوں کا کوئی حق نہیں ؟ اگر ہے تو براہ کرم حوالہ کے ساتھ شرعی فیصلہ سے آگاہ فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔ المستفتی: احقر حافظ محمد عابد حسین، امام مسجد شانتی پور نمبر سات، ڈاکٹر انور عالم رضوی نوری
الجواب: فی الواقع صورت مسئولہ میں زید کی اولاد اور اس کی بیوی کو پدر زید کے ترکہ میں حق نہیں پہنچتا البتہ زید اگر کچھ مال و متاع نہ چھوڑ گیا جس سے زید کے اہل و عیال کی گزر بسر ہو تو زید کے بھائیوں پر اُن ناداروں کی کفالت لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی