تقسیم ترکہ، سامان جہیز کی ملکیت اور بیوہ کے مہر کا بیان
لہذا مندرجہ بالا تحریر سے تین سوالات کے جوابات ازروئے شریعت مطہرہ مرحمت فرمائیں: (1) سامان مذکورہ سے کیا کیا سامان متوفی کی ملک سے ترکہ ورثہ کا قرار پائے گا اور کیا کیا سامان متوفی کی مذکورہ بیوی کا قرار پائے گا؟ (۲) مندرجہ بالا ورثہ سے کس کس کو کتنا کتنا حصہ متوفی کے مال سے ملے گا؟ (۳) متوفی کی بیوی مذکورہ کا مہر مبلغ ۱۵۰۰۰ روپے تھا، کیا شوہر کے انتقال سے مہر ساقط ہو گیا؟ یا متوفی کی متروکہ جائیداد سے بیوی مذکورہ کا مہر بھی ادا کیا جائے گا؟ اور اس کی کیا صورت ہوگی ؟ بینوا توجروا۔ المستفتی: حاجی شیا، محله الله نگر، بریلی ۱۲ار ذی الحجہ ۱۴۰۲ھ/۳۰ ستمبر ۱۹۸۲ء
الجواب: ۹۶ = ۴ X ۲۴ مسئلہ زوجہ اب ام این بنت اخ اخت ۱۲ حَةِ الأنْثَيَيْنِ ۵۲ = ۴ X ۱۳ ۱۳ ۱۳ ۲۶ 17 (1) سامان جہیز اور وہ سونا جو بیوی کو اس کے والدین کی طرف سے ملا وہ سب اس کی ملک ہے، وارشان زید کو اس میں کوئی حق نہیں پہنچتا۔ رد المختار میں ہے: "كل احد يعلم ان الجهاز ملك المرأة "() اور وہ سونا جو اسے شوہر نے دیا تھا، اگر تصریحا شوہر نے بیوی کو مالک بنادیا تھا یا اس قوم کا عرف یہی (1) ردالمحتار، کتاب الطلاق، باب النفقة ، ج ۵، ص ۲۹۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت ہے جو کچھ بیوی کو دیا جاتا ہے اسے موت یا طلاق کے بعد واپس نہیں لیتے تو وہ سونا بھی زید کی بیوی کی ملک قرار پائے گی اور ورثہ اس میں سے کچھ نہ پائیں گے ۔ اور اگر زید نے صاف کہ دیا تھا کہ صرف پہننے کو دیتا ہوں، مالک نہیں بناتا ہوں یا اس قوم کا عرف یہی ہے کہ زیورات وغیرہ بیوی کو بطور عاریت دیتے ہیں تو اس صورت میں وہ سونا جو زید نے چڑھایا ترکہ زید ہے اور وارثان اس میں حقدار ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بر تقدیر صدق سوال و انحصار ورثه فی المذكورين بعد تقدیم مصارف تجہیز و تکفین وادائے دیون و غیرها کل ترکه زید ۹۶ - سہام پر منقسم ہو گا جن میں سے ۱۶/۱۶/ سہام والدین زید اور ۱۲ سہام زوجہ اور ۲۶ سہام لڑکے کو اور ۱۳ / ۱۳/ سہام لڑکیوں کو ملیں گے ۔ ھذ اھو حکم الکتاب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) دیون زید میں مہر بھی ہے ، وہ انتقال سے ساقط نہ ہو بلکہ معجل ہوا جس کی ادائیگی صورت مسئولہ میں ورثہ پر عند الطلب فورا لازم ہے جیسی صورت بنے ادا کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله