زندہ شخص کی جائیداد میں کسی کو حق نہیں پہنچتا وہ شخص خود مالک ہے!
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایک لڑکی ہے، ایک بھتیجہ ہے ، دونوں صاحب اولاد ہیں، دونوں کی اولاد ہیں ، لڑکی بھی ہیں، لڑکے بھی ہیں۔ اب زید کی جائیداد میں کس کا حق ہے ؟ کون اس کا وارث ہے ؟ اگر دونوں کو حق پہنچتا ہے تو الگ الگ کتنا کتنا ہونا چاہیئے ؟ خلاصہ لکھیں۔ المستفتی: سلطان احمد خان، نجیب آباد، بجنور
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: زید جبکہ زندہ ہے تو اس کی جائیداد میں کسی کو حق نہیں پہنچتا، وہ اپنی زندگی میں اس کا مالک ہے، اس کے بعد لڑکی، بعد تقدیم ما تقدم وادائے دیون کل ترکہ سے نصف پائے گی اور باقی بھتیجہ کو ملے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۲ · صفحہ ۱۰۶
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بیوی، دو بیٹیاں، ایک بھائی اور ایک بہن کے درمیان تقسیمِ ترکہ کا طریقہ
باب: کتاب الفرائض
بیٹوں کی موجودگی میں یتیم پوتوں اور بیوہ کا دادا کے ترکہ میں وراثت کا حکم
باب: کتاب الفرائض
احد الزوجین کے ساتھ ابوین ہوں تو والدہ کو مثلث مابقی ملے گا ؟
باب: کتاب الفرائض
تقسیم ترکہ، سامان جہیز کی ملکیت اور بیوہ کے مہر کا بیان
باب: کتاب الفرائض
بیوی اور بھانجی کی موجودگی میں ترکہ کی تقسیم کا مسئلہ
باب: کتاب الفرائض