شرع مطہر کو افتراق و اختلاف نا پسند ہے اور صلح و اتفاق کی اہمیت
السلام علیکم ! خدمت عالی میں سوال در پیش ہے جواب سے آگاہ فرمانے کی مہربانی فرمائیں۔ (1) ہم دونوں سگے بھائیوں کی عورتیں بھی سگی بہنیں ہیں، ماں باپ بھی زندہ ہیں ،سب شریک حال ہیں مگر بڑی بھاوج سے میری دو چار سال سے نا اتفاقی کی وجہ سے بول چال بند ہے اور میری والدہ کا بھی دل دکھانے کی وجہ سے انہوں نے میری بڑی بھاوج سے بول چال بند کر رکھی ہے۔ اب میں یہ چاہتا ہوں کہ میری عورت کو بھی بڑی بھاوج سے بولنے سے منع کر دوں۔ کیا میں بولنے کے لئے میری عورت کو منع کر سکتا ہوں ؟ شرع میں کیا حکم ہے؟ میں سمجھوتا بھی اب نہیں چاہتا ہوں، پہلے دونوں کو بہت سمجھا چکے ہیں وہ عادت سے باز آتی نہیں ہیں ۔ فقط المستفتى : عبدالرحمن، لوہارتن گڑھ ضلع مندسور (ایم پی )
الجواب: شرع مطہر کو افتراق و اختلاف نا پسند ہے اور صلح واتفاق پسند ہے۔ قال تعالى : وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ - الآية )) آپس میں نہ جھگڑا کرنا کام ہو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا اکھڑ جائے گی۔ وقال تعالى: وَالصُّلْحُ خَيْرُ (۲) صلح بہتر ہے لہذا بے وجہ شرعی کسی مسلمان کو چھوڑ نا جائز نہیں چہ جائیکہ قرابت داروں کو چھوڑنا۔ اگر واقعی آپ کی بھاوج کی زیادتی ہے تو آپ اپنی بیوی کو انہیں بولنے سے منع کر سکتے ہیں جو باعث اختلاف (1) سورة الاحزاب : ٣٣ (۲) سورة النساء:۱۲۸ ہو اور بہتر درگز رہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم صبح الجواب ! فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ہجران مسلم تین دن سے زیادہ جائز نہیں ہے۔ حدیث میں ہیکہ رسول اللہ صلی نیا کیستم نے فرمایا آدمی کیلئے یہ حلال نہیں کہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ رکھے کہ دونوں ملے رہیں ایک ادھر منہ پھیر لیتا ہے اور دوسرا ادھر منہ پھیر لیتا ہے ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو ابتدائے سلام کرے۔ دوسری حدیث میں ہیکہ مسلم کیلئے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ دے پھر جس نے ایسا کیا اور مر گیا تو جہنم میں گیا۔ اسلئے جہاں تک ہو سکے ترک تعلق سے بچے مگر یہ کہ کوئی وجہ شرعی ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی