بلا ضرورت شرعیہ رشوت کے لین دین کی شرعی ممانعت اور اس کے گناہ کا بیان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ایک جھگڑے میں جبکہ زید سے اور جھگڑے سے کوئی تعلق نہیں، پولیس اسٹیشن پر بلا وجہ بلا یا گیا، تو بکر نے جو غیر شخص ہے زید اور اس کے وارثان کے بغیر دریافت کئے ہوئے ڈھائی ہزار روپیہ پولیس کو دے دیا بطور رشوت، جب زید اپنے مکان پر پہنچا تو بکر نے بتایا کہ تمہاری طرف سے میں نے ڈھائی ہزار روپے تھا نہ میں دیا ہے، آپ وہ روپیہ مجھے دے دیں میں نے کہا کہ آپ نے میری اجازت کے بغیر کیوں روپیہ دیا ؟ خیر زید نے بموجب کہنے کے بکر کو روپیہ دے دیا اور زید نے بکر سے کہا کہ میں اس کی شکایت افسران اعلیٰ کے سامنے کروں گا تمہیں اس کی گواہی دینا ہوگی تو بکر نے انکار کیا اور کہا گواہی نہیں دوں گا ۔ ایسے میں از روئے شرع بکر کا فریب اور رشوت دلا نا از روئے شرع صحیح ہے یا غلط؟ کیا بکر کسی شرعی معاملات میں گواہی دینے کے لائق ہے؟ از روئے شرع مطہرہ جواب مفصل طریقے سے ارشاد فرما یا جاوے۔ عین نوازش ہوگی السائل : حاجی چودھری عبدالرشید صاحب ساکن قصبہ بیری مضلع بریلی شریف (یوپی)
الجواب: بے ضرورت شرعیہ رشوت دینا دلا نا لینا حرام حرام حرام اشد بد کام بدانجام - قال تعالى: "وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ - الآية ) حدیث شریف میں ہے: الراشي والمرتشی کلاهما فی النار (۲) رشوت لینے والا ، دینے والا دونوں جہنم میں جائیں گے۔ شخص مذکور جس نے رشوت دی سخت گناہ گار ظالم جفا کار مستحق عذاب نار ہے جبکہ بے ضرورت شرعیہ زید کے لئے بے اجازت دی ہو اور اسے اس کے مطالبہ کا حق زید سے نہیں پہنچتا، اس پر لازم ہے کہ وہ رقم زید کو واپس دے نیز بکر پر تو بہ لازم ہے اور زید بھی تو بہ کرے کہ وہ رقم اسے دینا جائز نہ تھا۔ ردالمحتار میں ہے: الآخذو المعطى آثمان (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۸ / جمادی الآخره ۱۳۹۷ھ الجواب صحیح والمجیب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی