بعد تو بہ وظہور صلاح حال قطع تعلق جائز نہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ کسی دیہات میں ایک مسلمان مرد اور ایک غیر مسلم عورت یہ دونوں جانور چراتے تھے، اسی اثنا میں دونوں کے آپس میں محبت ہوگئی اور یہ مسئلہ کافی دنوں تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ ناجائز حمل بھی ہو گیا۔ اس کے بعد ان دونوں فریقین کے ورثہ کو اس حرکت خبیثہ کا پتہ چلا پورے دیہات میں شور و غل مچ گیا۔ گاؤں میں معز ر قسم کے جو لوگ تھے، مسلم و غیر مسلم ان کے یہاں یہ بات پیش کی گئی ، ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ لڑکی کو اس لڑکے کے ہمراہ کیا جائے لڑکے نے اس فیصلے کو قبول کرتے ہوئے دونوں شخص شہر قاضی کے پاس گئے، قاضی نے برضاء ورغبت لڑکی سے اسلام قبول کروایا اور لڑکی نے اسلام قبول کیا اور اس مقام پر نکاح خوانی بھی ہوگئی لیکن لڑکا جس برادری سے تعلق رکھتا ہے اس برادری کے لوگ اس کو برادری سے الگ کر دیے یہ کہہ کر کہ تم اور تمہارے بال بچے برادری کے لائق نہیں اور نہ تمہارے لڑکا ولڑ کی کی شادی برادری میں ہوگی اس لئے کہ تم لوگ برادری کے لائق نہیں ہو۔ لہذا شریعت مطہرہ کا جو حکم ہو ، بیان کیا جائے۔ المستفتي : نذیر احمد
الجواب: بلا شبہ وہ لڑکا زنا کا مرتکب ہو کر سخت گنہ گار مستوجب عذاب نار مستحق غضب جبار ہوا، اس پر تو بہ لازم ہے۔ اسے برادری سے نکالنا اور اس سے قطع تعلق کرنا جائز نہیں جبکہ تو بہ کر لی اور صلاح حال اس کا ظاہر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله