حج وزیارت یا امتحان وغیرہ کے لئے فوٹو کھنچوانا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ حج فرض یا تبلیغ اسلام یا حقوق العباد کی ادائیگی یا دوسرے دینی مقاصد کے لئے سفر کے پاسپورٹ پر لائسنسوں پر یا طلبہ کے امتحان کے فارموں پر تصویر لگانا بوجہ ضرورت اور مجبوری جائز ہے یا نہیں؟ درانحالیکہ تصویر لگانے والا اس سے راضی نہ ہو اور بادل ناخواستہ مجبوری کی بنا پر تصویر بنواتا ہو اور لگاتا ہو۔ ایک مولا نا صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ جو لوگ ان صورتوں میں بھی تصویر لگانے کو حرام ٹھہراتے ہیں یہاں تک کہ حج فرض بھی یہ لوگ اسی لئے لوگوں کو نہ کرنے دیتے ہیں اور نہ خود کرتے ہیں کہ پاسپورٹ پر تصویر لگانا حرام ہے، ایسے مولوی صاحبان اگر چہ جزئیات فقہ کے کتنے ہی بڑے حافظ جی کیوں نہ ہوں مگر ان لوگوں میں فقیہانہ تفقہ کی بہت کمی ہے کیونکہ ”الضرورات تبیح المحظورات یعنی ضرورتیں ممنوعات کو مباح کر دیتی ہیں، یہ فقہ کا ایسا محوری کلیہ ہے کہ اس کے گرد ہزاروں جزئیات فقہ گردش کرتے ہیں ۔ کاش یہ لوگ اس کلیہ اور اس سے متفرع ہونے والے سینکڑوں جزئیات پر نظر رکھتے ہوئے امت رسول پر رحم فرمائیں اور کروڑوں دیندار مسلمانوں کو فاسق وفاجر اور بد کا روحرام کار کہنے اور لکھنے سے اپنی زبانوں اور قلموں کو روکیں۔ کیا مولانا صاحب کا یہ ارشاد فرما نا یا لکھنا صحیح ہے؟ اگر صحیح نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے؟ جلد جواب عنایت فرمائیں، کیا مندرجہ بالا چیزوں کو شریعت کی اصطلاح میں 'ضرورت نہیں سمجھا جاتا ؟ صراحت فرمائیں۔ جب فقہ کا یہ قاعدہ کلیہ ہے تو فی زمانہ اس پر عمل کرتے ہوئے مندرجہ بالا ضرورت کی صورت میں استعمال کی اجازت دی جائے گی یا نہیں ؟ حضور سے گزارش ہے کہ تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں۔ فقط والسلام لمستفتی :محمد منصوراصغر دارالعلوم امجد یہ گانجہ کھیت، ناگپور
الجواب: فوٹو ذی روح کا کھینچن کھنچوانا بلاضرورت ملجہ شرعیہ حرام حرام اشد حرام بدکام بدانجام ہے۔ قال تعالى : "إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا ) یعنی اللہ ورسول کو ایذا دینے والوں پر اللہ کی لعنت ہے اور اللہ تعالیٰ نے تیار کر رکھا ہے ان کے لئے رسوائی کا عذاب۔ قال عكرمة هم الذين يصنعون الصور (۲) کذا فی الزواجر عن اقتراف الکبائر للعلامہ ابن حجر الیشمی المکی قدس سرہ - یعنی حضرت عکرمہ نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ لوگ تصویر بنانے والے ہیں جو اس وعید کے مستحق ہیں۔ حدیث میں ہے کہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم : ان اشد الناس عذابا عند الله المصورون (۳) اللہ کے حکم میں سب سے زیادہ سخت عذاب کے مستحق مصورین ہیں ۔ اور یہ ضرورت شرعیہ محرمات کا جواز امر مسلمہ ہے مگر ضرورت شرعیہ بھی تو ہو، ہر نام کی ضرورت ضرورت شرعیہ نہیں ، ضرورت شرعیہ یہ ہے کہ اس نے یا اس فعل حرام کے بغیر چارہ نہ ہو اور اس سے حصول مقصود کا متیقن بھی ہو اور یہ کہ یہ فعل حرام اگر مقصود لذاتہ نہ ہو بلکہ کسی اور فعل کے لئے آلہ و ذریعہ ہو تو ضروری ہے کہ وہ فعل جس کے لئے اس حرام کو آلہ و ذریعہ بنایا ہو وہ فعل شرعاً ضر ور ولازم ہو اور اس آلہ و ذریعہ محرمہ کے بغیر اس کے لئے اور کوئی ذریعہ حلال نہ ہو۔ اب ہم کہتے ہیں و باللہ التوفیق و به الاستعا دیوالیہ الاسکا میں حج کے وجوب ادا کے لئے امن طریق شرط ہے اور امن طریق یہ ہے کہ راہ میں کوئی نقصان جانی یا مالی یا دینی نہ ہو اور نقصان دینی بلا شیبہ سب نقصان سے اشد و اعظم ہے اور یہاں بلاشبہ نقصان دینی اس فعل محرم کے ارتکاب کی صورت میں متحقق ہے اور بنابریں امن طریق مفقود اور جب یہ شرط معدوم تو شرط ادای نا موجود اور جب شرط ادا ہی نہ رہی تو فوٹو کے لئے ضرورت شرعیہ کیسی؟ مدعی پر لازم کہ پہلے وہ اس صورت میں ادائے حج کی فرضیت ثابت کر دے پھر ضرورت کا دعویٰ کرے اور یہ بھی بیان کرے کہ فقہاء بالاتفاق فرماتے ہیں کہ : اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام (1) جب حلال و حرام جمع ہو جائیں تو حرام راج ہوتا ہے۔ مدعی کو اگر یہ قاعدہ کلیہ مسلمہ ہے تو ظاہر کو راجح جانب حرمت ہے تو ارشاد ہو کہ اب ضرورت شرعی کی کیا صورت ہے؟ اور یہ بھی بیان ہو کہ فوٹو بالفرض یہ ضرورت بج جائز ہو تو دیگر محرمات نے کیا قصور کیا ہے، کیا به ضرورت حج وہ سب بھی جائز ہوں گے؟ اور اس سے یہ بھی افادہ کیا جائے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے کسی عبادت فرض یا نفل کے لئے کسی حرام کو ذریعہ بنایا ہے اور اگر مدعی کو قاعدہ مذکورہ مسلم نہ ہو تو وجہ بیان کرے اور اس کے برخلاف جو دعویٰ رکھتا ہو اسے دلائل نقلیہ سے ثابت کرے، ہاں رہا فقیہا نہ شان اور تفقہ کے جوہر دکھانے کا یہی موقع ہے ، یہ تو حج کے لئے جو از تصویر وادعائے ضرورت کا حال تھا تبلیغ اسلام کے لئے جو جواز کا ادعاء کیا گیا وہ بھی مطلقاً بلا تفصیل صحیح نہیں اس مقصد کے لئے فوٹو کا جواز اسی وقت ثابت ہوگا جب ایک فرد یا چند افراد پر تبلیغ اسلام فرض عین ہو جو بغیر سفر کے ممکن نہ ہو اور یہ اسی وقت ممکن ہے جبکہ اس جگہ کوئی مبلغ موجود نہ ہو اور یہ صورت تو بعید ہے اور جواز اسی پر محصور اور ضرورت شرعیہ اسی صورت میں منحصر ۔ یہاں سے ظاہر کہ اس مقصد کو مطلقاً ضرورت شرعیہ مجوزہ مسیحہ بتانا غلط ہے واللہ الحمد ۔ یہی حال حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے سفر کا ہے کہ یہ مقصد سرے سے سفر پر موقوف ہی نہیں اور اگر بالفرض کسی صورت خاصہ میں ہو بھی تو حکم اسی صورت خاصہ میں ہوگا نہ کہ مطلقاً، یہاں بھی مطلقا حکم جواز دینا قصور ہے۔ واللہ تعالیٰ ھو الموفق للصواب واللہ تعالیٰ اعلم ۔ اور لائسنسوں کی ضرورت بھی نری نام کی ہے کہ جن چیزوں پر لائسنس ہے وہ خود کب ایسی ضروری ہیں کہ جن کے بغیر چارہ نہ ہو؟ اسی طرح امتحان کے فارموں کی ضرورت بھی ہرگز شرعیہ نہیں کہ امتحان ہی کب ضروری ہے بلکہ اس دور کی تعلیم جو بد مذہبی پر عموما مشتمل ہوتی ہے وہی بلا ضرورت شرعیہ کب جائز ہے کہ اس تعلیم کا امتحان ضرورت شرعیہ قرار پائے ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ اور بعض خاص مضامین جو بد مذہبی پر مشتمل نہیں ہوتے ان کے امتحانات کب ایسی ضرورت شرعیہ ہیں جن کے بغیر چارہ نہ ہو اور ان سے حصول مقصود ( کہ عموما تحصیل معاش میں ہوتا ہے ) کا تیقن کتنا ہوتا ہے؟ کتنے ایسے ہیں کہ امتحانات دے کے، ڈگریاں لے کے روز گار کو ترس رہے ہیں جبکہ دوسرے کتنے برسر روزگار ہیں پھر حصول معاش اسی پر کب موقوف ہے؟ یہاں سے صاف ظاہر ہے کہ ضرورت کا معنی کون سمجھا اور کون نہیں سمجھا ؟ اور کس میں تفقہ کی کمی ہے؟ پھر یہ عالم کی شان سے بعید ہے کہ وہ علماء سے تعصب رکھے اور بے وجہ شرعی ان پر طنز و طعن کرے اور ان کی اہانت کا مرتکب ہو، بے وجہ شرعی کسی مسلمان سے تعصب رکھنا اور اس پر طعن کرنا ناروا ہے اور علماء پر اور زیادہ سخت موجب و بال اور کسی عالم سے اس کا صدور بہت شنیع اور شان علم سے بعید ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۶ / رجب المرجب ۱۳۹۶ھ / ۵ / جولائی ۱۹۷۶ء نوٹ: شناختی کارڈ لائسنس وغیرہ سے متعلق مجلس شرعی کے فیصلے دیکھیں ۔ (مرتب) الجواب صحیح صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب صح الجواب بعون الملک الوہاب فقیر مصطفی رضا غفرلہ محمد ریحان رضا غفرلہ تحسین رضا غفرلہ الجواب صحیح والمجیب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح صبح الواب ولا تعالى عالم یا صحاب قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی غلام مجتبی اشرفی غفرلہ ریاض احمد سیوانی غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب حوالجواب بلال احمد نوری، مدرس منظر اسلام سید محمد عارف رضوی و اظهارك المعازف والمزمار بدعة فى الاسلام۔ (سنن النسائی) باب وما شہر المحرم تعزیہ داری اور متعلقات