حج کے لیے فوٹو، تصاویر والے اخبارات، ترک جماعت اور ہندو کی تعمیر کردہ مسجد کے احکام
ہے۔ کیا ایسے موقع پر فوٹو نکال کر دینا جائز ہوگا ؟ کیا اس کو صحیح بھی کہیں گے؟ (۲) اخبار میں فوٹو بھی ہوتے ہیں اخبار پڑھتے وقت وہ بھی نظر آتے ہیں ہمارا مقصد تو صرف اخبار پڑھنا ہوتا ہے، تصویر دیکھنا نہیں اسی طرح ٹی وی میں بھی اخبار سنتے وقت ان کا چہرہ نظر آتا ہے، ہمارا مقصد اخبار سنا یعنی خبریں سننا ہے، کیا یہ جائز ہے؟ (۳) ایسی نوکری جس میں نماز فرض جماعت سے پڑھنے کو وقت نہیں ملتا، ایسی نوکری کی مجبوری میں جماعت ہونے کے بعد نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اور ایسی نوکری کرنا کیسا ہے؟ (۴) ایک مسجد ہمارے شہر میں ایسی ہے جس کی فیکٹری کا مالک ہندو ہے، اس نے بنائی ہے اور امام و مؤذن کو تنخواہ بھی دیتا ہے، ایسی مسجد میں نماز ہوگی کہ نہیں؟ اور ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ المستفتی: محمد سرحد باشا قادری ساکن ضلع بلاری، (کرناٹک)
الجواب: (1) فوٹو جاندار کا کھینچنا کھنچوانا شرعاً حرام بد کام بدانجام ہے۔ حدیث میں ہے: ان اشد الناس عذابا عند الله المصورون (۱) قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب فوٹو کھینچنے والوں پر ہوگا۔ لہذا فوٹو کھینچوانے کی اجازت حج فرض کے لئے بھی نہیں کیونکہ حج کے وجوب ادا کے لئے امن طریق شرط ہے اور امن طریق یہ ہے کہ راستہ میں کوئی ضرر آدمی کی جان و مال و دین کو لاحق نہ ہو اور بیشک ضرر دینا اشد ضرر و اعظم خطر ہے جو فوٹو کی شرط میں موجود ہے۔ لہذا جب تک شرط نا جائز قائم ہے، لوگوں پر اس فریضہ کا ادا کرنا واجب نہیں اگر چہ حج ذمہ میں فرض رہے گا جس سے عہدہ برآ ہونے کی صورت اس کے حق میں جس نے فوٹو کی معصیت سے بچنے کو جج نہ کیا، یہ ہے کہ آخر وقت وصیت کر جائے کہ جب یہ ناجائز شرط اُٹھ جائے ، اس کی طرف سے کوئی حج کر لے۔ بزرگوں کی زیارت تو فرائض سے نہیں تو اس (1) مشكوة المصابيح باب التصوير الفصل الاول، ص ۳۸۵، مجلس برکات کے لئے فوٹو کی اجازت کیونکر ہو سکتی ہے اور ضرورت شرعیہ اور حرج شدید کی صورتیں ہر کلام سے مستثنیٰ ہیں لہذا امور مندرجہ میں جہاں ضرورت شرعیہ ہو کہ جس کے بغیر چارہ نہ ہو، یا سخت حرج شدید یہاں خاص صورتوں میں خالص غرض مباح کے لئے فوٹو کی اجازت ہوسکتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں، اس لئے ٹی وی دیکھنا جائز نہ ہوگا کہ خبریں بغیر تصویر دیکھے بھی سن سکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ایسی صورت میں وہ جماعت چھوڑ سکتا ہے اور ایسی ملازمت جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) وہاں نماز صحیح ہے اور وہ تنخواہ حلال ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله