حج و زیارت، پاسپورٹ، ویزہ اور لائسنس کے لئے فوٹو کھنچوانے کا حکم
حج و زیارت، پاسپورٹ ، ویزہ، لائسنس وغیرہ کے لئے فوٹو کھنچوانا جائز ہے کہ نہیں؟ ایک فتوی کا تعاقب ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ مندرجہ ذیل میں کہ دینی یا دنیاوی ضرورت کے لئے تصویریں کھنچوانا ، حج و زیارت کے لئے یا تبلیغی غیر ملکی سفر کے لئے یا پاسپورٹ میں ویزے کے لئے کسی کاروبار کی پرمٹ کے لئے کسی لائسنس وغیرہ کے لئے فوٹو کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے موقعوں میں تصویر اکلوانا صحیح ہے کہ نہیں؟ جبکہ اس کے بغیر کچھ کام نہیں ہو سکتا۔ یہ سب صورتیں الضرورات صحیح التطورات میں داخل ہیں کہ نہیں ؟ بینوا توجروا۔ والسلام
الجواب: جاندار کی تصویر کشی کے تعلق سے مندرجہ ذیل اقوال سامنے آچکے ہیں ۔ (1) جاندار کے چہرے والی تصویر چھوٹی ہو یا بڑی ہکسی ہو یا قلمی، آدمی ہو یا پوری، مجسمہ ہو یا غیر مجسمہ قابل عبادت ہو ( یعنی اس کو پوجا جانے کا امکان ہو) یا نا قابل عبادت، اس کو پوجا گیا ہو یا نہ پوجا گیا ہو، ہر حال میں اس کو بنانا یا بنوانا حرام وناجائز ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کو امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان نے اس باب میں اپنی بے نظیر تصنیف العطا یا القدیر فی حکم التصاویر میں مبرہن و مدلل فرمادیا ہے۔ ایسا کہ کسی شک وریب کی گنجائش نہیں رہ گئی ہے۔ (۲) اگر کسی جاندار کی تصویر کے کسی ایسے عضو کو کاٹ دیا جائے یا مٹا دیا جائے جس عضو کے بغیر زندگی نا ممکن ہو تو باقی حصہ غیر جاندار اور جماد محض کے حکم میں ہے۔ اس کا بنانا اور رکھنا سب کچھ جائز ہے۔ یہ قول صاحب در مختار کا ہے، اس قول کی بنیاد پر جاندار کی اوپر والے آدھے دھڑ کی تصویر بھی جائز قرار پاتی ہے۔ امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان نے در مختار کی اس تقسیم کو روا بیڈ اور درایت ہر طرح غیر صحیح ثابت فرمادیا ہے۔ آپ کے ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ تصویر سے مقصود شناخت و معرفت ہے اور شناخت و معرفت کے لئے چہرے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ چہرہ ہی زندگی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ لہذا اگر دھڑ کے ساتھ چہرہ لگا ہوا ہے تو وہ جاندار ہی کے حکم میں ہے۔ لہذا اس کا بھی بنانا نا جائز و حرام ہی ہوگا ۔ امام احمد رضا نے اپنے اس دعویٰ پر ایسے دلائل مہیا فرما دیے ہیں کہ ان میں گنجائش کلام نہیں اور ان کو دیکھنے والا ان کے حق و صحیح ہونے میں شک نہیں کر سکتا۔ جو تفصیل چاہتا ہو وہ امام موصوف علیہ الرحمۃ والرضوان کی تصنیف العطا یا القدیر فی حکم التصا ویر ملاحظہ کرے۔ چونکہ صاحب در مختار کا اپنے قول سے رجوع ثابت نہیں اس لئے میرے نزدیک بزرگوں کی بارگاہ میں سعادت مندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس قول کو درست نہ سمجھنے اور اس پر عمل نہ کرنے کے باوجود اس پر پر طعن و تشنیع نہ کی جائے اور اس کے قائل کی تجمیل و تحمیق یا تفسیق و تضلیل نہ کی جائے۔ (۳) پہلی صورت میں جس طرح کی تصویروں کی حرمت ظاہر کی گئی ہے، اگر حج فرض ادا کرنے کے لئے پاسپورٹ وغیرہ میں لگانے کے لئے بھی بنائی جائیں جب بھی حرام ہیں۔ لہذا اگر پاسپورٹ پر تصویر لگائے بغیر فریضہ حج نہ ادا کیا جا سکے تو حج تو ترک کر دیا جائے گا مگر تصویر نہیں کھنچائی جائے گی ۔ حج اگر چہ فرض ہے مگر ادائیگی کی راہ میں تصویر کشی خود ایک مانع شرعی ہے ۔ جہاں تک مجھے علم ہے، شاہزادہ امام احمد رضا حضور مفتی اعظم ہند، حافظ ملت حضرت مولانا عبد العزیز صاحب محدث مبارکپوری اور رئیس الاتقیاء حضرت مولانا افضل الدین حیدر صاحب ( علیہم الرحمۃ والرضوان ) اسی خیال پر تھے ۔ (۴) ویسے تو تصویر کشی کی حرمت کا وہی حال ہے جو پہلی صورت سے ظاہر ہے مگر فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے اگر تصویر کھنچانی ناگزیر ہو تو پھر وہ جائز ہے اور الضرورات تسبیح المحظورات میں داخل ہے۔ اس لئے کہ حج کی فرضیت قطعی ہے اور تصویر کشی کی حرمت ظنی ہے۔ اور جب کبھی فرض قطعی کے مقابلے میں حرمت ظنی آئے تو فرض کو ترجیح دی جائے گی اس خیال والے علماء کی قیادت افضل المحققین رئیس الفقہاء حضرت مولانا شاہ محمد اجمل صاحب سنبھلی علیہ الرحمۃ والرضون نے فرمائی اور حج فرض کی ادائیگی کی غرض سے عازمین حجاز کے لئے فوٹو کا جواز مبرہن و مدلل کر کے کتاب کی صورت میں پیش فرمادیا۔ اس وقت میرے علم میں ہندو پاک بلکہ عرب و عجم میں علماء کی اکثریت اس خیال کی تائید و توثیق کر رہی ہے۔ (۵) شریعت کے حدود میں رہ کر معاشی و اقتصادی خوشگواری اور علمی وفنی برتری کے حصول کے لئے پرمٹ ولائسنس پر نیز حج وزیارت کے لئے خواہ حج نفلی ہی کیوں نہ ہو اور تبلیغی غیر ملکی سفر کے لئے پاسپورٹ اور ویزے کے لئے اگر تصویر نکالنانا گزیر ہوں تو یہ بھی "الضرورات تبيح المحظورات“ میں داخل ہیں بشرطیکہ فوٹو کھنچانے والا برضا و رغبت یہ کام نہ کرے بلکہ دل کی ناخوشگواری کے ساتھ مجبوری کی حالات کی بنا پر ایسا کرے اور وہ بھی اس حد تک نکلوائے جس حد تک ضرورت پوری ہو جاتی ہو۔ اس خیال کو صاف صریح لفظوں میں اپنی کتاب نوادر الحدیث میں پیش کرنے والے ہیں : حضرت استاذ العلماء شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفی اعظمی مدظلہ العالی اور اس عہد کے ہندو پاک بلکہ عرب و عجم کے وہ سارے مقتدر علمائے کرام ومشائخ عظام اس خیال کی عملاً تائید و توثیق فرماتے ہیں جو حج و زیارت اور مقامات مقدسہ کی حاضری بار بار کر رہے ہیں اور جو غیر ملک میں جا کر علم وفن کی ممتاز ڈگریاں لے کر واپس آئے ہیں نیز جور شد و ہدایت اور تبلیغ و ارشاد کے لئے غیر ملکی دورہ کرتے رہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ بغیر پاسپورٹ اور پاسپورٹ پر بغیر تصویر کے اس زمانہ میں ملک کے باہر ہونا ناممکن ہے تو اگر ان کاموں کے لئے تصویر کھنچانا ان حضرات کے نزدیک الضرورات تبيح المحظورات میں داخل نہ ہوتا تو یہ لوگ ہرگز یہ انداز اختیار نہ فرماتے ۔ ان علماء و مشائخ میں ایسی مقتدر ہستیاں بھی ہیں جنہیں بقیۃ السلف اور حجۃ الخلف کہنا بھی نامناسب نہیں۔ ایسوں کو بیک جنبش قلم فاسق و فاجر حرام کا روز بوں کردار قرار دینے کے لئے ہوش وحواس کی سلامتی کے ساتھ دل و دماغ کیسے راضی ہو سکتے ہیں؟ اس مقام پر یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہر دور میں دوسری قوموں پر کسی قوم کی برتری اور اس کے عروج و ارتقاء کے اسباب الگ الگ رہے ہیں۔ اس سائنٹفک دور اور ٹیکنکل عہد میں اگر قوم مسلم دوسری قوموں پر غالب وسر بلند ہونا چاہتی ہے تو اسے معاشی و اقتصادی حالات کی خوشگواری اور ہر میدان میں علمی وفنی برتری حاصل کرنی ہوگی ورنہ وہ دنیا کی مغضوب و مقہور اور بیکس و مجبور قوم کی حیثیت سے جانی پہچانی جائے گی اور ان حالات میں اس کے کندھے اعلاء کلمتہ الحق کے بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہیں گے۔ اب اگر اعلاء کلمتہ الحق دین اسلام کے اہم ترین مقاصد سے ہے تو پھر اس کے لئے جس علمی و فنی، معاشی و اقتصادی اور سیاسی و تہذیبی برتری کی ضرورت ہے، ان سب کو ضرورت شرعیہ کے دائرے سے نکال دینا یقینا غیر معقول اور حالات زمانہ سے بے جا چشم پوشی ہے۔ کسی زمانہ میں معاشی ضرورت قوت لا یموت سے پوری سمجھ لی جاتی تھی مگر اس دور کے لئے اسے نسخہ کیمیا نہیں قرار دیا جا سکتا ۔ آج اگر ساری قوم مسلم قوت لایموت پر قانع ہو کر رہ جائے اور آگے کے لئے جدو جہد نہ کرے تو زندہ رہتے ہوئے بھی مردہ نظر آئے جہاں تک سانس لینے کا تعلق ہے، قوت لا یموت سے کام چل سکتا ہے مگر ایک قوم کی پر وقار و با عزت زندگی کے لئے یہ کافی نہیں، وہ زندگی کس کام کی جو دوسری قوموں سے اپنی برتری نہ منوا سکے اور اپنے بازؤوں میں اعلیٰ پیمانے پر اعلاء کلمتہ الحق کا دم خم نہ رکھے۔ ویسے بھی قوت لا یموت کا تعلق صرف معاشی ضرورت سے ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہر مکلف کے لئے بقاء ز ندگی کے لئے قوت لا یموت حاصل کرنے کی جدو جہد فرض ہے اور قوت لایموت کی موجودگی کی صورت میں اسے مضطر بن کے خانہ میں نہیں رکھا جاسکتا اور حالت اضطرار والوں کے لئے جو ایک شرعی رخصت ہے، اس سے وہ فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔ لہذا قوت لایموت کی قیدان تمام ضرورات سے متعلق نہیں کی جاسکتی جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ اس مقام پر قرون ثلثہ کے فقروفاقہ والے ارباب عزیمت کی ( جنہوں نے قیصر و کسری جیسی جابرو قاہر حکومتوں کی شوکت وسطوت کو پامال کر کے اللہ کے کلمے کو بلند و بالا کر دیا ) مثال نہیں دی جاسکتی اس لئے کہ عہد رسالت میں یا اس عہد کے قریب تر ہونے کے سبب رسالت کے انوار و برکات اور نبوت کے فیضان وعرفان سے انہیں جو حصہ ملا تھا اس نے ان کی روحانیت کو وہ مقام عطا فرما دیا تھا جس نے انہیں مادی بے سروسامانی کے باوجود عظمت و جلال کا کوہ گراں بنادیا تھا، اس لئے اس دور کے لوگوں پر آج کے دور کے لوگوں کو قیاس کرنا کسی حال میں درست نہیں۔ اس پانچویں قول کے مؤیدین کے نزدیک تصویر کشی گوحرام ہے مگر اس کی حرمت میں ایسی شدت و قوت نہیں ہے جو حرمت قطعی میں ہوتی ہے۔ لہذا سوال میں ذکر کردہ ضرورات کے لئے اس ممنوع و محظور کی اباحت میں کوئی شک نہیں۔ امام احمد رضا کے عہد میں چونکہ سوال میں ذکر کردہ امور کے لئے تصویر کشی لازم نہیں تھی اس لئے اس سلسلے میں آپ کا کوئی واضح ارشاد جو خاص کر کے اسی سے متعلق ہو نہیں ملتا۔ هذا ما عندی والله تعالى اعلم و علمه جل مجده اتم و احكم فقط انا الفقير الى حضرت الرب الغنى السید محمد مدنی الاشرفی الجیلانی خلف و جانشین مخدوم الملت حضور محدث اعظم ہند علیہ الرحمة والرضوان ) فتوی ملاحظہ ہوا ، سوال مذکور کا جواب ہمارے مفصل فتویٰ سے روشن ہوگا ، اس کی نقل ہمراہ روانہ ہے۔ رہا پیش نظر جواب وہ محل نظر ہے اور اس میں جو نظیر ہے وہ ہمارے سوالات سے واضح ہے، اس فتویٰ پر سوالات مندرجہ ذیل ہیں۔ (1) فاضل مجیب نے فرمایا کہ : ”اگر کسی جاندار کی تصویر کے ایسے عضو کاٹ دیا جائے یا مٹادیا جائے جس کے بغیر زندگی ناممکن ہو تو باقی حصہ غیر جاندار اور جماد محض کے حکم میں ہے، اس کا بنانا اور رکھنا سب کچھ جائز ہے، یہ قول صاحب در مختار کا ہے۔ مجیب پر اس قول کی تھی لنقل لازم تھی۔ (۲) خیر جب نہ کی ، اب سہی۔ مجیب لبیب بتائیں کہ عبارت در مختار کا وہ کون سا لفظ ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ اس کا بنانا جائز ہے؟ (۳) اگر اس عبارت کا یہی مفاد ہے جو مجیب نے سمجھا تو محشی در مختار علامه شامی و فاضل طحطاوی کیونکر اس سے غافل رہے کہ شامی نے فرمایا: و ظاهر كلام النووي في شرح مسلم الاجماع على تحريم تصوير الحيوان وقال: وسواء صنعه لما يمتهن او لغيره فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، و سواء كان في ثوب او بساط او درهم واناء وحائط وغيرها الخ“ (1) طحطاوی علی الدر میں فرمایا: دو و ظاهر كلام النووي في شرح المسلم الاجماع على تحريم تصوير الحيوان وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بوعيد شديد وهو ما في الصحيحين عنه صلی اللہ علیہ وسلم اشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم احيوا ما خلقتم و قال سواء صنعه لما يمتهن او بغیره فصنعته حرام بكل حال لان فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء كان في ثوب او بساط او درهم او دينار او اناء او حائط وغيرها اه شامی میں مزید فرمایا : هذا كله في اقتناء الصورة واما فعل التصوير فهو غير جائز مطلقا لانه مضاهاة لخلق اللہ تعالی کمامر (۳) (۴) اور مجیب نے یہ جو تحریر فرمایا کہ چونکہ صاحب در مختار کا اپنے فتویٰ سے رجوع ثابت نہیں اس لئے میرے نز دیک بزرگوں کی بارگاہ میں سعادت مندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس قول کو درست نہ سمجھنے اور اس پر عمل نہ کرنے کے باوجود اس پر طعن و تشنیع نہ کی جائے اور اس کے قائل کی تجمیل و تحمیق یا تفسیق و تضلیل نہ کی جائے۔ اس میں کیا حکمت ہے؟ (۵) اس کا قائل کون ہوایا ہونے والا ہے جس کی تجمیل تحقیق سے منع کیا جارہا ہے۔ (۶) یہی صاحب در مختار اپنے اسی در مختار میں فرما گئے : الفتيا بالقول المرجوح جهل و خرق للاجماع (۲) اور صاحب در مختار کا وہ قول مذکور مرجوح ہے۔ چنانچہ خود مجیب کو مسلم ہے تو مرجوح کا قائل ہونا خود بحکم صاحب در مختار جہل و خلاف اجماع ہے تو بعد تبیین مرجوحیت کوئی اس کا قول کرے تو اس کی تجہیل صاحب در مختار کے حکم کی تعمیل ہے، یہ کیوں ممنوع ہوگی؟ میرے نزدیک تو بزرگوں کی بارگاہ میں سعادتمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے قول پر عمل کیا جائے۔ (۷) صاحب در مختار کے قول مذکور کا حاصل صرف اس قدر ہے کہ جاندار کی تصویر کا اگر کوئی ایسا عضومٹا دیا جاے جس کے بغیر وہ جاندار زندہ نہ رہے تو اس صورت میں نماز میں کراہت نہ ہوگی ۔ فاضل مجیب سلمہ القریب المجیب بتائیں کہ عدم کراہت نماز وجواز تصویر میں کون سا علاقہ ہے کہ جب کسی تصویر ذی روح سے کسی خاص صورت میں نماز مکروہ نہ ہو تو اس کا بنانا بھی جائز ٹھہرے اور اگر کوئی علاقہ نہیں تو اگر کوئی شخص ان صورتوں کو جنہیں صاحب در مختار وغیرہ نے کراہت نماز کا حکم نہ دیا۔ مثلاً اتنی چھوٹی تصویر جسے زمین پر رکھیں تو اس کے تفاصیل اعضاء معلوم نہ ہوں، حجت بتا کر یہ کہے کہ ان صاحبوں کا قول ہے کہ ایسی تصویریں بنانا جائز ہے، اس کا یہ قول خلاف واقع و جہل نامقبول ہوگا کہ نہیں؟ (۸) مجیب لبیب حفظہ اللہ فرماتے ہیں: ” پہلی صورت میں جس طرح کی تصویروں کی حرمت ظاہر کی گئی ہے اگر حج فرض ادا کر نے کیلئے پاسپورٹ وغیرہ میں لگانے کے لئے بھی بنائی جائیں جب بھی حرام ہیں لہذا اگر پاسپورٹ پر تصویر لگائے بغیر فریضہ حج ادا نہ کیا جاسکے تو حج تو ترک کر دیا جائے گا مگر تصویر نہیں کھنچائی جائیگی ، حج اگر چہ فرض ہے مگر ادائیگی کی راہ میں تصویر خود ایک مانع شرعی ہے ۔ پھر فرماتے ہیں: "ویسے تو تصویر کشی کی حرمت کا وہی حال ہے جو پہلی صورت سے ظاہر ہے مگر فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے اگر تصویر کھنچانا نا گزیر ہوتو پھر وہ جائز ہے اور الضرورات تبيح المحظورات میں داخل ہے، اس لئے کہ حج کی فرضیت قطعی ہے اور تصویر کشی کی حرمت ظنی ہے ، الخ “۔ اس سے ظاہر کہ مجیب فاضل مدظلہ کے نزدیک یہ قول اخیر راجح ہے، مجیب فاضل پر لازم ہے کہ وجہ ترجیح ایسی بیان فرمائیں کہ پہلا قول مندفع ہو جائے اور اس کا مرجوح ہونا ظاہر ہو جائے ۔ فقط یہ کہہ دینا کہ الضرورات تبيح المحظورات " میں داخل ہے، کافی نہیں ، کہ ضرورت شرعیہ کا تحقق محل منع میں ہے تو جب تک ضرورت شرعیہ تحقیق نہ ہو جائے ،حکم حرمت باقی ۔ اور وہ مذہب کہ پہلے نقل کیا ، واجب العمل اور اس سے عدول نا جائز۔ (۹) ضرورت شرعیہ کی تعریف فرمائی جائے۔ (۱۰) کیا ضرورت شرعیہ سے ہمیشہ محظور مباح ہو جاتا ہے؟ یا یہ حکم مقید ہے؟ بر تقدیر اول اس دعوی کی دلیل دیجئے اور بر تقدیر ثانی وہ قید کیا ہے؟ بیان فرمائیے۔ (۱۱) ایک شخص کی جان جاتی ہے اور حرام و حلال کوئی غذا نہیں جس سے وہ دفع ہلاکت کرے، کوئی کہتا ہے میرے جسم سے گوشت کی بوٹی کاٹ کر کھالے، کیا یہ جائز ہوگا؟ اور الضرورات صبیح الحظورات میں داخل ہوگا یا نا جائز ؟ یا اس قریب المرگ کو اجازت ہوگی کہ اپنے جسم سے بوٹی کاٹ کر کھالے؟ بر تقدیر اول دلیل جو از کتب معتمدہ سے لکھنے اور بر تقدیر ثانی عدم جواز کی وجہ سوائے ضرر بدنی کے کیا ہے؟ یہ بھی بتائیے کہ ضرر بدنی تو شرعاً مدفوع ہو اور ضرر دینی کو شریعت دفع نہ فرمائے بلکہ ارتکاب حرام کو لازم ٹھہرائے ۔ کیا یہ معقول و مقبول ہے؟ (۱۲) جی ” تصویر کشی کی حرمت ظنی ہے یہ کسی عالم کا قول ہے؟ اور کس کس نے اسے قبول کیا ہے؟ بیان کیجئے۔ (۱۳) سیدی ملا علی قاری علیہ رحمتہ الباری مرقاة المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح میں فرماتے ہیں: قال اصحابنا و غيرهم من العلماء تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لانه متوعدا عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الاحادیث سواء صنعه في ثوب او بساط او در هم او دینار او غير ذلك واما تصوير صورة الشجر والرجل والجبل وغير ذلك فليس بحرام - هذا حكم نفس التصوير اه و مثله في فتح الباري والزواجر نقلا عن شرح مسلم للنوى )) (1) مجیب فاضل بتا ئیں: قال اصحابنا وغيرهم من العلماء“ سے ذی روح کی تصویر بنانے پر اجماع ائمہ ظاہر ہوتا ہے یا نہیں؟ نیز بتائیں: شدید التحریم ظنی ہی کے لئے کہا جاتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کتب مستندہ سے ثبوت دیں ور نہ ظنی کہنا کیا معنی؟ (۱۴) مجیب نے قاعدہ ذکر کیا کہ "جب کبھی فرض قطعی کے مقابلہ میں حرمت قلفی آئے تو فرض کو تر جیح دی جائے گی ۔ اس پر معروض ہے کہ برائے کرم اس قاعدہ کا ثبوت کتب معتمدہ سے دیجئے۔ (۱۵) ایک شخص کسی کو دھمکی بے وجہ شرعی دیتا ہے کہ تجھے قتل کر دوں گا ، اگر اپنی جان بخشی چاہتا ہے تو فلاں کو جماعت شرعیہ سے نماز پڑھنے سے روک دے۔ کیا ایسی صورت میں اس شخص پر اس فلاں شخص کو جماعت سے روکنا فرض ہوگا ؟ اور اگر وہ نہ روکے اور قتل ہو جائے تو کیا گناہ گار مرے گا کہ جان بچانا فرض قطعی ہے اور ترک جماعت کی حرمت ظنی؟ اور جب کبھی فرض قطعی کے مقابلے میں حرمت فلنی آئے تو فرض کو تر جیح دی جائے گی"۔ (۱۶) کیا حج نفل بھی فرض ہے کہ اس کے لئے پاسپورٹ پر تصویر لگانا ناگزیر ہوتو بوجہ ضرورت اس کی اجازت ہو؟ نہیں تو یہ دلیل کہ حج کی فرضیت قطعی ہے الخ " حج نفل میں کب جاری ہے ؟ اس کے لئے کوئی اور دلیل چاہئے۔ (۱۷) کیا ضرورت شرعیہ کا مفہوم اختلاف زمانہ سے بدل گیا ہے؟ ان سوالات سے اس جواب میں جو نظر ہے وہ ظاہر ہوئی اور نمبر (۵) کی جو حالت ہے وہ بھی ہمارے تفصیلی فتوی سے ظاہر ہوگی جو ہمراہ روانہ ہے۔ واللہ تعالی اعلم وصلی الله تعالی علی سیدنا محمد وآله وصحبه وبارک وسلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۹ ربیع الآخر ۱۴۰۵ھ