شیعہ کے متعلق نظریہ اور مروجہ تعزیہ داری کی شرعی حیثیت
(1) شیعہ حضرات کو ارکان اسلام مکمل طور سے ادا کرنے والا بتانے والے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟ حکیم بدرالہدی فردوسی کٹرہ بیٹھا نان فیروز آبادہ، آگرہ
الجواب: (۱) مروجہ تعزیہ داری بلا شبہہ ناجائز و حرام بد کام بدانجام ہے اور نہ صرف حرام بلکہ چند محرمات کا مجموعہ ہے۔ وہ تعزیہ جسے روضۂ سید الشہداء امام عالی مقام حسین مجتبی سمجھا جاتا ہے، عوام کی اپنی تراش ہوتی ہے، جسے روضہ پاک سے کوئی مشابہت نہیں ہوتی، بلکہ اپنی من گھڑت ہوتی ہے، جسے روضہ امام جانتے اور امام کی تشریف آوری کا محل سمجھتے ہیں، یہ خیال خود باطل ہے۔ (۲) پھر اس میں کہیں پری کہیں براق کہیں دلدل گھوڑے کی تصویر ہوتی ہے جو حرام ہے۔ حدیث میں ہے: ان اشد الناس عذابا عند الله المصورون (۱) سب سے زیادہ عذاب الہی کے مستحق جاندار کی تصویریں بنانے والے ہیں۔ اور حدیث میں ہے: انا لا ندخل بيتافيه صورة ولا كلب (۲) یعنی ہم فرشتے اس گھر میں نہیں آتے جس میں تصویر یا کتا ہو۔ اس حدیث سے اس خیال باطل کا بطلان ظاہر جو اوپر مذکور ہوا اور یہیں سے اس اشتہار سراپا جہالت کے اس دعوی کا رد ہو گیا جو اس نے کیا کہ چونکہ اس کی نسبت ہے روضہ پاک سید الشہداء آقائے گلگوں قبا جناب امام حسین علیہ السلام سے۔ الخ“ کہ موجودہ تعزیوں کو اصلاً روضہ پاک سے مشابہت نہیں ہوتی ، اپنی من گھڑت کو روضہ امام سمجھنا محض وہم پرستی اور اسے روضہ پاک سے نسبت بتانا افتراء ہے اور دونوں حرام ہیں۔ (۱) (۲) مشكوة المصابيح باب التصاوير الفصل الاول، ص ۳۸۵، مجلس برکات صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب كراهية الصلوة في التصاوير ۸۸۱ مجلس برکات قال تعالى : اور فرماتا ہے قرآن: (وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ) وہ تو یونہی انکلیں دوڑاتے رہیں۔ (قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى) مفتری خائب و خاسر ہوا۔ تو اس کے جواز پر جو آیت کریمہ ان الصفا والمروة من شعائر اللہ “ پڑھی، بے محل پڑھی۔ تعزیہ کی اصل صرف اس قدر تھی کہ روضه سید الشہداء امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی صحیح نقل بنا کر گھروں میں رکھتے ، یہ ضرور تعظیم شعائر الہی ہوتا اور خیر و برکت کا موجب ہوتا۔ اس تعزیہ کا گشت ڈھول تاشوں، باجوں کے ساتھ ۔ اس میلے میں عورتوں اور مردوں کا اختلاط، تعزیہ داری کے نام پر بیہودہ کھیل کود، رقص و سرود وغیرہ خرافات کو تعزیہ داری کہا جاتا ہے تو ان جہلاء کے نزدیک تعزیہ داری کی اصل یہی ٹھہری اور یہ مجموعہ محرمات ہے جس کی بابت اشتہار مذکور صاف دعویٰ کرتا ہے کہ بالکل جائز ہے۔ جو شریعت مطہرہ پر افتراء بلکہ احکام شرع کا خلاف اور محرمات قطعیہ کی حرمت کا انکار ہے اور یہ کفر ہے۔ حدیث میں ہے: من كفر بآية من القرآن فقد كفر جس نے ایک آیت کو جھٹلایا وہ کافر ہے۔ اشتہار مذکورہ عورت و مرد کا اجتماع رقص ولہولعب حرام تصاویر مزامیر ممنوعہ کو جائز نہ ٹھہرایا، ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ اور اس کی بابت جو کچھ جالی وار نے علی شاہ صاحب علیہ الرحمہ وغیرہ کی طرف منسوب کیا، نا قابل اعتبار ہے، اس پر کان نہ دھرا جائے گا، سنت کہنا تو در کنار کہ بے ثبوت شرعی کسی مسلمان کی طرف گناہ کی نسبت حرام وناجائز ہے۔ امام علامہ محمد غزالی قدس سرہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں: لا يجوز نسبة مسلم الى كبيرة من غير تحقيق (1) مدعی پر لازم کہ ثابت کرے کہ یہ ان حضرات کا کلام ہے جو انہوں نے ہوش میں نہ کہ سکر کے جوش میں کیا ہے ورنہ اصلاً مسموع نہیں۔ آگے اشتہار نے جن دشنام طرازیوں اور بہتانوں سے اہلسنت کے علمائے کرام کو نوازا ہے وہ اس کا حصہ ہے اور اپنے دشمن اہل سنت قائل به رفض یا کھلا رافضی ہونے کا اقرار ہے، ان دشنام طرازیوں اور بہتانوں سے ہمیں کام نہیں، ان بہتانوں کے لئے یہی بس ہے کہ الا لعنة الله علی الکاذبین۔ مگر وہ جو اشتہار نے کہا کہ اگر محض اس بنیاد پر تعزیہ داری ناجائز ہے کہ شیعہ لوگ کرتے ہیں اس لئے سنی تعزیہ داری نہ کریں تو شیعہ نماز بھی پڑھتے ہیں۔ الخ ، اس کا جواب یہ ہے کہ اشتہار نے اتنا تو قبول دیا کہ یہ شیعہ کا طریقہ ہے، اب اس پر لازم تھا کہ تعزیہ کی خوبی شریعت سے ثابت کر دیتا پھر نماز وغیرہ امور کا نام لیتا اور یوں کہتا کہ شیعہ سے تشبہ امور خیر میں نہیں ہوتا بلکہ امور مذمومہ میں اور تشبہ کی نیت سے ہوتا ہے۔ اور یہیں سے اس کا جواب حاصل کہ نماز روزه نه امور مذمومه نه ان روافض کا شعار ہیں نہ ان میں کوئی سنی ان سے تشبہ چاہتا ہے شیعہ کی نماز و روزہ وغیرہ کو ہر سنی باطل محض جانتا ہے، جیسا کہ قرآن عظیم کا ارشاد ہے: وَقَدِمْنَا إِلَى مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ - الآية (٢) اور تشبہ کے لئے اس امر کا کفار کا شعار وامر مذموم ہونا با نیت تشبہ ضروری ہے۔ در مختار میں ہے: فان التشبه بهم لا يكره في كل شئ بل في المذموم وفيما يقصد به التشبه (۳) احیاء علوم الدين كتاب آفات اللسان الأفة الثامنة اللعن، ج ۵، ص ۴۴۸ ، دار المنهاج سورة الفرقان : ۲۳ الدر المختار، کتاب الصلوة، باب ما يفسد الصلوة الخ، ج ۲، ص ۳۸۴، دار الكتب العلمية، بيروت شرح فقہ اکبر میں ہے: انا ممنوعون عن التشبيه بالكفرة واهل البدعة فى شعارهم لا منهيون عن بدعة ولو كانت مباحة سواء كانت من افعال اهل السنة أو من أفعال الكفرة وأهل البدعة سکھوں کی طرح داڑھی چڑھانا اور ان کی طرح پگڑی باندھنا بھی اس لئے ناجائز ہوگا اور نسبندی کے متعلق علمائے اہلسنت نے جواز کا فتویٰ ہرگز نہ دیا ، یہ ان پر افتراء ہے۔ علمائے اہلسنت نے اس زمانے میں بھی جب اس بلا کا زور تھا نسبندی کو نا جائز وحرام ہی فرمایا اور بریلی سے عدم جواز کا فتویٰ مشتہر خاص و عام ہوا۔ فللہ الحمد ۔ اور تعزیہ داری کو ہزاروں سال سے رائج بتانا اشتہار کا سفید جھوٹ ہے۔ ہزاروں برس تو شہادت امام کو نہ ہوئے تو کیا امام کی پیدائش سے پہلے تعزیہ داری ہوئی۔ ولا حول ولا قوة الا باللہ العلی العظیم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) کسی کے نزدیک مروجہ تعزیہ داری جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) حکم گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) کذاب ومفتری ہے اور اہانت علماء کے سبب اس پر حکم کفر ہے۔ اشباہ میں ہے: الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر واللہ تعالیٰ اعلم (1) شیعان زمانہ منکر ضروریات دین مرتد بد دین ہیں، جو ان کے عقائد کفریہ جان کر انہیں مسلمان کہے، خود کا فر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم تحسین رضا غفرلہ شب ۲۷ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ