ضبط تولید (نسبندی) کا شرعی حکم اور عزل و اسقاط حمل سے اس کا فرق
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ (1) زید کا قول یہ ہے کہ ضبط تولید نسبندی جائز ہے، اس پر چند دلیلیں ہیں۔ دلیل اول: چونکہ یہ قتل اولاد کی ممانعت میں داخل نہیں ہے اس لئے کہ قتل کا اطلاق ذی روح کو مارنے پر ہوتا ہے اور نسبندی میں استقرار حمل سے روکنا ہے نہ کہ قتل ہے، نسبندی نسبندی ہے ۔ دلیل ثانی: ضبط تولید عزل کی طرح جائز ہے۔ دلیل ثالث: جبکہ اعضا بننے سے پہلے اسقاط حمل جائز ہے تو نسبندی تو بدرجہ اولی جائز ہوگی چونکہ اس میں اسقاط حمل نہیں بلکہ استقرار حمل سے روکنا ہے۔ لہذا اگر نسبندی نا جائز وحرام ہے تو جواب بحوالہ کتب معتبرہ مدلل محقق مفصل عنایت کیا جائے ۔ (۲) عزل کے باوجود بچہ پیدا ہوا تو ثابت النسب ہوا یا نہیں ؟ بحوالہ کتب معتبرہ مدلل محقق مفصل جواب عنایت فرمائیں۔ (۳) نسبندی کے بعد بچہ پیدا ہوا تو ثابت النسب ہوگا یا نہیں؟ کتب معتبرہ سے مدلل محقق مفصل جواب مرحمت فرمائیں۔ المستفتی: جمیل احمد رضوی
الجواب: (۱) نہیں ۔ نسبندی شریعت مطہرہ میں اشد کبیرہ عظیم گناہ بلکہ مجموعہ کبائر ہے۔ اولاً وہ خود تغییر خلق اللہ ہے اور تغییر خلق الله به نص قطعی قرآن عظیم حرام شیطانی کام ، شیطان نے اللہ عزوجل سے عرض کیا تھا: یعنی میں انسانوں کو حکم دوں گا تو وہ چوپایوں کے کان کاٹیں گے اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلیں گے۔ ثانیاً یہ کبیرہ عظیمہ حریمہ شدیدہ بے آپریشن کے ممکن نہیں ، اس میں بے ستری ہونا ضروری ہے اور یہ دوسرا کبیرہ عظیم گناہ ہے اور اگر کافر کے سامنے ہو، عموماً یہی ہوتا ہے تو اور بھی سخت حرام کہ کافر کے سامنے مسلمان کی اہانت ستر یہ خود کبیرہ ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ثالثاً یہ آپریشن کہ بلا ضرورت شرعیہ جسم کو ایذا پہنچانا ہے۔ رابعا پھر یہ بے نشہ کے نہیں ہوتا تو بلا ضرورت شرعیہ چوتھے گناہ کا ارتکاب ہے۔ عن ام سلمه نهی رسول الله صلی الله تعالی علیه وسلم عن كل مسكر و مفتر یہاں سے ظاہر ہے زید بے قید نسبندی جیسے بین حرام کو حلال بتا تا ہے محض باطل ہے جس سے اس پر تو بہ لازم ہے، اس کا عزل پر قیاس کرنا جائز نہیں کہ عزل میں اصلاً ارتکاب محظور شرعی نہیں ، اور اس میں اسے محظورات کا ارتکاب لازم ہے پھر عزل بھی مطلقاً جائز نہیں بلکہ بیوی کی اجازت سے بہ ضرورت جائز ہے اور اعضا سے پہلے اسقاط حمل کے متعلق اس نے جو دعویٰ کیا مسلم نہیں ، ہم کہیں گے کہ یہ فعل بھی بلا ضرورت شرعیہ نہیں۔ لا جرم امام فقیہ انفس قاضی خان نے صورت پکڑنے سے پہلے بلا عذر حمل ساقط کرنا حرام فرمایا ہے، کمافی رد المحتار بالجملہ نسبندی حرام ہے اور مقصود شارع علیہ السلام کہ کثرت نسل ہے کی ضد ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲، ۳) بچہ ثابت النسب ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم تحسین رضا غفرلہ لقد اصاب من اجاب دار الافتاء منظر اسلام محله سوداگران، بریلی شریف محمد خلیل الرحمن رضوی پورنوی