مسجد کے کمرے پر ناجائز قبضہ اور پیش امام کی رہائش میں رکاوٹ کا معاملہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے پاس مسجد کی عمارت کا ایک کمرہ قریب پندرہ سال سے کرایہ پر تھا اور دو کمرے بغرض ضرورت مسجد کے پیش امام کی رہائش اور دیگر سامان وغیرہ کے رکھنے کے واسطے تھے لیکن مسجد کی آمدنی قلیل ہونے کی وجہ سے متولی صاحب نے دوسرا کمرہ بھی زید کو کرایہ پر عرصہ سات سال سے دے رکھا تھا، زید متولی صاحب کا قریبی دوست تھا، اب تیسرا کمرہ پیش امام کی رہائش کے لئے چھوڑا گیا اور پیش امام صاحب اس تیسرے کمرے میں برابر رہائش پذیر رہے۔ ابھی غالبا ایک سال قبل پیش امام صاحب اپنے گھر چلے گئے اور چابی متولی صاحب کو دے گئے ، متولی صاحب نے بغیر کمیٹی کے مشورہ کے تیسر ا پیش امام صاحب کا کمرہ بھی زید کو کرایہ پر دے دیا اس پر کمیٹی کو اعتراض ہوا پھر متولی صاحب سے مسجد کا حساب و کتاب طلب کیا گیا ، متولی کے حساب میں قریب ۸-۱۹ ہزار روپیہ کا فرق نکلا، مجبور و نا چار متولی صاحب کو بدلنا پڑا، جب نئی کمیٹی آئی تو متولی سے کہا گیا کہ پیش امام صاحب کا کمرہ خالی کرایا جائے تو زید سے کہا گیا کہ پیش امام صاحب کا کمرہ خالی کر دو اور دو کمرے اپنے استعمال میں رہنے دو کیونکہ پیش امام صاحب کے بیوی بچوں کو پریشانی ہوتی ہے اور بے پردگی وغیرہ ہوتی ہے تو زید نے کہا کہ میں نے تو متولی صاحب سابقہ سے کمرہ کرایہ پر لیا ہے، میں خالی نہیں کروں گا، اس سے التجا کی گئی لیکن زید بر کار میں پریشان کیے ہوئے ہے اور خالی نہیں کرتا جبکہ دو کمرہ ہی اس کے لئے کافی ہیں مفصل جواب تحریر فرمائیں۔ ممبران کمیٹی مسجد داتا گنج ، بریلی شریف
الجواب فی الواقع جبکہ زید کو تیسرے کمرے کی ضرورت نہیں تو اس کا اس کمرے کو خالی نہ کرنا محض شرارت و ایذائے امام ہے اور یہ سخت بد کام بد انجام ہے۔ حدیث شریف میں ہے: (من اذى مسلما فقد اذانی و من اذانى فقد اذى الله و من اذى الله یوشک ان یا خذه ) جس نے کسی مسلمان کو ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ کو ناراض کیا اور جس نے اللہ کو ناراض کیا عنقریب اللہ اسے پکڑے گا۔ زید پر لازم کہ ایذارسانی سے باز آئے اور کمرہ جلد خالی کر دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (1) کنز العمال، كتاب المواعظ والرقائق ، ج ۱۲، ص ۵ ، حدیث ۴۳۶۹۶، دار الكتب العلمية، بيروت