مروجہ تعزیہ داری، محرم کے اعمال، مسجد کے دروازے، زمین کا رہن اور میت کے نتیجہ کی فاتحہ سے متعلق احکام
(۲) ایک طرف تو کہتے ہیں کہ ہم سنی ، ہم بریلوی ہیں، ایک طرف تعزیہ داری، تاشہ بجاتے ہیں، میلے لگائے جاتے ہیں۔ کیا یہ رسومات سنی جماعت کے ہیں ؟ تعزیہ داری شیعہ فرقہ کا کام ہے اور اگر سنی حضرات تعزیہ داری کریں تو کیا یہ شیعہ لوگوں کی اتباع نہیں ہوئی ؟ تو حضرت صحیح قرآن وحدیث وروایت فرمائیں کہ ایسا کرنے والوں کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ (۳) ماہ محرم الحرام میں دس تاریخ تک ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ فرمائیں (۴) کیا مسجد کے دروں کے کیواڑ جگہ تنگ ہونے کے سبب بند کیے جائیں؟ جبکہ برآمدے میں بھی جماعت ہو رہی ہے۔ ایسی حالت میں دروازے بند کر سکتے ہیں یا نہیں؟ (۵) کیا حضور دور حاضر میں مسلمان مسلمان کی زمین رہن پر رکھ سکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ ان کا لگان وغیرہ بھی موصوف ادا کرتے ہیں۔ مسلمان کی زمین سے اہل ہنو د فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ (1) جس شخص کا انتقال جمعہ کے دن ہو اور دفن ہفتہ کو تو نتیجہ کی فاتحہ دفن کے لحاظ سے کی جائے گی یا انتقال کے؟
الجواب: (1) مروجہ تعزیہ داری جو گانے بجانے اور اختلاط مردوزن اور تعزیہ میں من گھڑت اور حرام تصاویر اور دیگر محرمات شرعیہ پر مشتمل ہوتی ہے، بلا شبہ حرام حرام بد کام بدانجام ہے اور ان امور میں سے ہر ایک کا منکر و مخالف شرع ہونا عوام وخواص میں مشتہر ہے۔ با ینہمہ علمائے اہلسنت بالخصوص امام اہلسنت اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز نے اس مجموعہ محرمات کا بھی حکم مستقلا تحریر فرمایا تفصیل کے لئے رسالہ تعزیہ داری سید نا اعلیٰ حضرت قدس سرہ دیکھا جائے اور یہ کہنا کہ علماء اسٹیج پر منع کیوں نہیں کرتے افتراء اور خوئے بد کا بہانہ ہے اور تسلیم عذر یہ بات اپنی جگہ ہے کہ ایسے واضح مسئلہ کے باب میں علماء کے واضح بیانات وارشادات کے بعداب بیان کی کیا حاجت ہے؟ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) سخت گنہ گار مستحق نار ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) حضرات شہدائے کربلا کی ارواح طیبہ کے لئے نیاز وفاتحہ بہ طریقہ شرعیہ اور صحیح روایات کے ساتھ طریق شرعی پر ذکر شہادت کریں ، عاشور و شریف کا روزہ رکھیں ۔ واللہ تعالی اعلم (۴) بلا وجہ بند نہ کرنا چاہئے اور اگر بند کرنے کے سبب اندیشہ یہ ہو کہ پیچھے والوں پر امام کا حال مشتبہ ہو جائے گا تو کھلا رکھنا ضرور ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) رہن رکھ سکتا ہے مگر رہن سے راہن یا مرتہن کو فائدہ اُٹھانا جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) تیجہ کی فاتحہ دفن کے تیسرے دن ہوتی ہے، انتقال کے تیسرے دن بھی کر سکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۵ رذی الحجہ ۱۳۹۸ھ