مروجہ تعزیہ داری، پنجے بٹھانے کی شرعی حیثیت اور علمائے کرام کے فتاویٰ کے نفاذ سے متعلق سوالات
(۳) مفتی حضرات تعزیہ رکھنا وغیرہ حرام و ناجائز لکھتے ہیں، فتویٰ نافذ کئے مگر تعزیہ رکھنا پنجے رکھنا بند نہ ہوا جو احکام ہوں انکے بارے میں مفتی فتویٰ دیتا ہے۔ ان احکامات کے لوگوں میں نفاذ کرانے کے اہل ہوا کرتے ہیں، اہل ہونا ان احکامات کو پہچانے یا جاری کرانے کے لئے حاکموں یا بادشاہ اسلام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اہل ہونا شرط ہے ان کے نہ ہونے سے ان کی حدیں قائم نہیں ہوتیں۔ مندرجہ بالا مفہوم زید کے شائع کردہ اشتہار کا ہے جس کا نام اظہار حق ہے۔ سوالات: (1) ماہ محرم میں شہدا کربلا کی یاد میں مسلمان سینکڑوں سال سے پنجے بٹھاتے آئے ہیں تا کہ ان کی یاد قیامت تک باقی رہے۔ اگر ایسا ہے تو سید عالم حضور ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ عظام، ام المومنین کوتا قیامت یا درکھنے کے لئے کیسے کیسے اور کس قسم کے پنجے بٹھائے جائیں؟ (۲) کیا مروجہ تعزیہ داری کو حرام و ناجائز لکھنے والے مفتی طفل مکتب ہیں ؟ کم علم ، نادان و جاہل ہیں ؟ (۳) افتاء کا کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے چلا آیا ہے اور آج تک جاری ہے۔ نعوذ باللہ کیا حضور بھی ان کے قلم کی زد میں آگئے؟ (۴) کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا؟ کیا کبھی کسی زمانے میں ایسی مثال ملتی ہے کہ غیر شرعی عمل کو بند کرانے کے لئے تمام علماء نے ہاتھ میں ڈندے لے کر گلی گلی ،نگر نگر گھوم کر روکا ہے؟ از جانب سائل : ہاشم علی باویری پیٹھ رضوی از هری انڈی گلی ، مرتجیا نگر ، دھاڑ واڑ ، کرناٹک، پن 580006
الجواب: مروجہ تعزیہ داری کہ ڈھول تاشے باجوں اور پنجوں اور روضہ سید الشہداء رضی اللہ عنہ کی خیالی تصویر سے عبارت ہے اور جن میں براق وغیرہ جاندار کی تصویریں بھی ہوتی ہیں، بلاشبہ نا جائز وحرام بلکہ مجموعہ محرمات ہے۔ یہ امور شریعت محمدی علی صاحبہا الصلاة والسلام میں ناجائز وحرام ہیں اور علمائے کرام ان احکام کی تبلیغ میں مصطفیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کے نائب اور امین ہیں، انہیں جاہل و نادان کہنا اور ان کا استہزا نبی علیہ الصلاۃ والسلام کو یہ سب کہنا اور ان کا استہزاء ہے اس لئے علمائے کرام کی اہانت پر حکم کفر ہے۔ اشباہ میں ہے: الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر ) الاشباه والنظائر كتاب السير باب الردة ، ج ۲، ص ۲۱۵ ، دار الكتب العلمية، بيروت قائل پر تجدید ایمان لازم ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور اچھے کھانے اچھی نیت سے پکانا کھلانا اور اچھے کپڑے اپنے بچوں عزیزوں مسکینوں کو دینا یہ امور خیر و کار ثواب ہیں، انہیں سوائے وہابی کے کوئی منع نہیں کرتا اور علماء کا کام ڈنڈے لے کر گھر گھر بتانا نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۷ /رمضان المبارک ۱۴۱۰ھ