جھوٹے الزامات، زبردستی نکاح اور امامت سے روکنے کے خلاف شرعی حکم
جھگڑا بچ گیا بلکہ پولیس افسران نے پر دھان جی اور ساتھی کو ڈانٹ پھٹکار کی ، دوسری نماز کی وجہ سے ۔ تھانہ کے پولیس افسر کے چلے جانے کے بعد جب کچھ بس نہ چلا تو ایک جھوٹی تہمت میرے لڑکے پر لگادی کہ محمد اسحاق پیش امام کے لڑکے کے مسماۃ نور جہاں سے تعلق غلط ہیں، ان کا لڑکا کہیں چلا جائے یا نکاح کر لے مسماۃ نور جہاں بیوہ سات سال سے بیٹھی ہے کسی قسم کی کوئی خرابی اس کے اندر نہیں ہے مگر اس کو بھگانا مقصود ہے تا کہ جائیداد و مکان وغیر ہل جائے ۔ اصل میں اب تک بھگا دیتے بیوہ نے رو کر مجھ سے مدد مانگی جس کی وجہ سے وہ اپنے شوہر کی جائیداد پر قابض ہے۔ اب یہ سب کہتا ہے، حضرت کسی نے دیکھا نہیں نہ کوئی ثبوت ہے محض حسد و بغض کی بنا پر یہ ہوا، انچارج تھانہ نے بھی تائید کی انچارج پر دھان کا کہنا ہے کہ نکاح کر لو یا لڑکے کو الگ کر دو میں نے اپنے لڑکے کو الگ کر دیا پھر بھی وہی بات کہی جاتی ہے۔ میرے لڑکے نے ابھی امتحان آئی ٹی آئی کا دیا ہے۔ دوسری طرف دوسرے ملک جانے کے لئے فارم بھرا ہے، اگر منظوری آئی تو لڑکا ، ارسال کم از کم پانچ سال پر دیس رہے گا۔ میں شادی کیسے کروں جبکہ لڑکا تیار نہیں اور لڑکی کہتی ہے مجھے جب تک بیٹھ ملے میں بیٹھی رہوں گی اگر شادی کرنا ہوگی تو یہاں بھی کر سکتی ہوں میں خود مختار ہوں۔ پردھان جی مکان لینا چاہتے ہیں، وہ ان کو دینا نہیں چاہتی اور اس کے سسرال والے بھی جائیداد کی بنا پر الزام رکھتے ہیں۔ لگ بھگ سات سال سے لڑ کی بیٹھی ہے نہ تو کوئی رپورٹ ہے نہ مدعی ہے، محض ذاتی رنجش کی بنا پر جیسے قتل کی برائی وسزا، ۲ رووٹ نہ دینے کی خلش ، ۳ عید کی نماز الگ پڑھنے ، مار پیٹ گالی گلوچ کا انتقام لینے کی خواہش جو کہ کئی سال سے پردھان چاہ رہے ہیں۔ ۴۔ بیوی کی جائیداد پر ناجائز قبضہ ۴ باتیں صاف ظاہر ہیں، کیا پر دھان جی انچارج کو اختیار ہے کہ زبردستی نکاح کرا دیں یا بغیر کسی ثبوت کے لڑکے کو شہر بدر کر دیں۔ ایک تحریر لکھی گئی ابھی، وہ یہ ہے پیش امام محمد آصف کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے دوسرا مولوی یہاں آئے گا۔ ان کا لڑکا نکاح کرے یا الگ رہے آج ۱۴ اردن ہوئے میرا لڑکا گھر پر نہیں ہے، تیسرا جمعہ آنے والا ہے اور اب سارے نمازی غائب نماز تو اسلام میں ہر مسلمان پر فرض ہے جو کسی کو کسی حالت میں معاف نہیں جمعہ کی بابت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور فضیلت آئی ہیں، مگر پڑھنا پڑھانا کچھ نہیں صرف دو رکعت ہے ایسی حالت میں پردھان جی اور ان کے ساتھیوں اور مدد کرے اس کے لئے کیا حکم ہے؟ پر دھان معہ ساتھیوں کے خلاف کارروائی عدالت کرنے کا
المستفتی: صوفی محمد الحق خاںپیش امام مسجد خانقاہ جہانگیریگر د یو کھیڑا ، منگل منبع لکھیم پورپر دھان مذکور کے بابت جو باتیں لکھی گئیں وہ باتیں اگر واقعی ان پر شرعا ثابت ہیں تو وہسخت ظالم جفا کار حق اللہ وحق العباد میں گرفتار ہیں، تو بہ کریں ورنہ ہر واقف حال مسلم انہیں چھوڑدے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم