ماہ محرم میں پنجے بٹھانے، ہاتھوں کی لکیروں سے ستارہ بتانے اور بغیر عمامہ نماز کا حکم
ہاتھوں کی لکیروں اور نام کے ذریعہ کسی کا ستارہ بتانا از روئے شرع کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسائل کے متعلق کہ: (1) ماہ محرم میں جو پنجے وغیرہ بٹھائے جاتے ہیں ان کی اصل مسلک اہل سنت والجماعت میں کہاں سے ہے بٹھانا اور گشت کرانا جائز ہے یا نہیں؟ مفصل و مدلل جواب عنایت فرمائیں کیونکہ ایک کتابچہ ملا ہے جس میں تحریر ہے کہ پنجے شعائر میں داخل ہیں، بیعت رضوان کی آیات بطور دلیل پیش کرتے ہیں اور يد الله فوق ایدیهم “ اور حدیث شریف اسی کے مطابق ”الحسین منی و انا من الحسین“ سے تعبیر کر کے اتنی جسارت کی گئی ہے کہ حسین کا پنجہ رسول کا پنجہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا پنجہ اللہ کا پنجہ ہے، انکار کرنا یا روکنا کفر ہے، اس سے عوام میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے کہ آخر حق اور باطل میں کیسے فرق کیا جائے؟ (۲) ہاتھ کی لکیروں اور نام کے ذریعہ کسی کا ستارہ دیکھ کر حالات بتانا از روئے شرع جائز ہے یا نہیں؟ ایسے امام کی اقتدا کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ (۳) بغیر عمامہ باندھے ٹوپی پر نماز پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ عمامہ باندھنا ہر مسلمان کے لئے سنت ہے یا صرف امام کے لئے ؟ واضح جواب سے سرفراز فرمائیں۔ (۴) سورۃ الفتح کے اخیر رکوع کو نماز میں تلاوت کیا جائے اور رکوع و سجود کر کے دوسری رکعت میں بقیہ آیات پڑھی جائیں تو کیا نماز مکروہ ہوگی؟ فقط لمستفتی : حافظ قد براحمد، کرناٹک
الجواب: (1) خود ساختہ پنجوں کو پنجہ حسین سمجھنا جہل عظیم ہے اور اس کی تعظیم کرنا اپنے منگھڑت جھوٹ کی تعظیم ہے، ان پنجوں اور علم وغیرہ کو اُٹھانا ہر گز جائز نہیں اور اسے روکنے کو کفر بتانا، یہ بتانے والا خود کافر ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان میں کا ایک کافر ہے، اگر وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہا تو وہ کافر ہے ورنہ کفر کہنے والے پر لوٹے گا اور اس جگہ بیعت رضوان کی آیات پڑھنا بے محل اور سخت منع ہے۔ حسنین کا پنجہ ضرور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا پنجہ ہے مگر اس نے خود ساختہ پنجہ کوحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پنجہ ٹھہرایا اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے، اس کا ویسا ہاتھ نہیں جیسا ہمارا ہاتھ ہے اور حسین منی و انا من الحسین “ حدیث بھی بے محل پڑھی، بالجملہ مصنف کتا بچہ کی جہالت ظاہر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ناجائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) عمامہ باندھنا مستحب ہے بغیر عمامہ کے بھی نماز بلا کراہت جائز اور عمامہ باندھ کر بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ) پر وقف کر کے رکوع کر لیا اور دوسری رکعت میں بقیہ آیات پڑھیں، کچھ برا نہ کیا تو نماز مکروہ کیوں ہوگی؟ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی