ایک تکفیری فتوے کی تصدیق
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس فتویٰ کے بارے میں جو مع خط اس کے ہمراہ ہے۔
اس خط اور فتویٰ سے حافظ محمد زاہد حسین مذکور پر کفر ثابت ہے یا نہیں؟ خلاصہ مع وضاحت قرآن وحدیث کی روشنی میں جلد تر جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔ الجواب: المستفتی: فقیراحمد علی رضوی مقام مہرہ، ڈاکخانہ جلیشور، ضلع مہوتری ( نیپال) فتوی ملاحظہ ہوا، اس میں جو حکم کفر دیو بندیوں پر دیا اور ان کے کفر میں جو واقف حال شک کرے اور جو انہیں مسلمان جانے اور جو انہیں مقتداء و پیشوا و پیر بتائے ایسے لوگوں پر جو حکم فتوئی ارشاد ہوا کہ وہ بھی انہیں کی طرح کا فر و مرتد بے دین ہیں، حق وصواب ہے فاضل مجیب ادامہ اللہ القریب المجیب نے حکم احکم کو خوب خوب مبین و مبرہن فرمادیا ، ہمیں زاہد حسین وغیرہ کسی شخص معین سے کوئی غرض نہیں ہے۔ دیو بند یہ و غیر ہم کھلے مرتدین کو جو مسلمان جانے بلکہ جو اُن کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ علمائے حرمین شریفین و مصر و شام و ہند وسندھ کے نزدیک بالا تفاق کا فر ہے اور جو انہیں ان کے کفر پر مطلع ہو کر کافر نہ جانے وہ بھی کا فر ہے اور ایسوں سے بیعت ہونا، انہیں مقتدا اور لائق تعظیم جانا کفر ہے۔ در مختار میں ہے: تبجيل الكافر كفر ) خط بدقت پڑھا گیا اس لئے کہ فوٹو دھندلا ہے اور تحریر گنجلک اور خراب ہے مگر اتنی بات واضح ہے کہ وہ شخص پھلواری والوں کے مسلک سے باخبر ہے، پھر بھی انہیں بہتر جانتا ہے تو اس کا وہی حکم ہے جو فتویٰ میں تحریر ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب ۲۲ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۸ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی الدر المختار باب الاستبراء، ج ۹، ص ۵۹۲، دار الكتب العلمية، بيروت