قربانی کا گوشت کافر کو دینا اور بدعمل شخص پر بزرگوں کی آمد کی حقیقت
کوئی بزرگ کسی پر سوار نہیں ہوتے! ۲۶ / جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (1) قربانی کا گوشت کسی کا فرکو دینا عند الشرع کیسا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں مفصل جوار عنایت فرمائیں۔ (۲) اگر زید نے قربانی کا گوشت کا فرکو دیا تو اس کی قربانی ہوگی یا نہیں؟ (۳) اگر کوئی ایسا شخص ہے جو کہ شریعت سے بہت دور یعنی داڑھی منڈا اور نہ نماز نہ روزے کا پابند کیا ایسے شخص پر کوئی بزرگ یا کوئی اچھی شے آسکتی ہے یا نہیں؟
(1) ناجائز ہے کہ کا فر حربی کے ساتھ صلہ شرعاً ممنوع ہے۔قال تعالى: إنما ينفسكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ فَتَلُوكُمْ في الدني. ()اللہ تمہیں ان سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین میں جنگ کی ۔واللہ تعالیٰ اعلم(۲) قربانی ہو جائے گی کہ اس کی صحت کے لئے تقرب الی اللہ کی نیت لازم ہے اور وہ حاصل ۔ واللہ تعالی اعلم(۳) بزرگ کسی پر سوار نہیں ہوتے ، آسیب ضرور ستا سکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم(۴) نہیں یہ ضروری نہیں بلکہ ہر سال یہ اختیار رہے گا کہ گائے وغیرہ میں حصہ لے یا بکرے یا بھیڑ کی قربانی کرے۔واللہ تعالیٰ اعلم