مسجد میں نمازی کی موجودگی میں بلند آواز سے صلوۃ و سلام اور تلاوت قرآن کا حکم
مسجد میں کوئی نماز پڑھ رہا ہو، اس وقت صلوۃ وسلام پڑھنا کیسا؟ (۱) اگر نمازی نماز ادا کر رہا ہوتو کیا مسجد کے اندر صلوۃ وسلام بآواز بلند پڑھا جاسکتا ہے یا نہیں؟ (۲) مسئلہ معلوم ہونے پر بریلی شریف سے اس کے متعلق فتویٰ آچکا ہے کہ صلوۃ وسلام تو کیا، قرآن بھی بلند آواز میں پڑھنا قطعی منع ہے، اگر نمازی نماز ادا کر رہا ہو۔
الجواب: اس وقت صلاۃ وسلام موقوف رکھیں یا اتنی آواز سے پڑھیں کہ نمازی کو تشویش نہ ہو اور نمازی کی رعایت کا حکم اس وقت ہے جبکہ نماز پڑھنے والاسنی صحیح العقیدہ ہو اور اگر تحقیق معلوم ہے کہ وہ شخص نام کا نمازی، دل کا مریض، بد مذہب ہے جو نماز کے بہانے صلاۃ وسلام بند کرانا چاہتا ہے تو اس کی رعایت ہرگز جائز نہیں کہ یہ لوگ اپنے عقائد کفریہ کے سبب کا فربے دین ہیں تو ان کی نماز نماز نہیں اور انہیں مسلمانوں کے مسئلہ فرعیہ میں منہ کھولنے کا حق نہیں، نہ انہیں اہلسنت کی مساجد میں آنا روا اور جو قدرت رکھیں ، انہیں روکنا فرض ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۰ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۵ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی مرکزی دارالافتاء، ۸۲ رسوداگران، بریلی ۲۱ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۵ھ