صلاۃ وسلام کے وقت نمازی کی رعایت اور بد مذہب کی نماز کا حکم
(۳) زید مندرجہ بالا فتویٰ کو جانتے ہوئے بھی اس کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اس کی ضد کرنے پر آمادہ ہے تو فتویٰ کو نہ ماننے کی صورت میں زید کے لئے شریعت مطہر میں کیا حکم ہے؟ المستفتی: اقرار الحسن، اقرار استادٹینٹ ہاؤس، بزریہ نمبر ۱۰، دموه
الجواب: اس وقت صلاۃ وسلام موقوف رکھیں یا اتنی آواز سے پڑھیں کہ نمازی کو تشویش نہ ہو اور نمازی کی رعایت کا حکم اس وقت ہے جبکہ نماز پڑھنے والاسنی صحیح العقیدہ ہو اور اگر تحقیق معلوم ہے کہ وہ شخص نام کا نمازی، دل کا مریض، بد مذہب ہے جو نماز کے بہانے صلاۃ وسلام بند کرانا چاہتا ہے تو اس کی رعایت ہرگز جائز نہیں کہ یہ لوگ اپنے عقائد کفریہ کے سبب کا فربے دین ہیں تو ان کی نماز نماز نہیں اور انہیں مسلمانوں کے مسئلہ فرعیہ میں منہ کھولنے کا حق نہیں، نہ انہیں اہلسنت کی مساجد میں آنا روا اور جو قدرت رکھیں ، انہیں روکنا فرض ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۰ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۵ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی مرکزی دارالافتاء، ۸۲ رسوداگران، بریلی ۲۱ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۵ھ