کسی شخص کو اس کی شہرت کی بنیاد پر عالم یا خطیب کہنے اور اس کی تقریر سننے کا حکم
مشہور خطیب سمجھا جاتا ہے مولوی قاری مقرر وغیرہ اور علماء کا مخصوص سمجھا جاتا ہے ایسے کی تقریر سننا عالم کہنا کیا ہے؟ المستفتی . فقیر قادری ثناء المصطفى ، خادم مدرس اسلامی تر و پر پیتی نمبر ، بھاگلپور (بہار)
الجواب: (۱) تفسیر در منثور و تفسیر کبیر وابوالسعو د و روح البیان وصاوی میں ہے زیر آیت کریمہ: و همین حَوْلَكُمْ مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنْفِقُونَ“ اخرج ابن جریر و ابن ابی حاکم و طبرانی فی الاوسط وابو الشيخ وابن مردويه عن ابن عباس رضی الله تعالى عنهما في قوله وممن حولكم من الاعراب منافقون الآية قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم جمعة خطيبا فقال قم يا فلاں فاخرج فانک منافق فاخرجهم بأسمائهم ففضحهم ولم يكن عمر بن الخطاب رضی الله عنه شهد تلك الجمعة لحاجة كانت له فلقيهم عمر رضى الله عنه وهم يخرجون من المسجد فاختبأ منهم استحياء انه لم يشهد الجمعة وظن الناس قد انصرفوا واختبؤوا من عمر وظنوا انه قد علم بامرهم فدخل عمر رضی الله عنه المسجد فاذا الناس لم ينصرفوا فقال له رجل ابشر يا عمر فقد فضح الله المنافقين اليوم فهذا العذاب اول والعذاب الثاني عذاب القبر (1) یعنی ابن جریر وابن ابی حاتم اور طبرانی معجم اوسط میں اور ابو شیخ و ابن مردویہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے راوی کہ انہوں نے فرما یا ایک جمعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: اے فلاں تو اٹھ نکل جا کہ تو منافق ہے۔ تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے منافقوں کا نام لے لے کر نکالا تو انہیں رسوا فرمادیا اور اس جمعہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شروع سے کسی حاجت کے سبب حاضر نہ تھے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منافقوں کو مسجد سے نکلتے دیکھا تو حضرت عمران سے چھپے اس شرم سے کہ وہ جمعہ میں حاضر نہ تھے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گمان ہوا کہ لوگ جمعہ پڑھ کر چل دیئے اور منافق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے چھپے اور انہیں یہ گمان ہوا کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارا حال جان گئے تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو کیا دیکھا کہ لوگ مسجد سے نہیں گئے ہیں تو ایک شخص نے کہا اے عمر خوشخبری ہو کہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کو سو فر مایا یہ تو پہلا لعذاب ہے اور دوسرا عذاب قبر کا ہے۔ اور اس موقع پر جو منافقین سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے نکالے ان کی تعداد چھتیں تھی۔ اسی در منثور پھر صاوی میں ہے۔ واللفظ للاول: عن ابی مسعود الانصاری رضی الله تعالى عنه قال لقد خطبنا النبی صلی اللہ تعالیٰ عليه وسلم خطبة ما شهدت مثلها قط فقال ايها الناس ان منکم منافقين فمن سميته فلیقم قم یا فلاں قم یا فلاں حتى قام ستة وثلاثون رجلا )) یعنی ابو مسعود انصاری بیلی عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں نبی کریم صلی ا یہ تم نے ایک بار ایسا وعظ فرما یا کہ اس کے مثل وعظ میں نے کبھی نہ دیکھا تو اس خطبہ میں سرکار عالیہ نے فرمایا اسے لوگوں تم میں منافق ہیں تو جس کا نام میں لوں وہ کھڑا ہو جائے۔ کھڑا ہواے فلاں ! یہاں تک کہ چھتیں آدمی اس مجلس سے اٹھے۔ اور ان کے ناموں کی تفصیل میری نظر سے نہ گزری۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہابیہ دیابنہ اپنے عقائد کفریہ کے سبب کا فربے دین ہیں انہیں مسجد میں آنا شرعاً حلال نہیں اور سنیوں کو باوصف قدرت انہیں اپنی مساجد میں آنے دینا ہی حرام ہے۔ چہ جائیکہ وہ مساجد میں سوئیں اور سنی راضی رہیں قال تعالیٰ: مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ أَنْ يَعْمُرُ وا مَسْجِدَ اللهِ . (۲) یعنی کافروں کو نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں۔ اور کافر تو کافر ہیں، مسلمان کہ زبان سے لوگوں کو ایذا پہنچائے اسے بھی مسجد سے روکنے کا حکم ہے۔ تو وہابی دیوبندی کہ شاتم خدا اور سول و بزرگان دین ہیں سخت موذی رسول و مومنین ہیں تو بدرجہ اولیٰ انہیں مسجد سے روکنا لازم ہے۔ در مختار میں ہے: ” ويمنع منه كل موذولو بلسانه ملخصا ) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) زید غلط کہتا ہے اور حکم خدا کو روکتا ہے۔ قال تعالیٰ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِم ... الآية (٢) یعنی اے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کفار و منافقین سے جہاد کرو اور ان پر شدت فرماؤ۔ اسی کے تحت درمنثور میں ہے: عن ابن عباس في قوله (یا ایها النبی جاهد الكفار) قال بالسيف ( والمنافقين) قال باللسان (و اغلظ عليهم ) قال اذهب الرفق عنهم (۳) یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں کہ فرمایا ”جاهد الكفار “ یعنی کھلے کافروں سے بذریعہ شمشیر جہاد فرماؤ ”والمنافقین“ اور منافقوں سے جو ظاہر امومن ہیں اور دل سے کا فر ہیں زبان سے جہاد فرماؤ ” و اغلظ عليهم “ یعنی ان پر نرمی نہ فرماؤ۔ اور اسی میں ہے: اخرج ابن ابی شیبة و ابن ابی الدنیا فی کتاب الامر بالمعروف وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشيخ وابن مردويه عن ابن مسعود في قوله جاهد الكفار والمنافقين قال بيده فان لم يستطع فبلسانه فان لم يستطع فبقلبه وليقله بوجه مكفر (۲) یعنی ابن ابی شیبہ وابن ابی الدنیا کتاب الامر بالمعروف میں اور ابن المنذر وابن ابی حاتم اور ابوالشیخ اپنی سندوں سے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی فرما یا آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ کفار و منافقین سے ہاتھ سے جہاد کرے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دل سے اور بد مذہب سے ترش رو ہو کر ملے ۔ زید بے قید دیکھے کہ اس کی بات اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے احکام کی کیسی خلاف ورزی ہے اور اللہ و رسول جل و علا وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار ومرتدین کے ساتھ کیا معاملت کی تلقین فرمائی ہے اب زید یا کوئی کفار ومرتدین پر شدت اور ان کے رد کو بدلتی سمجھے اور کفار و بد مذہباں کے ساتھ اختلاط و اتحاد کو اچھا جانے اور اپنا ایمان کھوئے تو یہ اس کا سوئے اختیار ہے وہ جانے اور اس کا کام مگر مسلمانوں کو اس سے پر ہیز لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) زید بے قید کا یہ جملہ اس کے غیر سنی ہونے کا کھلا اقرار ہے اور جب وہ سنی نہیں تو وہابی ہو یا دیوبندی ہو کوئی بلا ہو مسلمان نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ اور زید سے میل جول شادی بیاہ جملہ تعلقات حرام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) دیوبندی گستاخ خدا اور سول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم ومنکر ضروریات دین ہیں۔ انہیں ان کے عقائد کفریہ کے سبب علمائے حرمین شریفین وغیرہما نے ایسا کافر فرمایا کہ جو ان کے کفر و عذاب میں دانستہ شک کرے وہ بھی کافر ہے (دیکھو حسام الحرمین) تو دیو بندیوں کو کافر جاننا ایمان ہے اور انہیں عند الطلب کا فر کہنا بھی مومن ہونے کے لیے ضروری ہے اور ان سے چندہ وغیرہ لینا حرام ہے اور ان کے یہاں کا گوشت مردار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) زید اگر بے وجہ شرعی امام کو برا کہتا ہے تو سخت گنہگار ہے۔ اس پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) تبلیغی دیوبندی ہیں اور دیو بندیوں کا حکم گزرا اور مسجد سے اخراج کا حکم اور وجہ جواب نمبر ۲ سے ظاہر ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) دیو بندی کا الزام سراسر بہتان ہے بلکہ کھلا اقرار ہے کہ دیوبندیوں کی کتب میں سرکا را بد قرار علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دی گئی ہیں یہ اس کی دریدہ دہنی ہے کہ دیوبندیوں کی کتابوں کی عبارتیں جنہیں وہ گالی سمجھتا ہے ان کا الزام امام کے سر دھرتا ہے اور سنی کو گالی بکنے سے احتراز چاہئے تھا۔ نہجی کے ذریعہ بتا دیتا تو انسب تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) فی الواقع غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دینا حلال نہیں کہ حربی کافر کے ساتھ صلہ ہے اور یہ شرعاً حرام ہے۔ قال تعالیٰ: إِثْمَا يَنهُكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَتَلُوْ كُمْ فِي الدِّينِ ۔ زید پر تو بہ لازم ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰) سنی کسی مسلمان کو کافر نہیں کہتے اسی کو کافر کہتے ہیں جو منکر ضروریات دین شاتم خدا و رسول جل و علا وصلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم ہو ۔ وہ ہندی ہو خواہ غیر ہندی بے شک کا فر ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (11) ہاں دیو بندیوں کا عقیدہ ہے کہ معاذ اللہ خدائے قدوس جملہ قبائح پر قادر ہے۔ جہد المقل میں مولوی محمود الحسن دیو بندی رقم طراز ہیں: سب جانتے ہیں کہ ذات تعالیٰ شانہ سے افعال قبیحہ کے صدور کی نوبت نہیں آسکتی لیکن افعال قبیحہ کوشل دیگر ممکنات ذاتیہ مقدور باری جملہ اہل حق تسلیم فرماتے ہیں کیوں کہ خرابی ہے تو ان کے صدور میں ہے۔ نفس مقدور بہ میں اصلاً کوئی خرابی لازم نہیں آتی ۔ اگر ہوتا ہے تو کمال قدرت ثابت ہوتا ہے۔ دیو بندیوں کی اور عبارات بھی ہیں جن سے یہ صاف لازم آتا ہے جو اعلیٰ حضرت نے لکھا ہے اور سائل اگر فتاویٰ رضویہ جلد میں رسالہ العقائد والکلام دیکھ لیتا تو مفصل طور پر وجہ بھی معلوم ہو جاتی اور اسے انشراح صدر بھی ہو جاتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۲) اگر فی الواقع وہ شخص عالم نہیں تو اسے وعظ کرنا جائز نہیں اور اس کا وعظ سنا منع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ ۲۳ / جمادی الآخره ۱۴۰۴ھ