مسلمہ عورت کا ہندو کے ساتھ رہنا اور اس سے پیدا ہونے والے بچے کا حکم
کافر کے ساتھ مسلمہ کا رہنا سبب غضب الہی ہے، بے نکاح کسی اجنبیہ کو رکھنا سخت حرام ہے تو بہ لازم، جو بچہ ہندو سے ہندہ کے بطن سے پیدا ہوا وہ مسلمان ہوگا یا کافر؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ: ہندہ قوم مسلم سے ہے، اس کے شوہر بکر کا انتقال ہو گیا۔ بعد انتقال ہندہ نے رامو سے تعلق قائم کر لیا ( جو قوم کا چہار ہے ) یہاں تک کہ رامو کے یہاں رہنے سہنے لگی اور اسی کی نسل سے ہندہ سے ایک بچہ بھی پیدا ہوا۔ اب رامو کا انتقال ہو گیا اس کے انتقال کے بعد ہندہ کو خالد نے بغیر نکاح رکھ لیا۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ : (1) خالد کو اس کی برادری والے کس شرط پر اپنے ساتھ رکھیں؟ اپنے یہاں کھلائیں پلائیں اور خود اس کے یہاں کھائیں پئیں؟ (۲) ہندہ سے نکاح کرنے کے لئے دوبارہ اس کو کلمہ پڑھا کر مذہب اسلام میں داخل کیا جائے گا یا پہلے ہی کا اسلام کافی ہے؟ (۳) جو بچہ رامو سے ہندہ کے بطن سے پیدا ہوا ہے اس کو مسلمان قرار دیا جائیگا یا کافر ؟ مدلل جواب ارشاد فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی افقط ۔ والسلام المستفتی: محمد انصار ٹیلر ماسٹر ، مقام و پوسٹ پٹھان بازار ضلع بستی (یوپی)
الجواب: (۱، ۲، ۳) ہندہ سخت گنہ گار سخت بد کار مستحق عذاب و غضب جبار ومستوجب نار ہے اس پر اپنے سابقہ و حالیہ گناہ سے تو بہ لازم ہے۔ خالد نے فی الواقع اگر بے نکاح ہندو کو رکھا تو وہ سخت مجرم ہے، اس پر بھی تو بہ لازم ہے اور اس سے جدائی فرض ہے اور نہ ترک تعلق کا سزاوار ہے۔ علیحد وہ ہوکر پھر اس سے نکاح اس کی مرضی سے کرے۔ درمختار میں ہے: ،، لونكحها الزاني حل له وطئها (۱) اور ہندہ کے کفر کا حکم نہ ہوگا جب تک کہ کلمہ کفر کا اجرا یا رسوم کفریہ کا صدور جیسے بت کو سجدہ کرنا وغیرہ رسوم شرکیہ کا صدور اس سے بثبوت شرعی معلوم نہ ہو اور تو بہ بہر حال فرض ہے تجدید ایمان کرے تو بہتر ہے اور بچہ کو اس کی تبعیت سے مسلمان ہی قراردیں گے۔ وو والولديتبع خير الابوين ديناً، كما في التنویر (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۶ ذی قعده ۱۳۹۶ھ صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی