داڑھی کتری میلاد خواں سے میلاد پڑھوانے اور فجر کے بعد مصافحہ کا حکم
کیا فجر میں سلام پڑھنے سے پہلے مصافحہ کرنا درست ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: (1) میلادخواں صاحبان کی یا تو داڑھی نہیں ہے یا ہے بھی تو کتری ہوئی۔ اگر ان سے کہا بھی جاتا ہے تو کوئی اثر نہیں ہوتا، کوئی امید نہیں پائی جاتی کہ وہ لوگ داڑھی بڑھا ئیں یا رکھا ئیں، مجبورا انہیں سے میلاد پڑھوائی جاتی ہے۔ وضاحت فرمائیے کہ ان لوگوں سے میلا د پڑھوائی جائے یا پھر ویسے ہی فاتحہ دلوا دی جائے؟ (۲) نماز فجر کے بعد خفی طرح سے سلام پڑھتے ہیں جو لوگ اشراق پڑھتے ہیں وہ بیٹھے رہتے ہیں اور امام کے کھڑے ہونے سے پہلے ہی بیٹے بیٹھے مصافحہ کے لئے اپنے ہاتھ بڑھا دیتے ہیں زید کا اعتراض ہے کہ جب تک سلام نہ پڑھ لیا جائے تب تک مصافحہ نہیں کر سکتے۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ المستفتی بسمیع اللہ خاں، جہان آباد ضلع پیلی بھیت
الجواب: (1) ایسے لوگوں سے میلاد نہ پڑھوائیں باشرع لوگ میلا د پڑھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہ لوگ کیوں بیٹھے رہتے ہیں؟ ایسی جگہ پر موافقت قوم بہتر ہے بلکہ بہت مؤکد ہے خصوصاً جبکہ بدمذہبی کی تہمت متوجہ ہونے کا اندیشہ ہوتو کھڑا ہو جانا ضروری ہے سرکار ابد قرار عالی ام کا ارشاد ہے: (1) ،، اتقوا مواضع التهم ) یعنی تہمت کی جگہوں سے بچو۔ جامع الاحاديث للسيوطي ، ج ۱، ص ۳۳۶، حدیث نمبر ۳۳۶ اور مصافحہ بھی قبل سلام نہ کرنا چاہئے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۰ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۷ھ صبح الجواب ۔ اگر سلام کو نا جائز نہیں جانتا ہے تو موقع ہو تو شریک ہو اور نہ شریک ہوا تو کوئی گناہ نہیں غالباً اشراق پڑھنے والے جگہ سے ہٹنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس لئے بیٹھے ہی مصافحہ کر لیتے ہیں اور سلام سے پہلے بھی مصافحہ کرنا جائز ودرست ہے، یہ ضرور نہیں کہ سلام پڑھ کر ہی مصافحہ کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی