ذکر ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور محفل میلا د و قیام کی شرعی حیثیت اور اس کی اصل
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تبع تابعین تک کسی دور میں آج کل کا مروجہ میلا دو قیام کا ہونا ثابت ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ؟ تو اس پر اتنی سختی سے عمل کیوں؟ قیام و میلاد کا موجد اور بانی اور اس کی اصلیت و حقیقت قرآن وحدیث سے مدلل تحریر فرمائیں؟ المستفتی محمد حسین احمد
ذکر ولادت رسول اور اس کی محفل منعقد کرنا ضرور مندوب ہے،حضور کا ذکر خدا کا ذکر ہے، سب سے پہلے محفل میلا دکس نے منعقد کیا؟ الجواب: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر جمیل ولادت ضرور خوب مندوب ہے اللہ تعالیٰ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ سلم کے ذکر جمیل کو بلند فرمایا: وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ )) حدیث قدسی میں ارشاد ہوا کہ اے محمد کیا جانتے ہو کیسے میں نے تمہارے ذکر کو بلند کیا ، عرض کیا (1) سورة الم نشرح : ۴ اے میرے رب بغیر تیرے بتائے میں کیا جانوں، ارشاد ہوا: جعلتک ذکر آمن ذکری فمن ذکرک ذکر نی (۱) میں نے تجھے اپنی یاد بنالیا تو جس نے تجھے یاد کیا اس نے مجھے یاد کیا۔ خود خدائے وحدہ لاشریک نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر جمیل فرمایا، چنانچہ قرآن عظیم ، بعد حمد الہی حضور صلی یہ ہی کے اوصاف کمال و جمال کا مداح ہے۔ مدارج النبوۃ میں ہے: در حقیقت قرآن ہمہ بعد از حمد وثنائے الہی مبین اوصاف و کمالات اوست ، مصلای ایلام (۴) نیز خود قرآن میں حضور اقدس ملی یہ یتیم کے ظہور و بعثت کا تذکرہ جابجا موجود، قَدْ جَاءَ كُمْ مِّنَ اللهِ نُورُ . (۳) تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور آیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ نور سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، حضرت عیسی علیہ السلام سے حکایت کرتے ہوئے فرمایا: مُبَشِّرًا بِرَسُوْلِ يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمةَ أَحْمَدُ (۳) ایسے رسول کی خوشخبری دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا (صلی اللہ علیہ وسلم ) - حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ذکر خود سنا اور خود فر ما یا بھی ہے۔ حدیث میں ہے: حضرت عباس نے حضور کی اجازت سے حضور کے سامنے اشعار پڑھے ان میں یہ شعر بھی ہے: وانت لما ولدت اشرقت الـ ارض وضاءت بنورک الافق (۵) جب آپ پیدا ہوئے زمین آپ کے نور سے چمک اٹھی اور آسمان روشن ہو گئے۔ نیز خود حضور فرماتے ہیں: كتاب العقائد مسائل شتی لم يزل ينقلني في الاصلاب الكريمة الى الارحام الطاهرة حتى اخر جنى بين أبوى لم يلتقيا على سفاح قط ) اللہ مجھے پاک نسبوں سے پاک بطنوں میں منتقل کرتا رہا یہانتک مجھے میرے ماں باپ سے پیدا فرمایا جنہوں نے بھی زنانہ کیا۔ بالجملہ اصل ذکر ولادت مسنون ہے اور اس پر تمام کتب سیر و احادیث کا ذکر پاک ولادت سے پر ہونا خود شاہد ہے البتہ یہ کیفیت مروجہ منقول نہیں مگر عدم نقل ہر گز نقل عدم نہیں ۔ اسے اس کی دلیل بنا نا سراسر جہالت ہے پر اگر یہ تسلیم بھی کر لیں کہ عدم انقل لنقل عدم ہے جب بھی اس امر کی ممانعت اس سے ثابت نہ ہوگی کہ کسی شی کا نہ کرنا اور ہے اور اس سے منع کرنا اور ۔ فاسقین کے امام الطائفہ اسماعیل دہلوی کے عم نسب وجد طریقت شاہ عبد العزیز صاحب تحفہ اثنا عشریہ میں فرماتے ہیں: ”نکردن چیزے دیگر ست ، و منع فرمودن چیزے دیگر است پر ظاہر کہ کیفیات مثل اجتماع مردم واطعام وطعام اور زینت و آرائش کے اہتمام سے مقصود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور ان کے وجود کی خوشی کا اظہار ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور اظہار فرحت مطلق بلاتخصیص وقت و ہیئت مامور ہے اور شرعاً محبوب ہے تو یہ کیفیات مذکورہ اس مامور بہ مطلق کا فرد ہو کر لا جرم محبوب و مرغوب ہوئیں انہیں بدعت سیئہ بتاناللہ : انصاف تعظیم مصطفی علیہ التحیۃ والثناء سے روکنا نہیں تو اور کیا ہے؟ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ بحمدہ تعالیٰ ہمیں اس قدر کافی کہ یہ کیفیات حکم مطلق کے تحت مندرج ہیں۔ اور جب شرع مصطفی سے حکم مطلق جواز و استحباب معلوم ہوا تو ہر فرد کے لئے ثبوت قولی یا فعلی کی حاجت نہیں باجماع عقل و نقل حکم مطلق اپنی تمام خصوصیات میں جاری وساری۔ اطلاق حکم کے معنی یہ ہیں کہ ماہیت کلیہ کا جہاں وجود ہو اور اس پر حکم کا ورود ہو تو جس قدر خصوصیات وتعینات معقول ہوں سب اسی حکم مطلق میں داخل جب تک کسی خاص کا استثنا شرع مصطفی سے ثابت نہ ہو۔ وہابیہ کے امام میاں اسماعیل دہلوی خود رسالہ بدعت میں لکھتے ہیں: ”در باب مناظرہ در تحقیق حکم صورت خاصہ کیسے کہ دعوی جریان حکم مطلق در صورت خاصہ مبحوث عنہا نماید همانست متمسک باصل کہ در اثبات دعوی خود حاجت بدلیلے ندارد دلیل او ہماں حکم مطلق است (۱) بہر کیف مانعین کہ اس عمل کو بدعت سیئہ بلکہ معاذ اللہ کنہیا کے جنم منانے کے مثل ٹھہراتے ہیں دلیل ان کے ذمہ ہے۔ قرآن وحدیث سے صریح ممانعت اس امر کی دکھا ئیں ۔ مانعین کے حق میں حرف آخر اس باب میں یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی جد نسب اسماعیل دہلوی فیوض الحرمین میں اپنا مکہ معظمہ میں میلاد کی محفل میں شریک ہونا اور اس میں انوار ملائکہ اور انوار رحمت الہی کا دیکھنا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی فتاوی عزیز یہ میں اپنا معمول محفل میلاد پاک منعقد کرنا لکھتے ہیں نیز حاجی امداداللہ مہاجرکی جوا کابردیو بند یہ کے پیر ہیں وہ فیصلہ ہفت مسئلہ میں میلا د پاک کے مستحسن ہونے کا فیصلہ کر گئے اور خود عمل بتا گئے۔ اب مانعین کے فتویٰ سے یہ سب پکے بدعتی و مشرک ٹھہرے کہ نہیں؟ ضرور ٹھہرے۔ اور جب وہ بدعتی و مشرک ٹھہرے تو یہ طائفہ کیونکر بدعت و شرک سے بچے کہ جو بدعتی ومشرک کو اپنا امام و شیخ مانے وہ ضرور ویسا ہی ہے۔ یوں نظر دوڑے نہ برچھی تان کر اپنا بیگانہ ذرا پہچان کر - محفل میلادشریف سب سے پہلے صاحب اربل ملک مظفر ابوسعید کو کبری بن زین الدین علی نے منعقد کی ان کی وفات ۶۳۰ ھ میں شہر ع کا کے محاصرہ میں ہوئی۔ علامہ ابوحامد بن مرزوق مصری رسالہ التوسل بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم وجبتہ الو با بیین» مطبوعہ ترکی استنبول میں فرماتے ہیں: قال السيوطى واول من احدث عمل المولد صاحب أربل الملك المظفر ابو سعید کو کبری ابن زین الدین علی احد الملوك الأمجاد والكبراء الأجواد (۲) (۱) رسالہ بدعت از میاں اسماعیل دہلوی (۲) التوسل بالنبي وانكار جهلة الوهابيين وتكفيرهم لعامة المسلمين بالتوسل به ، ص ۱۰۳ ، برکات رضا، گجرات اسی میں ہے: ”الی ان مات وهو محاصر للافرنج بمدينة عكا، سنة ثلثين وستمأة، محمود السيرة والسريرة-اه (1) یہاں سے معلوم ہوا کہ تقریبا پونے آٹھ سو برس سے محفل میلا دمسلمانوں میں متوارث ہے۔ اسی لئے مسلمان اس پر کار بند ہیں اور چاہئے بھی یہی کہ یہ عمل خود مرغوب پھر تو ارث سونے پر سہا گہ ہے در مختار میں ہے: ” لان المسلمین توارثوه فوجب اتباعهم (۲) واللہ تعالیٰ اعلم قیام تعظیمی بھی صد ہا برس سے مسلمانوں میں متوارث ہے، امام علام تقی الدین علی ابن عبدالکافی اسیکی ( جنکی جلالت شان اور مرتبہ اجتہاد تک رسائی پر اجماع ہے کماصرح بذلک ابن حجر رحمہ اللہ فی الفتاوى الحديث ) نے محفل میلاد میں قیام فرمایا اور آپ کی معیت میں سب حاضرین نے قیام کیا اور اس سے بڑی فرحت حاصل ہوئی کمافی السیرة الحلبية (۴) علامہ سید برزنجی فرماتے ہیں کہ قیام کو ائمہ روایت و درایت نے مستحسن فرمایادہ) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله