میلاد شریف میں حضور کی تشریف آوری اور سلام سے قبل کلام کرنے کی شرعی حیثیت
(۱) حضور میلا د شریف میں کب تشریف لاتے ہیں اور جس وقت آتے ہیں تو آپ کو کیسے معلوم ہوتا ہے؟ مدلل بیان کیجئے ۔ (۲) سلام سے پہلے کلام کرنا کیسا ہے؟ اگر منع ہے تو یا نبی کیوں کہتے ہیں؟ مدلل بیان کیجئے ۔ (۳) تکبیر کہتے وقت کیوں تمام لوگ بیٹھے رہتے ہیں؟ اشھد ان محمدا رسول اللہ کہتے وقت کیوں کھڑے ہو جاتے ہیں؟ مدلل بیان کیجئے۔ (۴) حضور پر نور کا نام سن کر انگوٹھا چومنا کیسا ہے؟ اچھا ہے یا نہیں؟ اگر اچھا ہے تو کیا دلیل ہے؟ بیان کیجئے تا کہ میں وہابیوں کو منہ توڑ جواب دے سکوں۔ انشاء اللہ تعالیٰ مجھے امید ہے کہ آپ میرے سوال کا جواب ضرور بالضر ور عنایت فرما کر عنداللہ مشکور ہوں گے میری جوغلطی ہو اس کو معاف فرمائیے گا۔ فقط ۔ محمد نظام الدین
الجواب: (۱) یہ کسی کا عقیدہ نہیں کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میلادشریف میں ضرور تشریف لاتے ہیں ہاں حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو قدرت دی گئی ہے جہاں چاہیں اور جب چاہیں تشریف لائیں ۔ اہل کشف انہیں اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں جو کہ مدارج النبوۃ وغیرہ کتب سے ظاہر ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ وہابیہ خذ ہم اللہ تعالیٰ کا شبہ ملعونہ ہے جس کے ذریعہ بے چارے عوام کو چھیڑ نا چاہتے ہیں اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر جمیل کو بند کرنا چاہتے ہیں مگر یہ بری ہوس ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُوْرِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ () (۱) یہ کا فر اللہ کا نور بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ اپنا نور تام فرمانے والا ہے اگر چہ کا فرنہ چاہیں۔ اولا۔ یہی مسلم نہیں کہ سلام سے پہلے کلام کرنا منع ہے، اس کی بنیا د افترا پر ہے۔ وہابیہ مدعی ہیں تو دلیل لا ئیں۔ (۱) سورۃ الصف: ۸ ثانیا۔سنیوں پر یہ بہتان رکھتے ہیں کہ سنیوں کا عقیدہ ہے کہ حضور علیہ السلام میلاد میں تشریف لاتے ہیں حالانکہ یہ عقیدہ سنیوں کا نہیں۔ ثمان ۔ وہ حکم کہ سلام پہلے کرے پھر کلام کرے سلام ملاقات کا ہے اور یہ سلام ملاقات نہیں بلکہ تعظیمی ہے اور تعظیم قیام سے بھی ہوتی ہے اور وہ ملاقات پر موقوف نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ جو مدعی ہوں دلیل دیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اشهد ان محمدا رسول اللہ پر کھڑے ہونے کا حکم نہیں بلکہ امام و مقتدی کو ” حی علی الفلاح“ پر کھڑے ہونے کا حکم ہے اور پہلے سے کھڑے ہوجانا مکروہ ہے۔ درمختار میں ہے: ”و القيام لامام و موتم حين قيل حی علی الفلاح (1)“ رد المحتار میں ہے: ”ويكره له الانتظار قائم (۲)“ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) حضور پرنور شافع یوم النشور صاحب لولاک سیاح افلاک جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا نام پاک سنتے وقت انگوٹھا یا انگشتان شہادت چومنا اور آنکھوں سے لگا نا قطعاً جائز جس کے جواز پر مقام تبرع میں دلائل کثیرہ قائم ، اور خود اگر کوئی دلیل خاص نہ ہوتی تو منع پر شرع سے دلیل نہ ہونا جواز کے لئے دلیل کافی تھی جو نا جائز بتائے ثبوت دینا اس کے ذمہ ہے کہ قائل جواز متمسک بالدلیل ہے۔ اس باب میں حضرت خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سید ناصدیق اکبر و حضرت ریحان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سیدنا امام حسین و حضرت نقیب اولیائے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سید نا امام حسن و حضرت نقیب اولیائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابو العباس على الحبيب الكريم وعلیہم جميعاً الصلاة والتسلیم وغیر ہم اکابرین دین حدیثیں روایت فرماتے ہیں جن کی قدرے تفصیل امام علامہ شمس الدین سخاوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے کتاب مستطاب مقاصد حسنہ میں ذکر فرمایا اور جامع الرموز شرح کفایہ مختصرالوقایہ وفتاولی صوفیہ کنز العمادور دالحتار حاشیه در مختار وغیر ہا میں اس فعل کے استحباب و استحسان کی صاف تصریح کی ہے اکثر کتابیں خود مانعین اور ان کے اکا بر وعمائد کے مستندات سے ہیں۔ یہی لخص ہے فتوی مبارکہ سید نا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا تفصیل رسالہ مبارکہ منیر العین میں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی