شربت پر فاتحہ اور ایصال ثواب کے جواز اور غلط پراپیگنڈے کی تردید
(۲) یہاں ضلع گونڈہ میں ایک پر چہ عنوان سنی مسلمان بھائیوں سے اپیل شائع کیا گیا ہے وہ ایک پر چہ آپ کے پاس بھی بھیجا جا رہا ہے کیا وہ جواب آپ کے یہاں سے دیا گیا ہے؟ یا نہیں؟ ایک لفظ میں جواب دیں ہاں یا نہیں؟ (۳) اگر آپ کے ریکارڈ میں وہ سوال و جواب ہو جو اس پر چہ میں لکھا ہے تو ایک نقل سوال و جواب ہمارے پاس بھیجیں۔ (۴) بہار شریعت کے حصہ سولہ (۱۶) میں صفحہ ۲۶۷۳ ہے یا نہیں ؟ لکھیں۔ (۵) اس پرچہ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ (6) اس پر چہ کے شائع ہونے سے سنی مسلمانوں میں بہت بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور کچھ لوگ یہ کہہ کروہ پر چ تقسیم کر رہے ہیں کہ اب بریلی کے علمانے بھی شربت پر فاتحہ دینا حرام لکھ دیا ہے۔ ایسے لوگوں سے کیا برتاؤ کیا جائے ؟ ان لوگوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے اور کس فرقہ سے تعلق رکھنے والے ہیں سنی مسلمانوں کو ان کی بات ماننا چاہئے یا نہیں ؟ جواب لکھیں تا کہ عوام کے سامنے حقیقت آ جائے۔ جواب جلد سے جلد عنایت فرمائیں تا کہ پھر ان کے متعلق قانونی کاروائی کی جائے۔ (۷) سنی مسلمانوں کو ان کی بات ماننا چاہئے یا نہیں؟
الجواب: (اتا ہے ) جائز ہے مگر منع نہیں کہ فاتحہ ایصال ثواب کا نام ہے اور ہمارے ائمہ حنفیہ کے نزدیک ایصال ثواب خواہ عبادت بدنیہ روزہ نماز خواہ عبادت مالیہ فرض و نفل کا زندوں مردوں کے لئے جائز ہے اور اس پر جملہ علمائے اہل سنت کا اتفاق ہے کہ صدقہ و خیرات و عبادات مالیہ کا ثواب جائز ہے اور میت کو پہنچتا ہے اور اسے فائدہ ہوتا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے: (1) ” ولکن لیس فی الصدقۃ اختلاف (1) فقہ حنفی کی معتمد و مستند کتاب در مختار میں ہے: الاصل ان کل من أتى بعبادة ماله جعل ثوابها لغيره وان نواها عند الفعل لنفسہ الصحيح المسلم، باب ان الاسناد من الدين، ج ۱، ص ۱۲ مجلس بركات لظاهر الادلة (1) اسی تقریر سے بدعت و نا جائز و حرام بتانا خود دین میں بدعت نکالنا اور شریعت مطہرہ پر افتر ا کرنا اور معتزلہ ضالہ کی روش ضلالت پکڑنا ہے حنفی کہلانے والے دیو بندیان زمانہ کو تو اسی در مختار کی عبارت بس تھی اسی میں صاف صاف لکھا ہوا ہے:
ولقد افصح الزاهدى عن اعتزاله هنا و الله الموفق (۲) یعنی زاہدی نے ایصال ثواب کا انکار کیا یہاں اپنے اعتزال و عقیدہ زیغ وضلال کو کہہ لا یا اور غیر مقلدان زمانہ جو بزعم خویش اہل حدیث ہیں انہیں ان احادیث صریحہ صحیحہ جو صاف صاف زندوں مُردوں کو ثواب اعمال صالح پہنچنے کی تصریح والی فرمارہی ہیں کے حضور مجال انکار کب ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بافادۂ صحت مروی ہے کہ ،، انه ضحی بکبشین املحین احدهما عن امته والآخر عنه (۳) یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے چتکبرے قربانی کئے ایک اپنی طرف سے اور ایک تمام امت کی طرف سے۔ نیز عینی میں دار قطنی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے ماں باپ تھے کہ زندگی میں میں ان کے ساتھ نیکی کرتا تھا تو اب ان کے ساتھ کیا نیک سلوک کروں؟ فقال صلى الله عليه وسلم ان من البر بعد الموت ان تصلى لهما مع صلاتك و ان تصوم لهما مع صیامک“(۴) ان کے ساتھ ان کی موت کے بعد یہ نیکی ہے کہ تو اپنی نماز کے ساتھ ان کے لئے نماز پڑھے اور (1) الدر المختار باب الحج عن الغير، ج ۴، ص ا ا ، ١٠ دار الكتب العلمية، بيروت (۲) الدر المختار باب الحج عن الغير، ج ۴، ص ۱۳ ، دار الكتب العلميه بيروت (۳) سنن الدارقطنی، كتاب الاشربة باب الصيد والذبائح والاطعمة وغير ذالک ، ج ۵، ص۵۱۳، حدیث ۴۷۶۱، مؤسسة الرسالة بيروت (۴) عمدة القاری شرح صحیح البخاری، باب الوضوء، باب ۵۵، ج ۳، ص۱۷۷ ، دار الكتب العلمية، بيروت اپنے روزہ کے ساتھ ان کے لئے روزہ رکھے۔ نیز حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے مروی کہ فرماتے ہیں حضور اکرم سالی یہ اہم : من مر بين المقابر فقرأ { قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ} احد عشر مرة ثم وهب اجرها للأموات ،، اعطى من الأجر بعدد الاموات ) یعنی جو قبروں پر سے گزرے اور گیارہ مرتبہ { قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ} پڑھ کر مردوں کو اس کا ثواب پہنچائے تو اسے قبرستان کے مردوں کے برابر ثواب ملے گا۔ نیز مینی میں ہے: عن انس رضی الله تعالى عنه انه سأل رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم فقال يارسول الله اذان تصدق عن موتانا ونحج عنهم وندعو الهم فهل يصل ذالك اليهم ؟ قال نعم ويفرحون به کما یفرح احدكم بالطبق اذا اهدى اليه (۲) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ آپ نے سرور دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کیا ہم اپنے مردوں کے لئے صدقہ و خیرات اور حج و دعا کرتے ہیں کیا ان سب کا ثواب واجر انہیں ملتا ہے؟ فرمایا ہاں پہنچتا ہے اور وہ خوش ہوتے ہیں جیسے تم میں سے کوئی طبق سے خوش ہوتا ہے جب کہ وہ اسے ہدیہ میں ملتا ہے۔ بلکہ ان دونوں گروہ دیوبندی و غیر مقلدین کو اپنے گروہ وسرغنہ امام الوہابیہ اسماعیل دہلوی کا لکھا بس ہے وہ صراط مستقیم میں لکھ گیا۔ ہر گاہ ایصال نفع ہمیت منظور دارد موقوف براطعام نہ گزارد اگر وو میسر باشد بہترست و الا صرف ثواب سوره فاتحه واخلاص بہترین ثوابها است ۔ اٹھے (۳) اب یہ دونوں اگر اپنی قسمت کی سیاہی اور اپنی حالت کی تباہی دیکھیں کہ ناحق دوسروں پر بدعت کا فتویٰ امام کے اوپر کیسا چسپاں ہوا اور جب وہ بدعتی ہوا تو سارے وہابیہ کی خیر نہیں۔ لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا اور بہار شریعت کا حوالہ نرا جھوٹ ہے اور وہ صفحہ نہیں جو درج سوال ہوا نری گڑھت ہے اور کاذب بالفعل جھوٹے معبود کے بندوں کو جھوٹ کے سوا کیا نصیب ہوسکتا ہے کہ وہابیہ کا عقیدہ ہے کہ خدا جھوٹ بول سکتا ہے۔ دیکھورسالہ یکروزی(۱) بلکہ جھوٹ بول چکا دیکھوفتو می گنگوہی ۔ آخر میں سنی بھائیوں کے اطمینان کے لئے بہار شریعت حصہ سولہ کی عبارت نقل ہے اس میں ہے : محرم میں دس دنوں تک خصوصاً دسویں کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر شہدائے کربلا کو ایصال ثواب کرتے ہیں کوئی شربت پر فاتحہ دلاتا ہے کوئی مٹھائی پر کوئی روٹی گوشت پر جس پر چاہو فاتحہ دلاؤ ، جائز ہے ان کو جس طرح ایصال ثواب کر ومندوب ہے۔ الخ (۲) یہ حکم نفس فاتحہ کا ہے تعزیہ پر فاتحہ نہ دیں کہ تعزیہ مروجہ منع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله