ناجائز تعلقات سے پیدا ہونے والی لڑکی سے نکاح، ٹیلی ویژن رکھنا اور وہابیوں سے تعلقات رکھنے والے امام کا حکم
(۱) ہندہ جس کو اس کے شوہر نے طلاق نہیں دی۔ اور وہ بھاگ کر دوسرے آدمی کے گھر میں رہنے لگی۔ اس کے بعد اس نئے آدمی کی صحبت سے ہندہ کے پیٹ سے لڑکی پیدا ہوئی۔ اس لڑکی کے ساتھ زید نے ( جو کہ مسجد موضع رو پورہ، بریلی کا امام بھی ہے ) اپنے لڑکے کی شادی کی ۔ جبکہ لڑکی ہندی کالج سے ہندی تعلیم یافتہ ہے اور ہندی ٹیچر بھی ہے۔ ایسی لڑکی سے خاص کر امام کا اپنے لڑکے کا نکاح کرنا درست ہے؟ (۲) اوپر ذکر کئے گئے امام نے اپنے لڑکے کی شادی ہندہ ٹیچر سے کی جو کہ بے پردہ ہے اور اسی شادی میں لڑکے کو جہیز میں ٹیلی ویژن بھی ملا جس کو امام صاحب کے مکان میں لگایا گیا اور آج تک لگا ہوا ہے۔ مفصل طور پر بتایا جائے کہ ٹیلی ویژن مکان میں لگانا ہر مسلمان کے لئے خاص کر امام صاحب کے گھر لگانا کیسا ہے؟ (۳) مذکور امام با قاعدہ دیوبندیوں وہابیوں سے کلام کرتا ہے اور امام کی مرضی اور منشا سے وہابیوں اور دیو بندیوں کی صف اور گھڑی رکھی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہابیوں کا مسجد میں صف اور گھڑی رکھنا یا کسی دوسری طرح کا ان سے تعاون لینا ان کو مشورہ میں شامل کرنا اور وہابیوں کے لوٹے وغیرہ مسجد میں رکھنا درست ہے یا نہیں؟ (۴) سب سوالات کے پیش نظر اگر امام گنہ گار ہے تو کس درجہ گناہ میں ہے؟ امام کو مسجد میں امام بنانا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا از روئے شرع درست ہے یا نہیں؟
الجواب: (1) درست ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم المستفتی: اہل رو یورو، چودھری، عزت نگر، بریلی شریف (۲) ٹیلی ویژن بدترین آلہ لہو ولعب، گھر بیٹھے سنیما سخت مخرب اخلاق و باعث ننگ و عار ہے اسے گھر میں رکھنا سخت حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴،۳) وہابی دیوبندی عقائدہ کفریہ کے سبب بے دین ہیں جو ان کے کفر پر مطلع ہو کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی انہیں کی طرح کا فر ہے۔ ان سے سلام و کلام اور ان کی دی ہوئی کوئی چیز لینا سخت نا جائز ومنع ہے اور امام مذکور بشرط ثبوت جرائم مذکورہ بطور شرع ، امامت کے لائق نہیں اور اس کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله