رجب کی بائیس تاریخ کو حضرت جعفر صادق کے کونڈوں کی شرعی حیثیت
(۵) رجب کی ۲۲ تاریخ کو حضرت جعفر صادق رحمت اللہ علیہ کے کونڈوں کا کیا المستفتی محمد نظام الدین
(۳) اس واعظ پر بھی تو بہ لازم ہے اور بہت تفصیل سے لکھ کر سوال کیا جائے۔ شہادت اختیاری نہیں بلکہ عطائے الہی ہے۔ جس نے اسے اختیاری کہا، تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ایسے شخص کے عقائد کی تحقیق کی جائے۔ بغیر تحقیق کے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) دین عقائد اہل سنت و اعمال و عبادت و احکام شریعت کے مجموعہ کا نام ہے۔ نورالانوار میں ہے: ”الدين هو وضع الهى سائق لذوى العقول باختيارهم المحمود الى الخير بالذات ) واللہ تعالیٰ اعلم (۵) جائز و مستحسن ہے اور یہ حکم نفس فاتحہ کا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح والمجب مصیب ۲۵ / جمادی الاولی ۱۳۹۶ خادم رسول مدرس جامعہ حمید یہ رضویہ مدن پورہ، وارانسی الجواب صحیح ۔ بزرگان دین و اولیائے کاملین کے مزارات کے قرب میں نماز ادا کرنے میں انوار و برکات زیادہ اور رحمت الہی کی توجہ کا ذریعہ ہے۔ امام اجل قاضی عیاض شرح صحیح مسلم شریف میں پھر علامہ عینی شرح مشکوۃ المصابیح میں پھر علامہ علی قاری مرقاۃ المفاتیح میں نیز علامہ محدث طاہر فتنی مجمع بحار الانوار میں پھر امام قاضی ناصر الدین بیضاوی میں پھر امام جلیل علامہ محمود عینی عمدۃ القاری شرح بخاری میں پھر امام احمد محمد خطیب قسطلانی ارشاد الساری شرح بخاری میں نیز امام ابن حجر مکی شرح مشکوۃ شریف میں پھر شیخ محقق محدث دہلوی شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں: "وهذا لفظ الاولين "من اتخذ مسجداً في جوار صالح او صلى في مقبرة و قصد الاستظهار بروحه او وصول اثر ما من اثر عبادته اليه لا للتعظيم له والتوجه نحوه فلا حرج عليه الاترى ان مرقد اسماعیل علیه السلام في المسجد الحرام عند الحطيم ثم ان ذالك المسجد افضل مكان يتحرى المصلى لصلاته (۲) یعنی جس نے کسی نیک بندے کے قرب میں مسجد بنائی یا مقبرہ میں نماز پڑھی اور اس کی روح سے استمداد و استعانت کا قصد کیا تا کہ اس کی عبادت کا کوئی اثر اسے پہنچے نہ اس لئے کہ نماز سے اس کی تعظیم کرے، یا نماز میں اس کی طرف منہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ کیا نہیں دیکھتے کہ سیدنا اسماعیل علیہ الصلاۃ والسلام کا مزار شریف خاص مسجد الحرام میں حطیم کے پاس ہے۔ پھر یہ مسجد سب سے افضل وہ جگہ ہے کہ نمازی نماز کیلئے جس کا قصد کرے۔ اور اخیرین کے لفظ یہ ہیں : خرج بذلک اتخاذ مسجد بجوار نبی او صالح والصلاة عند قبره لا لتعظيمه والتوجه نحوه بل لوصول مدد منه حتى تكمل عبادته ببركة مجاورته لتلك الروح الطاهرة فلا حرج في ذلك لما وردان قبر اسمعیل علیه الصلاة والسلام في الحجر تحت الميزاب ان في الحطيم وبين الحجر الاسود و زمزم قبر سبعين نبيا ولم ينه ،، احد عن الصلاۃ فیہ ) یعنی کسی نبی یا ولی کے قرب میں مسجد بنانا اور ان کی قبر کریم کے پاس نماز پڑھنا نہ ان دو نیتوں سے بلکہ اس لئے کہ ان کی مدد مجھے پہنچے ان کے قرب کی برکت سے میری عبادت کامل ہو اس میں کچھ مضائقہ نہیں کہ وارد ہوا ہے کہ اسمعیل علیہ الصلاۃ والسلام کا مزار پاک حطیم میں میزاب رحمت کے نیچے ہے اور حطیم میں اور سنگ اسود و زمزم کے درمیان ستر پیغمبروں کی قبریں ہیں علیہم الصلاۃ والسلام اور وہاں نماز پڑھنے سے کسی نے منع نہ فرمایا شیخ محقق فرماتے ہیں: ”کلام الشارحین مطابق فی ذالک تمام اصحاب شرح اس بارے میں متفق ہیں۔ الحمد لله بروجہ اکمل ثابت ہوا کہ جو مسجد مزارات کے حضور ہو اور مزار کریم مسطور ہو یا نظر خاشعین سے دور ہو تو فاسد نیت سے محذور ہے تبرک و استمداد کی نیت سے ماجور ہے کہ نماز و نیاز کا اجماع نور علی نور ہے ظاہر یہی ہے کہ واعظ مذکور کا بیان اس حقیقت کی ترجمانی کر رہا ہے اور اگر یہی مراد ہو تو واعظ مذکور کا بیان درست کہ اس نے سجدہ ریز ہونے سے معنی حقیقی مراد نہیں لیا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بحقیقۃ الحال والیہ المرجع والمآل ۔ اگر چہ ایسے لفظ کے استعمال سے اجتناب چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم روافض زمانہ بالعموم منکر ضروریات دین اور باجماع امت کفار مرتدین ہیں جن کی تحقیق و تفصیل (1) لمعات التنقيح شرح مشکوۃ المصابیح، باب المساجد ومواضع الصلاة، ج ۳، ص ۵۲ ، معارف العلمية لاهور حضور سید نا اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے رسالۂ مبارکہ ”المقالة المسفرة عن حكم البدعة المكفرة ملاحظہ کریں، علاوہ اور کفریات کے دو کفر تو ان کے عالم و جاہل مرد و عورت سب کو شامل ہیں۔ مولیٰ علی کرم اللہ وجہ الکریم کو انبیائے سابقین علیہم السلام سے افضل مانا اور جو کسی غیر نبی کو کسی نبی سے افضل ہے، کافر ہے۔ اور گمان کرنا کہ قرآن عظیم سے عیاذ باللہ ! صحابہ کرام وغیر ہم اہل سنت نے چند پارے یا سورتیں، آیتیں گھٹا دیں یا کچھ الفاظ تغییر و تبدیل کر دیے اور جو قرآن عظیم کے ایک حرف ، ایک نقطے کی نسبت ایسا گمان کرے، کافر ہے۔ قال اللہ تبارک و تعالیٰ : انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ ) واعظ مذکور کا وہاں جانا شرعا نا جائز و گناہ اور ایسا گمان کرنا بھی خلاف واقعہ ہے۔ اصل اختلاف پر پردہ ڈالنا اور مدح صحابہ و فضیلت صحابہ میں اختلاف نہ بتانا بھی خلاف واقع ہے۔ صحابہ کرام کے سرداران سید نا حضرت صدیق اکبر و سیدنا فاروق اعظم و عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شان اقدس میں تبرا کرنے والے سے اختلاف نہ ماننا کس قدر باطل و غلط ہے۔ ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ واعظ مذکور پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ الہادی وھو تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف ۲۵/ جمادی الآخر ه ۱۳۹۶