بے ثبوت شرعی الزام تراشی، بلا طلاق عورت رکھنے والے اور تبلیغی جماعت سے میل جول کا حکم
زید ایک مسلمان ہے ، ہندہ ایک عورت ہے جو قوم کی پارسن ہے زید ہندہ کے یہاں بہت عرصہ سے آتا جاتا ہے ہندہ زید کے یہاں مزدوری کرتی ہے گاؤں والے یہ بھی کہتے ہیں کہ زید نے ہندہ کے یہاں کا کٹہل سور کی چربی لگا ہوا کھایا ہے۔ حالانکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ بایں وجہ گاؤں والے زید کو اپنے سے علیحدہ کئے ہوئے ہیں اپنے ساتھ نہیں کھلاتے پلاتے ہیں ان سب صورتوں میں زید کو برادری سے علیحدہ کر دینا درست ہے؟ بروئے شرع تحریر فرمایا جائے۔ ایک شخص بے طلاق عورت رکھے ہوئے ہے گاؤں والے اس کو لے کر کھاتے پیتے ہیں تو کیا اس شخص کو ساتھ لے کر کھانا پینا درست ہے؟ تحریر فرمائیں۔ تبلیغی جماعت کے ساتھ کھانا پینا کیسا ہے اور اس کے گھر کھانا پینا کیسا ہے؟ بینوا تو جروا۔
الجواب: المستفتی : رونق علی بوریا ہی ڈاکخانہ، دھامے پور، ضلع گونڈہ ، یوپی بے ثبوت شرعی کسی مسلمان کی طرف کبیرہ گناہ کی نسبت کرنا حرام ہے۔ قال تعالیٰ: لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ - الخ (1) یعنی کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے وہ بے ثبوت بات سنی تو مسلمان نے اپنے آپس میں ایک گمان کیا ہوتا اور تم کہتے کہ ہمیں نہیں پہنچتا کہ ہم یہ بات کہیں پا کی ہے تجھے اے اللہ یہ بہتان عظیم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بے ثبوت شرعی کسی بات کو کہنے کو بہتان سے تعبیر فرمایا اور بہتان باندھنا حرام ہے۔ حدیث شریف میں ہے: كفى بالمرء كذبا ان يحدث بكل ما سمع (۲) آدمی کو جھوٹا ہونے کے لئے کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات کہتا پھرے۔ اس لئے امام محمد غزالی قدس سرہ اور ملا علی قاری احیاء اور شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں: لاتجوز نسبة مسلم الى كبيرة من غير تحقيق لہذا بے ثبوت شرعی اس شخص کی طرف سور کی چربی لگا کر کٹہل کھانے کی نسبت گناہ ہے جس سے تو بہ لازم ہے اور اس بنا پر اسے چھوڑ نا جائز نہیں۔ البتہ بر صورت صدق سوال پارسن سے تعلقات کی بنا پر وہ ضرور ملزم اور مستحق ترک ہے۔ یہی حکم غیر کی منکوحہ کو رکھنے والے اور تبلیغی جماعت کے فرد کے یہاں کھانا کھانے اور کھلانے والے کا ہے۔ بلکہ تبلیغیہ دیوبندی ہیں اور بحکم علمائے حرمین شریفین وغیر ہما ایسے کو کافر کہنا ہے ”من شک فی کفره و عذابه فقد کفر “ جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کافر ہے، دیکھو حسام الحرمین ۔ ان سے ملنا زیادہ موجب خسران ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح واللہ تعالٰی اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی