غیر مسلموں کے یہاں پکا ہوا گوشت کھانا اور بھگوان جیسے الفاظ استعمال کرنے کا حکم
ہیں ) کہنا کیسا ہے؟ کہنے والے کے متعلق شریعت کا کیا فیصلہ ہے؟ (۴) غیر مسلموں کے یہاں پکا ہوا گوشت کھانا کیسا ہے؟ کھانے والوں کیلئے شریعت کا کیا فیصلہ ہے؟ (۵) جو شخص برابر جھوٹ بولتا ہو، فاسق و فاجر ہو، علماء کو گالیاں دیتا ہو، کمزوروں پر ظلم کرتا ہو، دوسروں کے عیب نکالتا ہو، اپنی بات منوانے کے لئے سب کچھ کر گزرتا ہو چاہے وہ جائز ہو یا ناجائز ، غیر مسلموں سے مل کر مسلموں پر علم و تشدد کا پہاڑ توڑتا ہو۔ ایسے شخص کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ اور ایسے شخص کو اپنا رہبر ورہنما ماننے والوں کیے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ (1) چترویدی جو عام طور سے جلسوں میں ہندی یا انگریزی کے وہ الفاظ جو خدا کے معنی میں مستعمل ہیں یا رسول وخدا کے پیغام کے ہندی الفاظ استعمال کرتے ہیں جیسے بھگوان معنی خدا، پر میشور معنی خدا، ایشور معنی خدا، شانتی معنی امن بھگوان بھگت معنی عبد اللہ ۔ یہ سب ایک مسلمان کے لئے استعمال میں لانا کہاں تک درست ہے؟ تمام سوالوں کے جوابات مفصل اور واضح ہو۔ فتاویٰ پر مدرسہ کا مہر مدرسہ کا لیٹر پیڈ ، دار الافتاء کا مہر مفتی کا مہر ہونا ضروری ہے ۔ جواب کے لئے رجسٹری ٹکٹ بھیج رہا ہوں ۔ جتنی جلد ممکن ہو جواب عنایت فرما کر مشکور فرمائیں ۔ فقط السائل: وصی مکرانی دھرمپوری ۱۶ رمئی ۱۹۸۰ء
الجواب: (1) عین ایمان اور دھرم بتانا نا جائز ہے اور تو بہ لازم ۔ دوسرے شعر میں جو شاعر نے کہا وہ از قبیل عقیدت ہے اور ملکیت بضرورت جائز اور ظاہر تر یہی کہ ایسی باتیں محض طمع اور اپنی اغراض کے حصول کے لئے ابناے زمانہ کرتے ہیں یہ بے شک ناجائز اور سائل نے جو معنی شعر کے نکالے وہ غالباً مراد مسلم نہیں ہوتے لہذا تکفیر نہ ہوگی ، تو بہ لازم ۔ نیپال ضرور دارالحرب ہے لیکن اگر وہاں امن و امان قائم ہو تو اسے امن کا ملک کہنے میں فی نفسہ حرج نہیں ، ہاں فرض فاسد پر یہ تعریف مبنی ہو تو ضر ور ممنوع اور اگر امن قائم نہ ہو تو جھوٹ ہے۔ چوتھا شعر بھی معنی فاسد پیدا کرتا ہے اور معنی فاسد وہی جو سائل نے لکھے، شاعر پر اس سے بھی تو بہ لا زم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) غیر مسلم الفاظ مذکورہ اپنے معبودان باطلہ کے لئے بولتے ہیں توان الفاظ کا بولنا کفار کامذہبی شعار ہوا اور کفار کے شعار مذہبی کو اپنا نا کفر ہے پھر ان الفاظ میں اکثر مجہول المعنی ہیں اور بعض مثلا بھگوان کا معنی بہت سخت و دشنام ہے جس سے اللہ تعالیٰ منزہ و مقدس ہے اور جب ان میں اکثر مجہول المعنیٰ ہیں تو ان کا اطلاق خدا پر کیونکر روا ہوگا؟ اسی طرح بھگوان کا اطلاق خدا پر حرام حرام حرام بلکہ معنی فاسد پر مطلع ہوتے ہوئے اس کا اطلاق خالص کفر ہو گا اور کفار کو سمجھانے کی ضرورت کا عذر بھی چلتا نہیں معلوم ہوتا۔ بحمدہ تعالیٰ اسم جلالت باری تعالیٰ ( اللہ ) کو تمام دیار و امصار میں وہ اشتہار ہے کہ ہر زبان والا لفظ اللہ سے یہ مجملا سمجھ لیتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے خدائے برتر کا نام ہے اور بغرض ضرورت کفار کو سمجھانے کے لئے اسی کو اجازت ان ناموں سے بولنے کی ہوگی جو ان کے معنیٰ سے واقف ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) حرام اشد حرام بلکہ کفر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) مردار و حرام اور کھانے والا سخت گنہگا را شد عذاب نارکا مستوجب ۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۵) وہ شخص بڑا ظالم، جفا کار، حق اللہ وحق العباد میں گرفتار اور اسے رہبر و رہنما ماننے والا بھی اسی رسی میں گرفتار۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۶) بطور حکایت از کفار بولنا روا، اور معنی فاسد ہے تنبیہ ضرور اور بلا حکایت خود بولنا نا جائز ومنع ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۲ ؍ رجب المرجب ۱۴۰۰ھ