فاتحہ کا کھانا، منت، چڑھاوا اور نسبندی کے متعلق مختلف مسائل
ملیدہ اور کھیر بزرگوں کے فاتحہ کے لئے پکانا اور اس کا ثواب ان کی روحوں کو بخشنا اور لوگوں کو کھلا دینا اس میں کچھ مضائقہ نہیں ہے جائز ہے اور منت کا کھانا مالدار کے لئے ناجائز ہے اور بزرگوں کے فاتحہ کی چیز مالداروں کو بھی کھانا جائز ہے، لہذا محدث صاحب کی منت سے کیا مراد؟ اور کون سی چیز ہے؟ اور مالدار سے مراد کون سے مالدار ہیں؟ تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمانے کی زحمت گوارہ فرمائیں۔ (۲) چڑھاوا کیا ہوتا ہے؟ اور اس کا کھانا کیا ہے؟ (۳) نسبندی کرانا شرعاً کیسا ہے؟ اور زبردستی کی جائے تو کرا سکتا ہے کہ نہیں؟ کیا یہ کام کرانے والا جماعت میں شامل نہیں ہو سکتا؟ جماعت پڑھانے کا مستحق نہیں ہوگا؟ ۔ اور جب بیچنے کی کوئی صورت نہیں آتی تو کیسے بچا جائے؟ تحریر فرمائیں۔ جوابی خط حاضر ہے جواب جلد عنایت فرما ئیں ۔ کرم ہوگا ۔ فقط محمد اسلم شاہ ادریسی معرفت قاری یونس رضا محلہ احمد نگر ڈنڈ وہ بزرگ ضلع فرخ آباد
الجواب: (۱) یہاں منت سے مراد نذر شرعی ہے اور اس صورت میں یہی حکم ہے کہ مالدار کو نذ رشرعی کھانا جائز نہیں بلکہ فقیر ہی کھائے مثلا اس نے یوں کہا کہ میرا فلاں جائز کام ہو گیا تو اتنے فقیروں کو کھلاؤں گا۔ اور اولیائے کرام کے لئے جو نذر ہوتی ہے نذر شرعی نہیں ہوتی مگر جبکہ نیاز مانے اور فقیروں کو کھلانے کی نیت کرے تو فقیر ہی کھائے۔ وھو تعالیٰ اعلم (۲) چڑھا وا جو بت وغیرہ محرمات پر چڑھایا جائے۔ اور اولیا کے مزارات پر لے جا کر جو نیاز شیرینی وغیرہ پر دلاتے ہیں۔ وہابی اسے چڑھا وا کہتے ہیں اور یہ قول غلط و مہمل ہے۔ اور خود ان کے امام الطائفہ اسماعیل دہلوی اور اس کے چچا اور دادا کی تصریحات سے مردود ہے نیاز کھانا جائز ہے اور چڑھاوا کھانا تعزیہ وغیرہ کا مکروہ وممنوع۔ وھو تعالیٰ اعلم (۳) حرام ہے کہ اس میں بے ضرورت شرعیہ تغییر خلق خدا اور عریاں ہونا لازم اور یہ امور حرام تو وہ بھی حرام علاوہ ازیں اس میں ضرر بین ہے تو حرام در حرام مجبور پر الزام نہیں ۔ وھو تعالی اعلم اور اس کا مرتکب جماعت سے نہ روکا جائے امامت اس کی شرعاً ممنوع ہے جبکہ برضا ایسا فل کرائے ، اور اس سے بچن حتی الامکان فرض ہے۔ وھو تعالیٰ اعلم