کسی غیر مسلم کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسا درجہ مانگنے کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: (1) زید ایک معزز شہری ہے اور سیاست میں بھی کافی دخل رکھتا ہے ایک نیتا جو کہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھتا تھا اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کے لئے ایک تعزیتی میٹنگ ہوئی جس میں تمام اہل ہنود کے ساتھ زید بھی شامل تھا۔ اہل ہنود نے مرحوم کے لئے اپنے اپنے الفاظ میں دعائیہ جملے ادا کئے زید نے اپنے دعائیہ الفاظ میں کہا کہ خدا تعالیٰ مرحوم کو وہ جگہ عطا کرے جو ہمارے پیغمبر صاحب صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ یہ سب باتیں اخبار میں شائع ہو گئیں تو مسلمانوں نے اعتراض کیا تو پھر زید نے اخبار میں تردید کی کہ میں نے پیغمبر نہیں کہا تھا بلکہ پیغامبر کہا تھا چند مسلمانوں نے ایسے جملوں کو درست کہا کہ جو کچھ بھی زید نے کہا ٹھیک کہا ہے ایسی صورت میں زید کے اوپر شرعی حکم کیا عائد ہوتا ہے اور تائید کرنے والوں کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ (۲) جمعہ میں خطبہ سے پہلے خطیب نصیحت کے لئے تقریر کرے تو ایسی صورت میں سنت وغیرہ پڑھ
(۱) پیغمبر علیہ السلام کا درجہ مانگنا معاذ اللہ پیغمبر کے ساتھ مساوات چاہنا ہے اور یہ کفر ہے زید پر تو بہو تجدید ایمان لازم ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور اس کے قول سے جو راضی ہیں ان کو بھی یہی لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وعظ کے بعد خطبہ شروع کرنے سے پہلے اتنا وقفہ رکھیں کہ لوگ سنتیں ادا کر لیں، اس کے بعد اذان کہی جائے ۔واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۶ / جمادی الاخری ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی