فرعون کا کافر ہونا اہل سنت کا اجماعی مسئلہ ہے اور یزید کی طرح اس پر کف لسان نہیں کیا جائے گا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین نائبان حضور سید المرسلین علیه افضل الصلوة واكرم التسليم مسئله مذكورة الذیل میں کہ: زید کا کہنا ہے کہ جس طرح یزید پلید کے بارے میں کف لسان کا حکم ہے یونہی فرعون کے بارے میں بھی کف لسان کا حکم ہے، بکر نے اس کی تردید میں یہ پیش کیا کہ وہ یقینا کافر ہے اور یہ مسئلہ مسلم ہے، کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ چنانچہ زید نے دلیل میں حضرت سید شاہ محمد اشرف صاحب جہانگیر سمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ کا ایک گرامی قدر مکتوب پیش کیا جو " انوار الصوفیہ میں شامل ہے جس میں حضرت نے اس مسئلہ پر تحقیق واضح فرمائی ہے مگر فارسی میں ہونے کے بموجب سمجھنے سے قاصر ہوں اس لئے حضرت کی خدمت میں عرض ہے کہ حضرت اس مسئلہ کا یہ فرماتے ہوئے حقیقت مسئلہ سے آگاہ فرمائیں فقط والسلام مع الاحترام ۔ بینوا توجروا اجرا جزیلا۔ المستفتی محمد مشتاق احمد رضوی ثابت القادری عفی عنہ الباری بلرام پوری
الجواب: مذہب اہل حق یہ ہے کہ حالت پاس کا ایمان مقبول نہیں اور اس پر نص قطعی قرآن عظیم میں وارد ۔ قال الله تعالى : فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا ) کافروں کو اس وقت انکے ایمان نے نفع نہ دیا جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا۔ اور قرآن عظیم خود ناطق کہ فرعون به حالت یاس اور معائنہ عذاب الہی کے وقت ایمان لایا مگر اللہ عز وجل نے اسے قبول نہ فرمایا۔ قال تعالیٰ: وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ (۲) ) کیا اب ایمان لاتا ہے ) اور پہلے سے نافرمان رہا۔ لا جرم جملہ اہل سنت نے زمانہ قدیم سے الی یو منا حالت یاس و معائنہ عذاب کے وقت ایمان کے نامقبول ہونے اور فرعون کے کفر پر اجماع فرمایا اور مخدوم اشرف جہانگیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جوزید نے نقل کیا ہے اس کا ماخذ حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ کی بعض کتب ہیں، جملہ اہل سنت نے ان کے اس قول کو ر د فرمایا اور یہ ان کا قول ہونا اس صورت میں ہے جبکہ اس کی طرف کثرت شرعی سے اس کی نسبت صحیح ہو جاتی ورنہ یقینا الحاق پر محمول اور اکابر علماء کی کتابوں میں الحاقات بہت ہوئے ہیں، خود شیخ کے بعض کتب میں بہت زیادہ الحاقات ہیں۔ ،، در مختار میں آیا ہے کہ : ” لكناتيقنا ان بعض اليهود افتراها على الشيخ قدس الله سره فيجب الاحتياط بترك مطالعة تلك الكلمات (۳) رد المحتار میں ہے: ” كما وقع للعارف الشعرانی انه افترى عليه بعض الحساد فی بعض كتبه اشیاءمكفرة واشاعهاعنه-الخ (٢) تو یہ ممکن ہے کہ یہ شیخ اکبر پر الحاق اور افتر اہو اور اسی طرح حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ سے عدم ثبوت اور الحاق پر محمول کیا جائے مع بذ اخود انھیں شیخ اکبر محی الدین سے منقول ہوا کہ انھوں نے بعض کتابوں میں تصریح فرمائی کہ فرعون، ہامان ، قارون کے ساتھ جہنم میں ہے۔ (1) سورة الغافر : ۸۵ (4) سورة يونس : ۹۱ (۳) الدر المختار، كتاب الجهاد باب المرتد، ج ۲، ص ۳۷۹، دار الكتب العلمية، بيروت (۴) رد المحتار، کتاب الجهاد باب المرتد ج ۶، ص ۳۷۹، دار الكتب العلمية، بيروت لا جرم در مختار میں فرمایا: رد المحتار میں ہے: ،، توبة الياس مقبولة دون ايمان الیاس (1) و اما ایمان الیاس فذهب اهل الحق انه لا ينفع عند الغرغرة ولاعند معاينة عذاب الاستئصال بقوله تعالى {فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَآوُا بَأْسَنَا} (غافر : ۸۵) ولذا اجمعوا على كفر فرعون كمارواه الترمذي في تفسير سورة يونس و ان خالف في ذالک الامام العارف المحقق سيدى محى الدين بن عربى فى كتابه الفتوحات قال العلامه ابن حجر في الزواجر : فانا وان كنا نعتقد جلالة قائله فهو مردود فان العصمة ليست الا للانبياء مع انه نقل عن بعض كتبه انه صرح فيها بان فرعون مع هامان و قارون في النار واذا اختلف کلام امام فيؤخذ بما يوافق الادلة الظاهرة ويعرض عما خالفها “ (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله (1) الدر المختار ورد المحتار، باب مطلب توبة الياس مقبولة ، ج ۶، ص ۳۶۸، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) ردالمحتار كتاب الجهاد باب المرتد مطلب اجمعوا على كفر فرعون، ج ۶، ص ۳۶۹، دار الكتب العلمية، بيروت