روح کا مقام، جمعہ کے دن چھوٹی مسجد میں ظہر کی اذان اور جانماز بچھانے کے متعلق مسائل
کام چلایا گیا وقت گذر جانے پر دو چار دن کے بعد پھر وہ بکر اہل گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ بکرا کیا کیا جائے اس کو دوسرے میں خرچہ کر دیا جائے یا اس کو فروخت کر کے پیسہ لے کر ذاتی مصرف میں خرچ کیا جائے؟ (۴) جمعہ کے دن یہاں صرف جامع مسجد میں نماز ہوتی ہے اور باقی چھوٹی چھوٹی مسجد میں ہیں ان میں ظہر کی اذان ہوگی یا نہیں؟ کیا صرف اذان کہنا ضروری تو نہیں ہے؟ اگر عذر شرعی کے بناء پر چھوٹی مسجدوں میں جمعہ کے دن بجائے جمعہ کی نماز کے اگر ظہر کی اذان کہی جائے اور ظہر ہی کی جماعت سے نماز پڑھی جائے تو کیسا ہے؟ (۵) جانماز اگر چھوٹی ہو تو اس کو پاؤں تک بچھانا ضروری ہے یا سجدہ گاہ کی جگہ پر رکھنا ضروری ہے؟ فقط طالب جواب : ابوالکلام مقام و پوست کشم پور ضلع فرخ آباد
الجواب: (1) روح کا مقام بعد موت حسب مراتب مختلف ہے۔ مسلمانوں میں بعض کی روحیں قبر پر رہتی ہیں اور بعض کی چاہ زمزم میں اور بعض کی آسمان وزمین کے درمیان اور بعض آسمان اول، دوم ہفتم تک اور بعض اعلی علیین میں اور بعض سبز پرندوں کی شکل میں زیر عرش نور کی قندیلوں میں ( جبکہ ) کفار میں بعض کی روحیں چاہ وادی بر ہوت میں، بعض کی زمین دوم، سوم، ہفتم تک بعض کی سجین میں ۔ (۱) جب مردہ کو دفن کر دیا جاتا ہے تو اس سے منکر نکیر سوال کو آتے ہیں کما فی الحدیث الشریف اور دفن کی قید غالبی ہے کہ سوال مدفون وغیر مدفون سب کو عام ہے۔ مرقاۃ وفتاوی حدیثیہ میں ہے: واللفظ للاخير : " و سوال الملكين يعم كل ميت ولو جنينا وغير مقبور کحریق و غريق واكيل سبع كما جزم به جماعة من الأئمة الى قوله الذى يظهر اختصاص السوال بمن يكون له تكليف الخ“ (۲) یہ نظر سے نہیں گذرا کہ سوال و جواب کے وقت روح کہاں سے آتی ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ سوال کے وقت جسم میں روح کا اعادہ کر دیتے ہیں مگر قبل سوال بھی روح کو ایک نوع اتصال جسم سے ہوتی ہے چنانچہ احادیث میں وارد ہے کہ مردہ اپنے نہلانے والے کفن دینے والے، اور اٹھانے والوں، نماز جنازہ پڑھنے والوں کو جانتا ہے۔ مرقاۃ میں ہے: "اذ ثبت بالاحاديث ان الميت يعلم من يكفنه و من يصلى عليه ومن يحمله ومن يدفنه" (1) نیز اسی میں ہے: ” وانما يسألان عنه باعادة الروح“(۲) بعد سوال بھی روح کا وہی مقام ہے جو او پر مذکور ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) تاڑی خواہ تاڑ کی ہو خواہ کھجور کی ناجائز ہے کہ اس میں نشہ ہوتا ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ لحديث احمد عن ام سلمة: " قالت نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كل مسكر و مفتر - الخ كذا فى الدر المختار شرح تنویر الابصار۔(۳) مگر سنا جاتا ہے کہ اگر صاف برتن تاڑیا کھجور کے درخت میں بعد غروب آفتاب لگایا جائے اور قبل طلوع اتارا جائے تو اس تاڑی میں نشہ نہیں ہوتا ہے اگر فی الحقیقۃ ایسا ہے تو حرج نہیں ۔ سرکہ بنانا تاڑی کا جائز ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۳) اگر وہ شخص صاحب نصاب ہے اور یہ دوسرا بکرا اسی قیمت کا تھا جس قیمت کا پہلا تو قربانی ہوگئی اب پہلا بکرا اسکی ملک ہے وہ جو چاہے کرے اور اگر یہ دوسرا پہلے سے قیمت میں کم تھا تو پہلے کی قیمت اس سے جتنا زائد ہے وہ صدقہ کرے اور اگر فقیر ہے تو اس پر دونوں واجب ہیں۔ لہذا پہلے کو صدقہ کر دے۔ در مختار میں ہے: ضلت او سرقت فاشتری اخرى ثم وجدها فالافضل ذبحهما وان ذبح الاولى جاز وكذا الثانية لو قيمتها كالاولى او اكثر وان اقل ضمن الزائد ويتصدق به بلافرق بین غنی وفقير وقال بعضهم ان وجبت عن يسار فكذا الجواب وان عن عسار ذبحهما ينابيع (۱) اور ردالمحتار میں ہے: (قوله وقال بعضهم الخ) اقتصر عليه في البدائع و قال السائحانی و به جزم الشمنی كما سيذكره الشارح ثم وجد الاولى عليه أن يتصدق بافضلهما ولا يذبح الخ“ ملتقطا (۲) عقیقہ میں پہلا بکر امتعین نہیں ہوتا دوسرا مطلقاً اس کے قائم مقام ہوسکتا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) جمعہ کے دن جن مسجدوں میں جمعہ نہیں ہوتا انہیں بند کرنے کا حکم ۔ در مختار میں ہے: ،، و افادان المساجد تغلق يوم الجمعة الا الجامع (۳) عذر شرعی کی صورت میں جمعہ کے بعد پڑھ سکتے ہیں۔ (۵) جہاں چاہیں رکھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵ ؍ ربیع الثانی ۱۴۰۹ھ