اجرتِ تراویح، لاؤڈ اسپیکر پر نماز، توہینِ علماء اور فاسقوں کی تعظیم کے متعلق سوالات
کا کیا حکم ہے۔ اور اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ (۴) زید امام مسجد ہے اور علم دین کا جاننے والا ہے باوجود اس کے ماہ رمضان میں معاوضہ کی غرض سے نماز تراویح کے لئے حفاظ کا مساجد میں تقرر کرتا ہے اس کا یہ فعل جائز ہے یا نا جائز اگر نا جائز ہے تو ایسے شخص کا کیا حکم ہے اور اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ (۵) لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھنا یا پڑھانا جائز ہے یا ناجائز؟ نیز مکبرین کی تکبیرات سن کر ارکان ادا کرنے کا اعلان کر کے لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھا سکتے ہیں یا نہیں اگر مذکورہ دونوں صورتوں میں جواب مثبت ہو تو عام مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جائز ہونا چاہئے اگر جواب مذکورہ دونوں صورتوں میں منفی ہے تو پھر ایسی نمازوں کا کیا حکم ہے جو لاؤڈ اسپیکر کے ساتھ ادا کی گئی اور ایسے شخص کا کیا حکم ہے جو لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھاتا ہو۔ (1) جو شخص یہ کہتا ہو کہ مولویوں سے مجھے نفرت ہے یا اس طرح کے توہین آمیز کلمات علماء وحفاظ کے متعلق دہرا تا رہتا ہے ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟ نیز اسے مسجد کا امام بنانا جائز ہے یا نہیں؟ (۷) زید، عمرو بکر ائمہ مساجد فساق معلنین کو سلام کرتے ہیں اور انکا احترام و اکرام کرتے ہیں مذکورہ بالا اشخاص کا کیا حکم ہے؟ امید ہے کہ حضور جوابات مطمئنہ سے نوازیں گے ۔ عین کرم ہوگا۔ فقط ۔ والسلام محمد علی قاضی ، فاضل اشرفیہ
الجواب: (1) علمائے اہل سنت کی اطاعت بحکم قرآن کریم فرض ہے۔ قال الله تعالى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ - الآية (1) یعنی اے ایمان والو اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور تم میں جو اہل حکم ہیں ان کی اطاعت کرو۔ آیت کریمہ میں اہل حکم سے علماء مراد ہیں کما فی الخازن وغيره من الكتب المعتمدة، اور علمائے اہل سنت کی اطاعت اس نصیحت و خلوص کا ایک شعبہ ہے جس کا حکم سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام نے دیا بلکہ اسے دین فرما کر امور دینی کا مدار اس پر رکھا: حيث قال صلى الله عليه وسلم فيما اورده البخاری و رواه مسلم موصولا مرفوعا الى النبي صلى الله عليه وسلم قال عليه السلام: "الدين النصيحة الله ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم " یعنی دین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے ائمہ اور ان کے عام لوگوں کے لئے نصیحت یعنی خلوص ہے۔ ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں اس کی شرح میں فرمایا: اى قوام الدين وعماده النصيحة (لله ) تعالى بأن يؤمن به و يصفه بماهواهله و يخضع له ظاهرا وباطنا ويرغب في محابه بفعل طاعته ويرغب عن مساخطه بترک معصیته و يجاهد في رد العاصين اليه ( و) النصيحة (لرسوله) عليه الصلاة والسلام بان يصدق رسالته ويؤمن بجميع ما اتى به و یعظمه و ینصره حیا و میتا ویحی سنته بتعلمها و تعليمها ويتخلق باخلاقه ويتأدب بآدابه ويحب اهل بیته و اصحابه واتباعه واحبابه یعنی دین کا قوام اور اس کا ستون نصیحت ہے اللہ تعالیٰ کے لئے بایں طور کہ اللہ پر ایمان رکھے اور اس کے لئے وہ صفات مانے جو اسے شایاں ہیں اور ظاہر و باطن میں اللہ تعالیٰ کے لئے خضوع کرے اور اس کی پسندیدہ باتوں میں رغبت رکھے بایں طور کہ اسکی اطاعت کرے اور اس کی نافرمانی کو چھوڑ کر ان باتوں سے اعراض کرے جو اس کے غضب کی باعث ہیں اور گنہ گاروں کو اللہ کی طاعت میں لگانے کی کوشش کرے اور اس کے رسول علیہ الصلاۃ والسلام کے لئے نصیحت ( خلوص ) یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کرے جو دین آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے اس کی ہر بات پر ایمان رکھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرے اور آپ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری زندگی اور قبر کی زندگی میں کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو تعلیم وتعلم سے زندہ رکھے اور سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کے اخلاق کو اپنائے اور ان کے آداب سے آراستہ ہو اور ان کے اہل بیت و اصحاب اور تابعین واحباب سے محبت رکھے۔ اور اس میں شک نہیں کہ اللہ کا دین پہنچانے والے،اس کے احکام بتانے والے، اس کو کونسی بات پسند اور کوئی نا پسند ہے یہ بتانے والے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر اور نصرت و تعلیم کے ذریعے احیائے سنت کرنے والے اور اخلاق و آداب حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے آراستہ کرنے والے یہی علماء ہیں اسی لئے تو اللہ تعالی نے انکی اطاعت کا حکم فرمایا ہے کہ ان کی اطاعت خداو رسول جل وعلا کی اطاعت ہے اور ان کے ساتھ نصیحت و خلوص اللہ و رسول جل وعلا وصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نصیحت ہے جنکا حدیث میں حکم ہے اور جسے دین فرمایا گیا تو علماء کی اطاعت اور ان کی تعظیم و تکریم اور ان سے محبت مدار دین ہے اور ان سے بغاوت تو بغاوت ، بے وجہ شرعی کسی عالم سے بغض رکھنا اندیشہ کفر اور بے دینی کا سبب ہے۔ ہندیہ میں ہے: من ابغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر ) کاش یہ لوگ تنظیم اطاعت علمائے اہل سنت قائم کرتے ۔ ان کی تنظیم بغاوت علماء سے یقینا دین وسنت سے بغاوت ہے۔ وہ لوگ تو بہ کریں اور تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کریں ورنہ ہرسنی انہیں چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ویڈیو فلم بنانا یا بنوانا فوٹو کھینچنا یا کھنچوانا جاندار کی تصویر کشی کرنے کے جملہ طریقے حرام ہیں حدیث میں ہے: اشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون “(۲) بیشک اللہ کے حکم میں سب سے زیادہ عذاب قیامت کے دن تصویر بنانے والوں پر ہوگا۔ الفتاوى الهنديه كتاب السير الباب التاسع في احكام المرتدين موجبات الكفر انواع، ج ۲، ص ۲۸۲، دار الفکر بيروت صحيح البخاری، کتاب اللباس باب عذاب المصورين يوم القيامة مجلس بركات جان بوجھ کر ایسی محفلوں میں شرکت ممنوع ہے اور ایسے لوگ جو بلاضرورت شرعی فوٹو کھنچواتے ہیں لائق امامت نہیں بلکہ انہیں امام بنانا گناہ ہے اور ان کے پیچھے نماز واجب الاعادہ ہے۔ غنیہ میں ہے: لوقدموا فاسقاياثمون (1) در مختار میں ہے: ،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) غیر محارم رشتہ داروں سے بھی شرعی پردہ ضروری ہے وہ پردہ کریں اور اعضائے واجب الستر ڈھکیں ورنہ وہ گنہ گار ہوں گی ۔ اور مرد پر فرض ہے کہ انہیں غیر محارم سے باز رکھے ورنہ وہ بھی ملزم ہے اور بعد ثبوت الزام و اشتہار فسق اس کی امامت شرعا ممنوع ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نماز تراویح کا معاوضہ طے کرتا ہے یا وقت کی اجرت طے کرتا ہے پہلی صورت متحقق و ثابت ہو تو یہ فعل اس کا ناجائز وگناہ ہے اور اس کی امامت گناہ ورنہ اس پر الزام نہیں کہ وقت کی اجرت طے کرنا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) لاؤڈ اسپیکر کا استعمال نماز میں ناجائز ہے کہ لاؤڈ اسپیکر سے بعض صورتوں میں نماز فاسد ہے اور بعض میں بعض مقتدیوں کی فاسد اور مظنہ فساد نماز تو بہر حال ہے اور مکبر وں کے ہوتے ہوئے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال عبث ہے اور نماز میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ناجائز و گناہ اور مظنہ فساداب بھی قائم ہے بلکہ لاؤڈ اسپیکر پر اعتماد کی صورت میں نماز کا فساد قطعا واقع ہو گا لہذا اس کا استعمال جائز نہیں اور بلا مجبوری اسے مقرر رکھنے والاضرور ملزم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) بے وجہ شرعی کسی عالم سے بغض رکھنا سخت ہولناک ہے جس پر سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے اور اس کا اعلان وہ بھی سارے علماء سے نفرت کی سخت جرات و بے باکی ہے بلکہ اپنی بے دینی کا اعلان ہے دین و ایمان عزیز ہے تو تو بہ کرے اور تجدید ایمان بھی کرے کہ علماء کی اہانت کفر ہے۔ اشباہ میں ہے: الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر (۱) واللہ تعالیٰ اعلم (۷) فساق کو سلام کرنا مکروہ تحریمی ہے اور ان کی تعظیم وتکریم بھی شرعاً نا جائز ہے۔ کمافی الدر المختار: ویکرہ السلام على الفاسق لو معلنا (۲) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله