ذاتی اختلاف در بخش کی وجہ سے کسی سے قطع تعلق کرنا میلاد شریف نہ پڑھنا از قبیل ظلم ہے!
کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ : زید کی نواسی کا نکاح بکر سے ہوا مگر کچھ نا اتفاقی ہو جانے کے سبب لڑکی بکر کے یہاں جانے کو تیار نہ ہوئی زید اور اس کے متعلقین نے اس امر کی کافی کوشش کی کہ بکر اپنی زوجہ کو طلاق دیدے مگر بکر طلاق دینے کو راضی نہ ہوا آخر کار مجبوراً اس لڑکی کے والدین نے اس کا نکاح دوسری جگہ کر دیا جبکہ زید کا کوئی مشورہ نہ تھا بلکہ زید نے اس امر کی کافی کوشش کی کہ طلاق ہو جائے کچھ عرصہ کے بعد زید کا انتقال ہو گیا اور اس کی تجہیز و تدفین کے تمام مصارف و مراسم زید کے دوسرے داماد نے برداشت و ادا کیے جو کہ زید کی کوئی اولاد نرینہ نہ ہونے کی وجہ سے زید کا وارث بنا جب زید کا چالیسواں ہوا تو کچھ مخالفین نے اس کے
الجواب:صورت مسئولہ میں اس شخص سے قطع تعلق کرنا اور میلاد شریف نہ پڑھنا جس کا اس امرنا جائز و ممنوع سے کوئی علاقہ نہیں نہ وہ اس سے کسی طرح راضی ہے اور نہ ان لوگوں سے مراسم دوستانہ رکھتا ہے جو اس امر بد کے مرتکب ہوئے، ظلم ہے جس سے تو بہ ورجوع لا زم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلمصح الجواب واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلهقاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی۱۳ رشوال المکرم ۱۳۹۷ھ