عید میلاد النبی کے جلوس میں نماز کا اہتمام اور بینڈ باجے کی ممانعت
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ (1) اٹاوہ میں عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلوس ۱۲ ؍ ربیع الاول کو عصر کے بعد اٹھتا ہے۔ اور شب میں اار بجے کے بعد ختم ہوتا ہے اس عرصہ میں مغرب وعشاء کی نمازوں کا وقت آتا ہے۔ مگر صرف چند اصحاب نماز کیلئے جلوس سے جدا ہوتے ہیں ۔ جبکہ قصبہ پھپھوند شریف میں صبح ۱۸ بجے روانہ ہو کر ۱۲ بجکر کچھ منٹ پر جلوس واپس ہو جاتا ہے، یعنی قبل ظہر ۔ آپ فرما ئیں کہ صحیح طریقہ کونسا ہے؟ (۲) اٹاوہ کے جلوس میں بینڈ باجہ ( انگزیزی) ہوتا ہے ، بہت لوگ انگریزی لباس میں ہوتے ہیں، اکثر ننگے سر کچھ لوگ عربی لباس میں اونٹوں پر ہوتے ہیں جبکہ اکثر پیدل یہ کہاں تک مناسب ہے؟ (۳) ایسے مقدس جلوس کے مصارف کیلئے ان لوگوں سے چندہ لینا جن کے یہاں اعلانیہ نا جائز کام ہوتے ہیں کہاں تک مناسب ہے۔ المستفتی : ریاض الدین راز اشرفی ، چلو کی نشس اناوه
الجواب: (1) ان لوگوں کو ضروری ہے کہ نمازوں کے اوقات میں جلوس کو موقوف کریں اور سب با جماعت نماز پڑھیں نماز چھوڑ کر وہ لوگ سخت گناہ گار ہوتے ہیں اور بہتر یہ ہے کہ جلوس ایسے وقت نکالا جائے جس میں کسی نماز کا وقت نہ آئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) باجے حرام ہیں جلوس میں باجے شامل کرنا جائز نہیں اور ننگے سر رہنا خلاف سنت ہے اور سخت مذموم عادت ہے۔ خصوصاً جلوس اقدس میں سخت خلاف ادب ہے اور انگریزی لباس کو اس موقع پر بھی ترک نہ کر ناسخت بری بات ہے اور عربی لباس اونٹوں کی سواری میں حرج نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ایسے لوگوں کو شرعاً چھوڑ نالازم ہے تو انکے پاس چندہ کیلئے آنا کب حلال اور اگر ان کے چندہ کا بعینہ مال حرام ہو نا معلوم ہو تو وہ چندہ بھی حرام ہے اگر ایسے لوگ دینی کاموں کیلئے ناجائز رقوم نہیں دیتے ہیں۔ بلکہ قرض لے کر دیتے ہیں۔ لہذا جب تک بعینہ حرام ہونا معلوم نہ ہور قوم نا جائز نہ ٹھہرے گی۔ ہندیہ میں ہے: ” قال محمد و به نا خذ ما لم نعرف شيئاً حراماً بعينه و هو قول ابى حنيفة رحمه الله تعالى واصحابه (۱) اور بچنا بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۳ جمادی الآخره ۱۴۰۴ھ