آیات و احادیث کا ترجمہ اور استغاثہ و نذر وغیرہ کے متعلق سوال
عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم انه لا يستغاث بی و انما یستغاث بالله [طبرانی] عن ابن عمر قال نهى رسول الله صلى الله تعالی علیه وسلم عن النذور وقال لا يرد شيئا ولكنه يستخرج به من مال البخيل [بخاری] عن ابن عباس ان رجلاً قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم ما شاء الله وشئت وقال اجعلتنى لله نداقل ما شاء الله وحده [ابن ماجه، نسائی، مشکوۃ] عن انس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يسأل احدکم ربه حاجته کلها به حتى يسأل الملح حتى يسأله شوسع نعله [ترمذی، مشکوة ] ہم لوگ ایک بار پھر بنارس بلکہ پورے ہندوستان کے علمائے اہل سنت و جماعت کو دعوت دیتے ہیں کہ اس کا ترجمہ وتفسیر بیان کریں اور آیت کریمران الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللهُ مِنَ الْكِتَبِ وَ يَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَبِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَلا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِیمہ کی وعید کے مستحق نہ بنیں۔ ہماری گزارشات کا جواب اشتہار کی صورت میں شائع کر دیں تا کہ عوام بھی روشناس ہو جا ئیں۔ اگر علمائے کرام نے اس کا تسلی بخش ترجمہ و تشریح نہ کیا تو ہم لوگ کثیر تعداد میں مسلک اہل حدیث کو قبول کرلیں گے ۔والسلام نوٹ : اس اشتہار میں قرآن مجید کی آیات اور احادیث ہیں اسلئے ان کا احترام ملحوظ رکھا جائے۔ طالب جواب مستفتیان : (۱) شبیر احمد ولد پیراحمد (۲) مرسلین ولد چھوٹک (۳) محمد سلیم ولد ولی محمد (۴) الیاس ولد صفی اللہ ساکنان سرائے سرجن بجر ڈیہہ وارانسی یوپی
آیات واحادیث کا ترجمہ درج ذیل ہوتا ہے اور ترجمہ سے پہلے مختصر یہ کہہ دینا مناسب کہ معین حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ہم اہل سنت و جماعت کسی نبی یا ولی کو معین حقیقی نہیں مانتے ہاں واسطہ وسیلہ اور عون الہی کا مظہر ضرور جانتے ہیں۔ اور بلا شبہہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جناب رفیع تک ان نفوس قدسیہ کو وسیلہ بنایا ہے اور ہمیں ان سے توسل کا حکم فرمایا ہے۔ قال تعالى: وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ )) اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ وقال تعالى : أُولَبِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ (۲) وہ مقبول بندے جنہیں یہ کا فر پوجتے ہیں وہ آپ اپنے رب کی طرف ڈھونڈتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے۔ اور جو آیات و احادیث درج سوال ہوئیں ان میں سے بعض کا یہ حال ہے کہ وہ اختیار ذاتی کی نفی کرتی ہیں جو ہمیں مضر نہیں ۔ ہم بھی خدا کے سوا کسی کے لیے کوئی صفت ذاتیہ نہیں مانتے اور جو کوئی غیر خدا کے لئے کوئی صفت ذاتی بے عطائے الہی ثابت کرے اسے مشرک جانتے ہیں اور باعطائے الہی انبیا و اولیاء کے لیے تصرف کی قدرت ثابت کرتے ہیں جس میں اصلاً کوئی محذور نہیں بلکہ وہ آیات و احادیث سے ثابت ہے جس کی تفصیل رسالہ برکات الامداد اور رسالہ الامن والعلیٰ ہر دو مصنفہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ و دیگر رسائل اہل سنت میں ہے اور بعض آیات خاص مشرکین کے حق میں وارد ہیں ۔ ہم پر منطبق نہیں یہ غیر مقلدوں اور وہابیہ دیابنہ کا افتراء ہے کہ وہ ہم پر عبادت غیر اللہ کا الزام دھرتے ہیں۔ اب ترجمہ سنیے۔ تم فرماؤ میں تمہارے کسی برے بھلے کا مالک نہیں ۔(۳) لے تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا ذاتی اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے۔(۴) ان دونوں آیتوں میں ذاتی کی نفی کی ہے اور اس کا قائل کوئی نہیں۔ اور استثناء بھی ( مگر جو اللہ چاہے) سے اختیار عطائی ثابت ہے۔ یعنی جتنا اللہ چاہے مجھے اختیار دے تو بحمدہ تعالیٰ یہ آیت ہمارے لئے حجت ہے نہ کہ غیر مقلدوں کے لئے۔ اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرنا میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ (1) اس آیت کو مقام سے مس نہیں کیوں کہ غیر خدا سے کوئی دعا نہیں کرتا۔ بزرگان دین کو وسیلہ بنانا یا ان سے دعا کرنا اور بات ہے اور بزرگان دین سے عرض کرنا حقیقت میں ان سے دعا کی طلب ہے۔ اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والوں کی جب مجھے پکاریں تو انہیں چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں۔ (۲) اور اللہ کے سوا جن کو پوجتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں بناتے اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں۔ مردے ہیں زندہ نہیں ۔ اور انہیں خبر نہیں کہ لوگ کب اٹھائے جائیں گے ۔(۳) یہ آیت کفار اور ان کے بتوں کے بارے میں ہے ۔ وہابیہ کی جہالت ہے کہ اسے عامہ اہل سنت پر ڈھالتے ہیں اور یہ حماقت بالائے حماقت ہے کہ اس آیت کریمہ کو اولیائے کرام کے اوپر ڈھالیں اور اس سے انہیں بتوں کی طرح جماد محض ثابت کریں۔ اس کے رد کے لئے قرآن عظیم کا ارشاد الا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (٢) (سن لو اللہ کے ولیوں پر نہ کوئی خوف ہے نہ انہیں کسی بات کا رنج ) کافی ہے۔ مرنے کے بعد کا فربھی جماد محض نہیں ہوجاتا بلکہ اس کی بھی روح زندہ رہتی ہے اور جسم پر جو عذاب ہوتا ہے اس کا ادراک کرتی ہے تو حیات اولیاء کا منکر ہونا عذاب جسمانی ثواب جسمانی سے منکر ہوکر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھنا ہے۔ وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور اُن کے پیچھے ہے اور شفاعت نہیں کرتے مگر اُس کے لئے مگر جسے وہ پسند فرمائے اور اُس کے خوف سے ڈرتے ہیں۔ (۵) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا یعنی وہ جو توحید کا قائل ہو آیت کریمہ سے فرشتوں کی شفاعت مسلمانوں کے حق میں شفاعت ہے پھر سید الکائنات کی شفاعت کا کیا کہنا وہ سب سے افضل ہیں ۔ اب وہی اپنے ایمان کی خبر لیں کہ اصل شفاعت کے منکر ہیں۔ اور جواُن میں سے کہے کہ میں خدا ہوں اللہ کے سوا تو ہم اسے بدلہ دیں گے جہنم ۔ ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو ۔ اور بولے رحمن نے بیٹا اختیار کیا پاک ہے وہ بلکہ بندے ہیں عزت والے ۔اس سے سبقت نہیں کرتے اور اسی کے حکم پر کار بند ہوتے ہیں وہ جانتا ہے۔ اور اگر تجھے اللہ کوئی برائی پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور وہی ہے حکمت والا خبر دار۔ اس آیت سے بھی ذاتی کی نفی ہوتی ہے اور عطائی کی نفی سمجھنا ضلالت و گمراہی ہے ورنہ قرآن منزل کو شفاء کہنا شرک ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ الآيه اور شہد کے لئے فرماتا ہے : فِيْهِ شِفَاء لِلنَّاسِ‘الآية حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ فرماتے ہیں میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ حضور کے پیچھے سوار تھا اس اثناء میں مجھ سے حضور نے فرمایا کہ اسے لڑکے اللہ کے احکام کو نگاہ رکھ جو تیری حفاظت فرمائے گا اللہ کی حفاظت کر تو اسے اپنے سامنے پائے گا جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر اور جب تو مدد مانگے تو اللہ ہی سے مانگ قلم شدی کو لکھ کر سوکھ گیا اور اگر سب بندے کوشش کریں تجھے ایسا فائدہ پہونچائیں جو اللہ نے تیرے لئے مقدر نہ فرمایا تو اس پر قدرت نہ پائیں ۔ اور اگر وہ نقصان پہونچانا چاہیں جو تیرے مقدر میں نہیں تو نہ کر سکیں تو اگر تو اللہ کیلئے صدق ویقین کے ساتھ عمل کر سکے تو کر اور اگر نہ کر سکے تو صبر کر کہ شدت میں صبر پر ہی کثیر بھلائی ہے اور خبر دار ہو کہ صبر کے ساتھ نصرت ہے اور کر بت کے ساتھ کشور ہے اور دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ اھ لفظ الحدیث یہ حدیث بھی ہمیں مضر نہیں بلکہ اس میں بھی ہمارے لئے بحمدہ تعالیٰ حجت ہے کہ حدیث کے ارشاد:ولو جهدالعباد ان ينفعوك بشئى لم يقضه الله لک۔ الخ کے مفہوم سے صاف ظاہر کہ بعض منفعت ومضرت پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو قدرت دی ہے اور یہ مفہوم بلاشبہ معتبر بلکہ قرآن عظیم میں اس کی تصریح ہے۔ قال تعالیٰ: وَلَوْلَا دَفْعُ اللهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ - الآية () ترجمہ : اگر اللہ تعالیٰ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین تباہ ہو جائے یعنی اللہ تعالیٰ نیکوں کے صدقہ میں دوسروں کی بلائیں بھی دفع فرماتا ہے حضرت ابن عمر بنی اٹھنے سے مروی ہے کہ رسول خداصلی یا تم نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ ایک صالح مسلمان کی برکت سے اس کے پڑوس کے سو گھر والوں کی بلا دفع فرماتا ہے سبحان اللہ نیکوں کا قرب بھی فائدہ پہنچاتا ہے ( خازن ) اور یہ جملے بھی یا در ہیں کہ نصرت صبر کے ساتھ اور کر بت کے ساتھ کشور اور دشواری کے ساتھ آسانی ہے پھر حضرت غوث پاک یہی منہ سے یہ عبارت نقل کر لائے اور ان کا یہ ارشاد کہاں بھلا یا کہ : اذا سئلتم الله حاجة فاسئلوه بی یعنی جب اللہ سے حاجت طلب کرو تو میرے وسیلہ سے اور یہ ارشاد کہاں بھولے: من استغاث بي في كربة كشفت عنه و من نادى باسمى في شدة فرجت عنه و من توسل بي الى الله عز و جل في حاجة قضيت له (۲) یعنی جو مجھ سے کربت میں مدد چاہے اس کی کربت دور ہو اور جو میرا نام کسی سختی میں لے اس کی وہ پختی دور ہو اور جو میرا وسیلہ بارگاہ الہی میں کسی حاجت کیلئے پکڑے وہ حاجت پوری ہو پھر اسی ارشاد میں دورکعت نماز اور گیارہ قدم عراق کی جانب چلنے کی تلقین فرمائی اور اس ارشاد کو علامہ فطلعوفی نے بہجۃ الاسرار اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اخبار الاخیار میں اور دیگر بزرگوں نے دیگر کتب میں نقل فرمایا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے فریاد نہ کی جائے اللہ سے فریاد کی جائے ۔اھ اس حدیث کے راویوں میں ابن لہیعہ متکلم فیہ ہے ۔ اور اس حدیث کا صدر کلام نقل نہ کیا جس سے واضح ہوتا کہ یہ واقعہ عین ہے جس کیلئے عموم نہیں یا عام مخصوص ہے۔ ہم اس حدیث کا وہ فقرہ ذکر کریں جو ترک کیا گیا: وهو هذا قال ابوبكر رضى الله تعالى عنه قوموا نستغيث برسول الله صلى الله عليه وسلم من هذا المنافق فقال رسول الله صلى الله علیه وسلم_الخ یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اٹھو ہم اس منافق کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد چاہیں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ الخ اور خلاصہ بجواب اس حدیث سے یہ ہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے منافقین پر وحی الہی سے احکام مسلمانوں کے جاری فرمائے تھے ۔ شاید حضرت صدیق اکبر نے اس کے قتل کی اجازت چاہنے کیلئے وہ جملہ کہا جس پر یہ ارشاد ہوا کہ اس معلا ملے میں اللہ سے استغاثہ کیا جائے مجھ سے نہ کیا جائے کہ اس معاملہ میں مجھے ابھی ختیار نہ ملا جس کا صریح مفاد یہ ہیکہ اس خصوص میں استغاثہ سے ممانعت فرمائی نہ کہ ہر جگہ عام ممانعت فرمائی اور واقعہ یہی ہے کہ سوال کا ادب یہ ہے کہ جس طرح خدا سے وہی مانگا جائے جو ممکن ہو اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے وہ مانگا جائے جو ان کے اختیار میں باعطائے الہی ہو۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ حدیث حقیقت امر کا بیان کر رہی ہے یعنی اگر چہ مجھ سے استغاثہ کرو لیکن حقیقت میں مستغاث اللہ ہی ہے شفاء السقام امام سبکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں ہے: وو وهذا الحديث في اسناده عبد الله بن لهيعة وفيه كلام مشهور فان صح الحديث محتمل معانی ،، احدها ان النبي صلى الله تعالى عليه وسلم كان قد اجرى على المنافقين احکام المسلمين بامر الله تعالى فلعل ابابكر ومن معه تغاثوابالنبى صلى الله عليه وسلم ليقتله فاجاب بذلك بنهى ان هذا من الاحكام الشرعية التى لم يتنزل الوحى بها وامرها الى الله تعالى وحده والنبى صلى الله تعالى عليه وسلم اعرف الخلق بالله تعالى فلم يكن يسأل ربه تعبير حكم من الاحكام الشريعة - ولا يفعل فيها الاماتو مر به فيكون قوله لا يستغاث بی عاما مخصوصا اى السوال ان يكون المسئول ممكنا فكما انا لا نسأل الله تعالى الا ماهو في ممكن القدرة الالهية كذالك لا نسأل النبي صلى الله تعالى عليه وسلم الامايمكنه ان يجيب الله والثانى ان يكون ذلك من باب قوله ما انا حملكم ولكن الله حملكم اى انا وان استغیث بی فالمستغاث به في الحقيقة هو الله تعالى اور ایسا بہت ہوتا ہے کہ سنت نبویہ علی صاحبھا التحیة الزکیۃ فعل کی نسبت اللہ کی طرف باعتبار خلق وا ایجاد کرتی ہے اور قرآن عظیم اسی فعل کی نسبت بندوں کی طرف یا ان کے اعمال کی طرف بہ اعتبار تسبب و اکتساب کے فرماتا ہے۔ مثال کے طور پر۔۔۔ حدیث میں ہے: لن يدخل احدا منكم الجنة عمله تم میں کسی کو اس کا عمل جنت میں داخل نہ کرے گا اور قرآن فرماتا ہے : ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (٢) جنت میں داخل ہو اپنے نیک اعمال کے بدولت ! اور حدیث میں ہے: لان یھدی الله بک رجلا واحدا ۔ اور قرآن فرماتا ہے : وَجَعَلْتُهُمْ ايمةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا (۳) اور قرآن فرماتا ہے : وَاِنَّكَ لَتَهْدِى إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (٢) اسی شفاء السقام میں ہے وكثيرا ما يحى السنة ينجو هذا من بيان حقيقة الامرويجئ القرآن به وضاقت الفعل الى مكتبه كقوله صلى الله عليه وسلم : لن يدخل احدا منكم الجنة عمله مع قوله تعالى ادخلوا الجنة بما كنتم تعملون الخ ) حضرت ابن عمرضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے منتوں سے منع فرمایا اور فرمایا کہ منت قضائے الہی کو نہیں پھیرتی ہاں اسکے ذریعے بخیل کا کچھ مال نکل جاتا ہے ۔ اھ یہ حدیث اصل نذر سے مانع نہیں بلکہ اس خیال کے ساتھ نذر سے مانع ہے کہ نذر قضائے الہی کو از خود پھیر دیتی ہے تو فی نفسہ یہ خیال ممنوع ہوا اور جو یہ فرمایا کہ اس کے ذریعے بخیل کا کچھ مال نکلتا ہے یه بطور تمثیل فرمایا یعنی یہ شان بخیل کی ہے کہ کسی منفعت کے حصول یا کسی مضرت کے زوال پر نذر کو معلق کرے کہ بخیل بے حظ نفسانی خرچ نہیں کرتا تو اسمیں خالصا لوجہ اللہ نذر کی ترغیب ہے نہ کہ اس سے ممانعت مگر کلمات علماء سے جو دور پڑتے ہیں وہ ایسے ہی گمراہ ہوتے ہیں کہ ایک حدیث کو دیکھ کر دوسری احادیث بلکہ آیات تک سے اندھے ہو جاتے ہیں کیا یہ آیت نہ پڑھی: وَمَا انْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَّذْرٍ فَإِنَّ اللهَ يَعْلَمُهُ ) ترجمہ: جو کچھ تم خرچ کر دیا جو منت مانو تو وہ اللہ کو معلوم ہے۔ اور یہ ارشاد نہ سنا: وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ (۳)۔ اپنی منتوں کو پورا کریں۔ اور یہ فرمان نہ دیکھا: يُوفُونَ بِالنَّذْرِ (۴) منت کو پورا کرتے ہیں۔ اھ اور حدیث پڑھتے پڑھاتے عمر گزری مگر یہ حدیث آنکھوں سے نہ دیکھی؟ عن عائشة ان رسول الله صلى الله تعالی علیه وسلم قال من نذر ان يطاع الله فليطعه و من نذران يعصيه فلا يعصه رواه البخاری (۵) جس نے طاعت خدا کی منت مانی تو وہ اسکی اطاعت کرے اور جس نے نافرمانی کی منت مانی تو وہ خدا کی نافرمانی نہ کرے۔ اور ایک حدیث میں فرمایا : اوف بنذرک)۔ اپنی منت پوری کر بالجملہ نذر شرعی کا ایفا لازم ہے اور اولیاء کے لیے جو نذر ہوتی ہے وہ نذر شرعی نہیں مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ معاذ اللہ وہ شرک ہو جائے بلکہ جائز مستحب ہے جبکہ کسی منکر کی منت نہ مانی ہو اور فتاوی عزیزی ورسالہ نذ ورشاہ رفیع الدین صاحب سے اسکا جواز ثابت ہے۔ سے اسکا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضور علیہ السلام سے عرض کی جو اللہ نے چاہا اور جو آپ نے چاہا تو حضور نے فرمایا کیا تو نے مجھے اللہ کے برابر کر دیا ؟ یوں کہو جو تنہا اللہ نے چاہا۔ یہ حدیث مشکوۃ کی فصل ثانی میں حضرت حذیفہ سے دوسرے الفاظ سے ہے اور وہ الفاظ یہ ہیں : لا تقولوا ماشاء الله وشاء فلان ولكن قولوا ما شاء الله ثم شاء فلان وفي رواية منقطعا: لا تقولوا ما شاء الله وشاء محمد وقولوا ماشاءالله وحده (۲) اور نسائی میں بسند صحیح بطریق مسعر عن معبد بن خالد عن عبد اللہ بن یسار قبلہ بنت صیفی جہنیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ہے : ان يهوديا اتى النبي صلى الله تعالی علیه وسلم فقال انكم تنددون و انكم تشرکون تقولون ما شاء الله وشئت تقولون والكعبة فامرهم النبي صلی اللہ تعالی علیه وسلم اذا ارادوا ان يحلفوا ان يقولواورب الكعبة ويقولون ما شاء الله ثم شئت (۳) یعنی ایک یہودی نے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کی بے شک تم لوگ اللہ کا برابر والا ٹھہراتے ہو ۔ اور بے شک تم لوگ شرک کرتے ہو کہتے ہو کہ جو چاہے اللہ اور چاہو تم اور کعبہ کی قسم کھاتے ہو اس پر سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حکم فرما یا کہ قسم کھانا چاہیں تو یوں کہیں رب کعبہ کی قسم اور کہنے والا یوں کہے: جو چاہے اللہ پھر جو چاہو تم ۔ ابن ماجہ شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ،، اذا حلف احدكم فلا يقل ما شاء الله و شئت و لیکن ليقل ما شاء الله ثم شئت “ یعنی جب تم میں کوئی شخص قسم کھائے تو یوں نہ کہے کہ جو چاہے اللہ اور آپ چاہیں ہاں یوں کہے کہ جو چاہے اللہ پھر آپ چاہیں۔ نیز ابن ماجہ نے یہی مضمون طفیل ابن سنجره برادر مادرام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا اور اسے روایت حذیفہ پر محمول فرما کرنجوہ فرمادیا اور حدیث حذیفہ ابن ماجہ شریف میں کسی قدر طول کے ساتھ یوں آئی: حدثنا هشام بن عمار ثنا سفيان بن عيينة عن عبد الملک بن عمیر عن ربعی بن حراش عن حذيفة بن اليمان رضى الله عنهما ان رجلا من المسلمين رأى في النوم انه لقی رجلا من اهل الكتاب فقال نعم القوم انتم لو لا أنكم تشركون تقولون ما شاء الله وشاء محمد صلى الله تعالى عليه وسلم وذكر ذلك للنبي صلى الله تعالى عليه وسلم فقال أما والله ان كنت لا اعرفها لكم قولوا ما شاء الله ثم شاء محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم “ یعنی اہل اسلام میں سے کسی صاحب کو خواب میں ایک کتابی ملا وہ بولا تم بہت خوب لوگ ہواگر شرک نہ کرتے کہتے ہو جو چاہے اللہ اور جو چاہیں محمدصلی اللہ علیہ وسلم ۔ ان مسلم نے یہ خواب حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کی فرمایا سنو ! خدا کی قسم تمہاری اس بات پر مجھے بھی خیال گزرتا تھا۔ یوں کہا کرو جو چاہے اللہ پھر چاہیں محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔ ہم نے اس جگہ مشکوۃ و نسائی اور ابن ماجہ کی روایتیں درج کر دیں جن سے ظاہر کہ مشکوۃ و نسائی کا حوالہ بالکل غلط ہے اور ابن ماجہ شریف میں خود بروایت سید نا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ” ما شاء الله ثم شئت “ کہنے کی رخصت آئی اور سوال میں جو حدیث سید نا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے درج کی وہ مشکوۃ ونسائی میں نہیں ہے اور ابن ماجہ میں نہ دیکھی لہذا باب اور صفحہ کی نشاندہی کیجائے اور اس سوال والی حدیث کے معارض جو احادیث ہم نے ذکر کیں ان کا کیا جواب ہے؟ غیر مقلدوں اور وہابیوں سے پوچھا جائے ؟ ترجمہ : حضرت انس (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے مروی ہے کہا فرما یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تم میں مانگنے والا اپنی تمام حاجتیں اللہ سے مانگیں یہاں تک کہ اس سے نمک مانگے حتی کہ تسمہ کا سوال اسی سے کرے ۔ اھ یہ حدیث ہمیں کیا مضر اور یہ مشاہدہ ہے کہ وہابیہ اوروں کی طرح اشیاء ضروریہ کا دوسروں سے سوال کرتے ہیں پھر شرک سے کہاں مفر ہے اور زندہ اور مردہ کی تفریق محض بے سود و نا معتبر ہے۔ کیا ان کے طور پر زندوں کیلئے قرآن وحدیث نے سند دی ہے کہ وہ خدا کے شریک ہو سکتے ہیں۔ولا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۱۴ ؍ر رمضان المبارک ۱۳۹۸ھ الجواب صحيح و المجيب نجيح : یہ مختصر جواب بہت مفید ہے اور بنظر انصاف مطالعہ کرنے سے ذریعہ ہدایت ہوگا اور رسائل علماء اہل سنت کا مطالعہ ضرور ہے حضرت شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ نے فرمایا کہ : " انبیائے کرام و اولیائے کرام سے استعانت کے ناجائز ہونے پر کوئی دلیل کتاب وسنت میں نہیں ہے یہ چودہویں صدی کا کمال ہے کہ وہابیوں دیو بندیوں کو ایسی آیات واحادیث مل گئیں کہ جن کا مختصر حال جواب سے گزرا اور ان روایات کو دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ پوری جماعت نے مکاری کرنے کی قسم کھا رکھی ہے باب التوکل کی احادیث کو استعانت کے عدم جواز کی دلیل بتانا سخت حماقت ہے تو کل اور تبتل اور چیز ہے وہاں استعانت دوسروں سے سوال ضرور منع ہے۔ حدیث نمبر ۱، ۲، ۳، اس قبیل سے ہیں اور حدیث نمبر ۵ ، میں شروع کے جملوں کو اسی لئے ہضم کر لیا تا کہ عیاری کا عیب ظاہر نہ ہو یہ حدیث تو اصحاب صفہ کے بارے میں ہے کہ انہوں نے سرکار ابد قرار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ وہ دوسروں سے سوال نہ کریں گے اس سے عوام کے حق میں استعانت کا عدم جواز کہاں سے ثابت ہوتا ہے اور اگر مان بھی لیں تو دیو بند یہ کیلئے سخت آفت ہوگی ۔ واللہ الھادی۔ وھو تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی