غیر حقیقی والد کے نام سے نکاح کے اندراج پر قاضی کا انکار اور اس کے متعلق نزاع
ایک بیوہ عورت کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں، نکاح بھی نہیں کرتا ہے اور اس کو چھوڑتا بھی نہیں ہے، اس کا شوہر مر گیا ہے اس کے دام میں پھنس کر اب اس کے چھوٹے لڑکے کی ولدیت نسیمو خاں لکھاتا ہے حالانکہ اسکول میں اور دیگر کاغذات پر اس لڑکے کی ولدیت عفو خاں لکھا ہے، نسیمو خاں کے جائز حقداروں کا حق تلف ہونے کا اندیشہ ہے، اس لڑکے کی شادی ہونے جارہی ہے ، ولدیت نسیمو خاں کی لکھی جائے گی حقداران مخالفت کر رہے ہیں کہ اصلی والد کا نام لکھایا جائے ورنہ ہم لوگوں کی جائداد کا حقدار غیر حقدار ہو جائے گا، اس معاملہ میں نکاح پڑھانے والے پر زور دونوں طرف سے پڑے گا ایک فریق نسیمو خاں کو سپورٹ کرتا ہے دوسری پارٹی دوسرے فریق کی طرفداری کرتی ہے، اب اگر قاضی بوقت نکاح ولدیت نسیمو خاں لکھتا ہے تو نسیمو کے بھائی داماد عورت کے حق مجروح ہوتے ہیں اور آگے چل کرنسیمو کے حصہ کی جائدا داس لڑکے کو ملتی ہے، مقدمہ بازی بھی ہو سکتی ہے،نسیمو کے بھائی وغیرہ یہ ثابت کریں گے کہ نسیمو کی کوئی اولا دنرینہ نہیں ہے حق لڑکیوں کا اور میرا ہے، لڑکا حق اپنا ثابت کر دیگا ، دیگر کاغذات اور اسکول سے لڑکا عفو خاں کا ثابت ہوگا ، نکاح کے رجسٹر کی رو سے لڑکا نسیمو کا ثابت ہوگا، قاضی جی بھی طلب ہوں گے کا غذات اور اسکول کی بات مستند مانی جائے گی ، قاضی جی پر ۴۲ ر عائد ہوسکتی ہے اور دیگر دوڑ دھوپ پریشانی بھی ، ایک طرف کی مخالفت بھی۔ ایسی حالت میں نکاح پڑھانے والا ایسا نکاح پڑھانے سے انکار کرتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ نکاح نہ پڑھانے پر نسیمو دشمن ہوتا ہے، جس کی دشمنی بھی خطرہ سے خالی نہیں کیونکہ ظالم و خونخوار بھی ہے، جھوٹ الزامات لگا کر پولیس اور عدالت تک نوبت پہونچا سکتا ہے، نکاح پڑھانے والا کہتا ہے جبکہ ایک بات مجھے معلوم ہے کہ لڑکا عفوخاں کا ہے، اسکول گاؤں پنچایت رشتہ دار برادر سب ہی جانتے ہیں کہ لڑکا عفو خاں کا ہے، ظاہر کا حال سب جانتے ہیں باطن کا حال خدا جانے، ایسی حالت میں جان بوجھ کر غلط پر ہم قدم نہیں اُٹھا ئیں گے۔ قاضی جی سے نسیمو کی مخالفت او پر لکھی ہوئی حرکتوں پر ہمیشہ رہی ہے اور اب بھی نسیمو کی صحبت یافتہ لوگ بھی نسیمو ہی کی طرح بد چلن یہاں تک کہ ظالم، ستمگر ، شرابی، زانی ہیں یہ بھی دشمنی رکھتے ہیں نکاح نہ پڑھانے پر دشمنی بے انتہا ہو جائے گی مگر قاضی مولوی کا کہنا ہے دشمنی کی پرواہ نہیں نسیمو خاں اگر فرعون ہے تو میں موسیٰ ہوں، اگر وہ یزید ہے تو میں حسین ہوں، یعنی امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیرو ہوں ، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی یزید کو ٹھکرا دیا، دکھ درد
الجواب:نسیمو خاں کا اصرار غلط و باطل ہے وہ حرام پر اصرار کا مرتکب ہو کر سخت گناہ گار مستحق نار ہے، تو بہ کرے ورنہ ہر واقف حال مسلمان پر فرض ہے کہ اسے چھوڑ دے، قاضی کا اس کے اصرار بے جاسے باز رہنا بجا ہے، مگر یہ کہا کہ وہ فرعون ہے تو میں موسیٰ ہوں ، نبی سے خود کو تشبیہ دینا بہت سخت ہے، اس سے تو بہ کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۶ ؍ ربیع الاول ۱۳۹۹ھ