قرآن، حدیث اور اللہ کی قسم کا انکار کرنے والے کا حکم اور مرتد کی طلاق کا وقوع
زید اپنی بیوی ہندہ سے فعل قبیحہ کی بنیاد پر ناراض ہو گیا۔ ہندہ جو اس کی بیوی ہے فعل قبیحہ کی تہمت سے بری ہونے کے لیے قرآن شریف کی قسم کھانا چاہی مگر زید قسم کا منکر ہوا۔ اب زید کولوگوں نے بواسطه قرآن و قسم وحدیث و اللہ دیا مگر زید نے کہا ” میں قرآن حدیث اللہ کی قسم کو نہیں مانتا اور کچھ نہیں جانتا۔ جب تک کہ میں طلاق نہ دے دوں گا چاہے مجھے کا فرسمجھ لو ۔ لوگوں نے کہا تو بہ کر ۔ اس کے ایک یوم کے بعد زید نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین بار طلاق دے دیا۔ از روئے شرع زید کے یہ کلمات قرآن حدیث اللہ کی قسم کو نہ ماننا کیسا ہے اور زید پر از روئے شرع کیا حکم ہے۔ نیز یہ طلاق بعد تکفیر از روئے شرع واقع ہوئی یا نہیں۔ بینوا توجروا واوضحوا العبارة الآتيةواضحاً شافيا_قد يحرر صاحب فتاوی قاضی خان فى باب الطلاق وكذا لو ارتد الزوج او المرأة العياذ بالله ثم طلقها الوكيل فطلاق الوكيل واقع ما دامت العدة وان لحق بدار الحرب مرتدا
زید کے یہ خط کشیدہ کلمات بے شک کفریہ ہیں۔ زید پر تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان بھی فرض ہے ور نہ ہر واقف حال مسلم پر فرض ہے کہ اس سے قطع تعلق کر لے اور اسے مرتد جانے اور صورت مسئولہ میں زید کی تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں ۔ کہ مرتد کی طلاق عورت کی عدت میں واقع ہو جاتی ہے جب کہ مرتد ہو کروہ دارالحرب میں نہ پہنچ جائے درمختار میں ہے: کل فرقة هي فسخ من کل وجه كاسلام وردة مع لحاق وخيار بلوغ و عتق لا يقع الطلاق في عدتها (1) (1) الدر الختار، کتاب الطلاق ، باب الکنایات، ج ۴، ص ۴۸، ۵۴۹ ، دار الكتب العلمية ، بيروت خانیہ پھر رد المحتار میں زیر قول در مختار وردة مع لحاق “ ہے: اى اذا ارتد ولحق بدار الحرب فطلق امرأته لا يقع وان عاد مسلما فطلقها في العدة يقع (1) نیز ردالمحتار میں ہے: قيد باللحاق اذبدونه يقع لان الحرة غير متأبدة فانها ترتفع بالاسلام (۲) ہندیہ میں ہے: واذا ارتد الزوج ولحق بدار الحرب لم يقع على المرأة طلاقه فان عاد الى دار الاسلام وهي في العدة وقع الطلاق عليها (۳) ان تمام عبارات سے بفضلہ تعالیٰ خوب واضح ہے کہ ارتداد سے فسخ نکاح من کل وجہ اس وقت ہو گا جب کہ زن و شوہر میں سے جو مرتد ہو دار الحرب میں پہنچ جائے تو یہ نسخ مشروط بتباین دارین ہے اور یہی فسخ مشروط بتباین دارین وقوع طلاق سے مانع ہے۔ لہذا عورت اگر معاذ اللہ مرتد ہ ہو کر دار الحرب میں پہنچے پھر مسلمان ہو کر دار الاسلام میں آئے تو شوہر اسے انقضائے حیض سے پہلے طلاق دے تو اس کی طلاق واقع نہ ہوگی۔ خانیہ وہندیہ میں ہے واللفظ اللہندیہ : دو ولو ارتدت المرأة ولحقت بدار الحرب لم يقع طلاق الزوج عليها فان عادت قبل الحيض لا يقع طلاق الزوج عليها عند ابي حنيفة‘ (۴) یہاں سے ظاہر کہ محض ردت مانع وقوع طلاق نہیں بلکہ ردت کے ساتھ لحوق بدارالحرب پایا جانا ضروری ہے جس سے ظاہر کہ اصل سبب فرقته عاجلہ تباین دارین ہے۔ اور وہی وقوع طلاق سے مانع ہے لہذا اگر بعد حصول فرقت بتباین دارین شوہر طلاق دے گا تو عدت طلاق کم نہ ہوگی بلکہ اسے تین طلاق کا (1) ردالمحتار، کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج ۴، ص ۴۴۹، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) ردالمحتار، کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج ۴، ص ۴۴۹، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) الفتاوى الهندية كتاب الطلاق ، فصل في من يقع طلاقه ولا يقع ،طلاقه، ج ۱، ص ۲۲۱ ، دار الفکر بیروت (۴) الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، فصل في من يقع طلاقه ولا يقع طلاقه ، ج ۱، ص ۲۲۱ ، دار الفکر بیروت (وارتداد احدهما فسخ فلا ينقض عددا ) اختیار بدستور رہے گا اسی لیے درمختار میں مطلق فرمایا: رد المحتار میں اسی لحوق بدار الحرب کی قید سے مقید فرما ر تنبیه فرمادی که مسئله مقید به قید مذکور ہے،مطلق نہیں ۔ قلت وهذا اذا لم تلحق بدار الحرب ففى الخانية قبيل الكنايات المرتد اذا لحق بدار الحرب فطلق امرأته لا يقع وان عاد مسلماوهى فى العدة فطلقها يقع والمرتدة اذا طلقها زوجها ثم عادت مسلمة قبل الحيض فعندهما يقع (۲) اور اسی لیے تنویر و در مختار میں جب یہ افادہ فرمایا کہ شوہر وزن جب اگر معا مرتد ہوجائیں العیاذ باللہ اور یہ معلوم نہ ہو کہ کون پہلے مرتد ہوا پھر معا دونوں اسلام لے آئیں تو استحسانا ان کا نکاح باقی رہے گا: وبقى النكاح ان ارتدا معابان لم يعلم السبق فيجعل كالغرق ثم اسلماکذالک (۳) تو ردالمحتار میں یہاں بھی تنبیہ فرمائی کہ یہ مسئلہ مطلق نہیں بلکہ اسی قید لحوق بدار الحرب سے مقید ہے: وهذا قوله(ان ارتدا معا ) المسئلة مقيدة بما اذا لم يلحق احدهما بدارالحرب، فان لحق بانت و كانه استغنى عنه بما قدمه من ان تباين الدارين سبب الفرقة نهر () بالجمله مدار کار وقوع طلاق و عدم وقوع طلاق میں تباین دارین ہے جب تباین دارین پایا جائے گا طلاق واقع نہ ہوگی اور جب تباین دارین معدوم تو طلاقیں ضرور واقع ہوگی اور زید پر اس کی بیوی ایسی حرام کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی لہذا جب تک زید کی بیوی بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کے بعد مشغول جماع ہو کر طلاق لیکر عدت نہ گزار لے زید کو اس سے نکاح حلال نہ ہو گا۔ (۱) هذا ما عندى والعلم بالحق عندربى وما نقلت عن الخانية جلى لاخفاء به الا انه وقع منك هذا سقط في آخر العبارة وهو موكل والعبارة هكذا وان لحق الموكل بدار الحرب مرتدا وهذا القيدان لحوق الزوج بدار الحرب بعد ما وكل رجلا بطلاق امرأته لا يبطل الوكالة مالم يقض القاضى بلحاق الموكل ففى الخانية ملصقا بالعبارة المذكورة وقضى القاضي بلحاقه الخبل يبقى الرجل وكيلا ولهذا لو طلق الوكيل امرأة وكيله وقع عليه الطلاق ولم يمنع الوقوع لحوق الموكل بدار الحرب فاندفع به ما قد يتوهم من التعارض بين ما اسلفنا وبين ما اثرت من الخانية فههنا لم يقع الطلاق من الزوج بعد لحاقه بدار الحرب وانما اوقع طلاق وكيله وهو على وكالته نعم لو طلق الوكيل بعدما ارتداولحق بدارالحرب وقضى القاضي بلحاقه لم يقل طلاقه لانه حينئذ العزل عن الوكالة ففى الخانية نفسهاولو ارتداالوكيل والعياذ بالله كان على الوكالة وان لحق بدار الحرب الا ان يقضى القاضي بلحاقه لان قضاء القاضى باللحاق بمنزلة الموت والله سبحانه تعالى اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله