اللہ کے ساتھ بیٹھ کر عبادت کرنے کا جملہ کہنا اور ایسے امام کی امامت کا شرعی حکم
اللہ کے ساتھ بیٹھ کر عبادت کریں گئے یہ جملہ کیسا ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) ایک عالم دین جو ایک مدرسہ کے صدر مدرس ہیں اور ایک مسجد کے امام بھی ہیں ان کی امامت پر چند شرعی وجہوں سے اکثر مصلیان کو اعتراض و عذر ہے تو کیا ایسے امام صاحب کی امامت جائز ہے۔ (۲) امام صاحب پر یہ کھلا الزام ثابت ہے کہ مدرسہ کے ایک مسلمان چیپر اس کی تنخواہ کا پیسہ بینک سے اپنے بہنوئی کے ذریعہ اٹھاتے رہے ہیں اور چپر اسی کو اس کی تنخواہ سے محروم کیسے ہوئے ہیں۔ (۳) امام صاحب نے ایک دن اپنے جمعہ کے خطبے کے وعظ میں کہا اس ماہ کی نویں ذی الحجہ کو تمام حاجی عرفات میں اللہ کی رحمت کے ساتھ نہیں بلکہ میں اپنی طرف سے اتنا بڑھا دوں کہ اللہ کے ساتھ بیٹھ کر عبادت کریں گے تو کیا ایسا جملہ استعمال کرنے والوں کے پیچھے نماز درست ہے۔اور اس جملہ کے قائل پر شریعت کا کیا حکم ہے۔ (۴) امام صاحب اکثر و بیشتر کسی مدرس کی بحالی پر منتظمہ کمیٹی کے ممبروں کا جعلی دستخط کر کے بورڈ میں
الجواب: المسلاتي : ولی الاسلام قادری مدل اسکول رائے پور پوسٹ رائے پور ضلع سیتا مڑھی بہار دھوکا دینا جھوٹ بولنا اور صاحب حق کا حق مارنا سب کبیرہ گناہ ہے۔ اگر امام مذکور واقعہ ایسا ہے جیسا کہ سوال میں تحریر ہوا تو سخت گنہگار مستوجب نارحق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہے اور بشرط ثبوت استشہار جرائم ہرگز لائق امامت نہیں بلکہ اسے امام بنانا گناہ ہے اور خط کشیدہ جملہ کفریہ ہے۔ جس سے اس پر تو به وتجدید ایمان لازم ہے۔ اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۴ محرم الحرام ۱۴۰۵ھ