رمضان، نماز اور روزہ کی توہین اور کفریہ کلمات بکنے والے کا شرعی حکم اور اس کے جنازہ کا معاملہ
زید پیدائشی مسلمان تھا لیکن دین، نماز روزہ وغیرہ سے دور کا بھی واسطہ نہیں رکھتا بڑھاپے کے زمانے میں جب اس کو نماز وغیرہ کی تلقین کی جاتی تو بگڑ جاتا تھا اور کہتا جاؤ جاؤ تم جنت میں جانا ہم جہنم میں جائیں گے۔ رمضان کے زمانے میں اس ماہ مبارکہ کا احترام بھی نہیں کرتا تھا۔ برسر عام کھانا پینا کرتا تھا اور پان وغیرہ کھاتا تھا۔ ہندو دوستوں سے کہتا کہ تمہار اورت اچھا ہے لوگ ورت کر کے شربت وغیرہ کھا پی سکتے ہیں لیکن ہمارے مذہب کی ورت کو کون سالا پاگل (معاذ اللہ ) رائج کیا ہے کہ اس میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں پیا جا تا۔ اسی واسطے میں یہ ورت ( روزہ) نہیں رکھتا۔ جس کے یہاں کھانے پینے کو نہیں ملتا وہی روزہ رکھے گا۔ جس کے یہاں کھانے پینے کو ہے وہ ورت کرتا ہے، وہ پاگل ہے۔ (1) اب سوال یہ ہے کہ ایسا شخص خارج از اسلام ہوگا یا نہیں اور اس پر شریعت کا کیا حکم ہے۔ (۲) اس کے انتقال پر اکثر نفوس بستی کے اس کے جنازے میں شرکت نہ کیے اسی سبب سے بستی میں بہت چه می گوئیاں ہورہی ہیں اور اس کے عزیز واقارب جن لوگوں نے اس کی تجہیز وتکفین میں شرکت نہیں کی ان کو بہت برا بھلا کہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس کے جنازے میں شرکت نہیں کی کیا گنہ گار ہو گئے ۔ المستفنى : شاہ کبرعلی
الجواب: (۱، ۲) لا الہ الا الہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔ سوال میں درج کلمات شخص مذکور کے سخت کفری بول ہیں جن سے وہ اسلام سے خارج ہو گیا اور بے تو بہ مرا تو کا فرمرا۔ اس کے جنازے کی نماز شرعا باطل محض بلکہ کفر ہے جنہوں نے کفریات پر اطلاع پانے کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھی ان پر تو بہ و تجدید ایمان اور شادی شدہ لوگوں پر تجدید نکاح لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۸ ؍رجب ۱۳۹۹ھ