کلمہ طیبہ پڑھنے سے انکار کرنے والے کا شرعی حکم اور اس کے ایمان کا مسئلہ
جناب مفتی صاحب قبلہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ذیل میں دوسوالات لکھ رہا ہوں شرح حدیث کی روشنی میں جواب سے آگاہ کریں عین نوازش ہوگی ۔ ایک مجلس میں بات ہو رہی تھی وہاں دو شخص ایسے تھے جن کا نام فرض کریں ایک کا نام زید اور دوسرے کا نام بکر تھا۔ زید نے بات کے دوران بکر سے کہا کہ آپ کس عقیدے سے ہیں بکر نے جواب دیا آپ جس عقیدے کے ہیں اس عقیدے کے ہم بھی ہیں زید نے کہا ہم کلمہ لا الہ الا للہ محمد رسول اللہ کو دل سے پڑھتے ہیں اور تو بہ : استغفر اللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ بھی پڑھتے ہیں اور تمام ارکان شریعت پر چلتے ہیں نیاز و میلاد شریف میں قیام کرتے ہیں اور صحیح العقیدہ سنی مسلک کے پیر سے بیعت ہیں بکر نے جواب دیا میں بھی اس عقیدے سے ہوں جس پہ کہ آپ ہیں ۔ زید نے کہا اگر آپ ہمارے عقیدے پہ ہیں تو کلمہ طیبہ اور توبہ استغفر اللہ پڑھئے لیکن بکر نے پڑھنے سے انکار کر دیا اور کہا یہ ہم نہیں کہیں گے زید نے حاضرین مجلس سے کہا کہ بھائیو! آپ لوگ کس عقیدے پہ ہیں اگر میرے عقیدے پر ہیں تو کلمہ طیبہ اور استغفر اللہ پڑھیں۔ سارے لوگ اس بات کو سن کر تین بار مذکورہ بالا کلمہ کو پڑھے اس پر بھی بکر نے نہیں پڑھا اب بکر از روئے شریعت و حدیث کس عقیدے کا مسلمان کہا جائے ۔مفصل جواب سے مطلع فرمائیں۔
الجواب: زید کا کلمہ طیبہ پڑھنے سے انکار کرنا سخت شنیع و قبیح ہے اور خود پر تہمت اوڑھنے کا اقدام ہے جس سے زید پر احتراز لازم تھا۔ زید پر تو بہ فرض ہے اور اگر عیاذ باللہ انکار بروجہ عناد تھا تو قطعی کفر ہے اس صورت میں زید پر تجدید ایمان فرض ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ شب ۵ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۴ھ