خدا اور رسول کی شان میں گستاخی اور کفریہ کلمات بکنے والے کے بارے میں حکم
خد اور رسول کچھ نہیں ، خدا اور سول ٹوٹ سکتا ہے اس کے قاتل کا حکم شرعی ! گذارش یہ ہے کہ ۲۹ / اگست ۱۹۸۳ کو ہم سب لوگ موضع ننگ پور متصل ہمد شریف جمع ہوئے کیوں کہ ۲۷ اگست سے تمام برادری ایک شرعی مسئلہ کے بارے میں تحقیقات کر رہی تھی تو جبار ولد محمد نائک سنگھ پوری پر ثابت ہوا جس پر مفتی غلام محمد صاحب قاضی الاسلام کشمیر نے نکاح ثابت کر دیا تھا بد قسمتی سے بعد تحقیقات جبار نائک کو کفارہ ادا کرنے اور تو بہ کرنے کا فیصلہ دیا گیا جوخود سر پنچ محمد شعبان نے ۲۸ اگست شام کو اعلان کیا لیکن عوام الناس میں محمد شعبان نے بالکل انکار کیا اور کہا ” خدا و رسول کچھ نہیں ہیں اور خدا و رسول ٹوٹ سکتے ہیں لیکن اس فتوے سے نکاح ثانی نہیں ہوسکتا اور ہم ہندوستان میں رہنے والے لوگ ہیں اور خدا و رسول کی توہین کرنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ بلکہ محمد شعبان قرآن پڑھا ہوا آدمی ہے اور قدرے شریعت سے بھی واقف ہے۔ علاقہ کا سر پینچ بھی ہے۔ غیر مسلم لوگوں کے گھروں میں جا کر کھانا پینا اس کا پیشہ ہے تمام علاقے کے مسلمان وحشت میں پڑ گئے کہ خدا رسول کچھ نہیں ہے تو کلمہ طیبہ کیا ہے مسلمان کا ایمان کس چیز پر مکمل ہے۔ لہذا جناب والا سے گذارش ہے کہ اس قسم کے مسلمان کو شریعت کیا تصور کرتی ہے؟ اور اس کے لیے کیا حکم ہے؟ تاکہ آئندہ عام مسلمان، انپڑھ مسلمان اس خیال میں نہ رہ جائیں کہ محمد شعبان پڑھا لکھا آدمی ہے۔ واقعی خدا رسول کچھ نہیں ہے ۔ بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ دنیا کا کوئی عالم خداور سول پر نکاح ثابت نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی کو کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی تو بہ کا کفارہ جانے اور کہا کہ شریعت کی بڑی بڑی کتابیں میرے پاس ہیں اور تفسیر قرآن بھی ہے خدا اور سول کچھ نہیں ہے اگر ایسا ہے تو شاید دنیا اسلام کے نقشہ میں بدل جائے ۔ ہم سادہ لوگ ہیں ہم لوگ خدا اور سول کو ہر چیز پر ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جب خد اور رسول ہیں اور یہی جان کر ہم مسلمان بھی ہیں عرض ہے کہ اس
الجواب:لمستفتی: سیدھی جیلانی بن سید علی جیلانی معرفت ہراج گانه کشتوار پی او کشتوار ۱۸۲۲۰۴ جمو کشمیرخط کشیدہ جملہ کفریہ ہے قائل پر اس سے تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان و تجدید نکاح بھی کرے اور خدا و رسول کا واسطہ بہت عظمت رکھتا ہے اور خدا کی قسم کی بھی بہت عظمت ہے ۔ اور اسے توڑنا گناہ ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ ۱۰ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ